دہشت گردی کی نئی لہر


435057-PB-1453183260-189-640x480

دہشت گردی کی نئی لہر

پاکستان اس وقت دہشت گردی کی ایک نئی لہر کی زد میں ہے جس پر ہر پاکستانی ملک کی سلامتی و مستقبل سے متعلق غمزدہ ،پریشان اور متفکر ہے ۔ پاکستان میں دہشت گردی و انتہا پسندی ایک ناسور بن چکی ہے اور ہر روز مار دھاڑ کی خبروں کو دیکھ دیکھ کر دل آزدہ ہو جاتا ہے. اور نئے سال کے ابتدائی 20 روز میں ملک بھر میں دہشت گردی کے مختلف واقعات میں ساٹھ بےگناہ اور معصوم افراد جاں بحق ہوچکے ہیں۔
ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا

569f28456edfd
گذشتہ روز باچا خان یونیورسٹی ، چار سدہ  میں ہونے والے حملے کے بعد صرف 2 روز میں طالبان کی  دہشت گردی کے باعث ہلاک ہونے والوں کی تعداد 30 ہوگئی ہے، جس میں جمرود خود کش دھماکے میں ہونے والی معصوم اور بے گناہ لوگوں کی ہلاکتیں بھی شامل ہیں۔ دہشت گرد ہمارے تعلیمی اداروں پر حملے کر کے ہماری نوجوان نسل کو ملک کے روشن مستقبل سے مایوس نہیں کرسکتے اور وہ اپنے ناپاک عزائم میں ناکام رہیں گے۔ آج پاکستان باچا خان یونیورسٹی میں خودکشی کے واقعہ کے باعث سوگوار ہے، جس میں کئی قیمتی جانیں ضائع ہو گئیں۔طلبا پر یہ حملہ پاکستان کے مستقبل اور امیدوں پر حملہ ہے اور طالبان پاکستان کو اس قیمتی سرمایہ سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔

BlastinPeshawarkills6_1-19-2016_211564_l
اس سے پہلے گذشتہ روز خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود میں بھی کارخانو بازار کے قریب خودکش دھماکے میں خاصہ دار فورس کے لائن افسر اور صحافی سمیت 12 افراد جاں بحق جب کہ 25 زخمی ہوگئے تھے، 6 گاڑیوں اور دکانوں کو بھی نقصان پہنچا۔ بم ڈسپوزل یونٹ کے مطابق 10 سے 14 کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا، جائے وقوع سے خودکش حملہ آور کا سر اور ٹانگیں ملی ہیں جب کہ مزید شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔
طالبان دہشت گردوں کی جانب سے یہ حملہ انتہائی سفاکانہ و مکارانہ اور وطن کی سالمیت پر حملے کے مترادف ہے۔ بلاشبہ دہشت گردوں کے خلاف ادارے فعال ہیں لیکن اگر اس حملے سے متعلق کوئی پیشگی اطلاعات تھیں تو انٹیلی جنس رپورٹس کیوں شیئر نہیں کی گئیں، اور حملہ آور اپنے ہدف تک کیسے پہنچ گئے۔

بلا شبہ آپریشن ضرب عضب کے ذریعے پاکستان سے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کا خاتمہ کیا جا رہاہے اور آپریشن کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں  مگر دہشت گردی کا مکمل قلع قمع ہونا باقی ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ دہشت گردی میں ملوث کسی تنظیم یا فرد کا دفاع کرنا دہشت گردی کو فروغ دینے جیسا کام ہے۔ اس لیے جو لوگ بھی صحیح معنوں میں انسانیت دشمن کارروائیوں کے مجرم ہیں انہیں عبرت ناک سزائیں دینا ضروری ہے۔ اعداد و شمار اس بات کے گواہ ہیں کہ پاکستان ہی نہیں پوری دنیا میں دہشت گردی کا سب سے زیادہ شکار خود مسلمان ہیں۔

چونکہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا اور یہ سماجی عمل ہے اور کئی وجوہات کی بناء پر اس کا معاشرے کے ساتھ تعلق موجود ہوتا ہے۔ دہشت گردی معاشرے کی کئی خرابیوں کا رد عمل ہوتی ہے۔ کوئی معاشرہ کسی وقت بھی دہشت گردی کی نذر ہوسکتا ہے اور اس کا دنیا بھر میں کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ تاہم اس عمل کو کسی بھی صورت میں کسی مذہب کے ساتھ منسلک نہیں کرنا چاہیے۔ دہشت گردی کو مات دینے کے لیے پاکستانی قوم کی محرومیوں کو دور کرنا اور ان کے جائز اقتصادی مسائل اور دہشت گردی کی بنیادی محرکات کو دور کرنا اور ان کا حل کیا جانا از حد ضروری ہے۔
دہشت گردی کے خلاف اور امن کے حق میں ڈراموں‘ فلموں‘ پمفلٹ‘ پوسٹر‘ مباحثوں کو ترتیب دیا جانا چاہیے۔ پمفلٹ و پوسٹرز شائع کئے جانے چاہیے‘ پاکستانی میڈیا کو بھی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری طرح شریک کیا جانا چاہیے۔
دہشت گردی ایک بہت بڑا ناسور ہے جس کے مقابلے کے لئے امت مسلمہ کو متحد اور منظم ہو کر مشترکہ طور پر اس کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینکنا ہو گا۔ پاکستان دشمن قوتیں وطن عزیز میں امن و امان کو نقصان پہنچا کر بے یقینی کی کیفیت پیدا کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔ نوجوانوں کو دہشت گردوں کے اثرات سے محفوظ کرانا اور انہیں انتہا پسندانہ نظریات کا مبلغ بنانے کی بجائے مفید و کار آمد شہری بنانا ہو گا۔ پاکستان میں موجودہ دہشت گردی کے واقعات نے لوگوں کو بے سکون کردیا ہے ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے وطن عزیز کی سا لمیت کیلئے آپسی بھائی چارے اور مذہبی رواداری کو فروغ دیا جائے۔
معصوم جانوں سے کھیلنے والے انسانوں کے روپ میں بھیڑیئے ہیں اور ان کا وجود پاکستان کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے دہشت گردی کا تسلسل ملک کی سالمیت، قومی یکجہتی اورمعیشت کے لیے بڑا خطرہ ہے، اس پر قابو پانے کیلئے ٹھوس اور موثر لانگ ٹرم و شارٹ ٹرم حکمت عملی وضع کرنا ہو گی تاکہ اس ناسور کا ہمیشہ کے لئے جلد از جلد خاتمہ ہو سکے ۔

Advertisements