شاپنگ مالز پر دہشتگردوں کے حملوں کا خطرہ


news-1453825275-5338_large

شاپنگ مالز پر دہشتگردوں کے حملوں کا خطرہ

تعلیمی اداروں کے بعد شاپنگ مالز پر دہشتگردوں کے ممکنہ حملوں کے خدشہ کے پیش نظر پولیس کو خبردار کر دیا گیا ہے۔ ذرا ئع کے مطا بق دو مشکو ک شخص جن کی عمر یں 30 سے 35سا ل کے قر یب بتا ئی جا تی ہے شہر میں دا خل ہو گئے ہیں اورمعروف شاپنگ سنٹرز کو ٹا ر گٹ کر سکتے ہیں ۔ ذرا ئع کا کہنا ہے کہ دونو ں مشتبہ افرا د کی کی عمر یں 30 سے 35سا لہ کے قر یب بتا ئی جا تی ہیں ان کے چہرے پر لمبی دا ڑھی ہے اور ان کا تعلق کا لعد م تنظیم تحر یک طا لبا ن کے (گیدا ر) گرو پ سے بتا یا جا تا ہے ۔ ذرا ئع کا کہنا ہے کہ مشتبہ افرا د نے 27اور 29 جنو ر ی کو نجی شاپنگ سنٹر کی ر یکی کی ہے جہا ں د ہشت گردی ہو سکتی ہے ۔

imagesھگت

حسا س ادرو ں نے مشتبہ افرا د کی کا ل بھی ٹر یس کی ہیں جو افغا نسان میں کی گئی تھی اور شاپنگ سنٹر کے با رے میں اطلا ع دی گئی ہے کہ نجی شاپنگ سنٹر میں ایک وقت میں 4سوسے زائد افرا د مو جود ہو تے ہیں ۔

صو با ئی دا ر الحکومت میں معروف شاپنگ سنٹرز کی ر یکی کر نے والے2 مشتبہ افرا د کی تصاویر یں حساس ادارو ں نے پو لیس کو فرا ہم کردی ہیں ۔ تفصیلا ت کے مطا بق حساس ادارے کی جا نب سے ممکنہ د ہشت گردی کے پیش نظر لا ہور پو لیس کو 2مشتبہ افراد کی تصاویر بھجوادی ہیں جو لا ہور کے معروف نجی شاپنگ سنٹر کی ر یکی کر چکے ہیں ۔ سی سی پی اولا ہور نے ڈ ویژنل ایس پیز کوان مشتبہ افرا د کی گرفتا ر ی کا ٹا سک سونپ د یا گیا ہے ۔

http://dailypakistan.com.pk/front-page/03-Feb-2016/329344
لاہور میں دہشت گردی کا خطرہ ،پولیس نے ممکنہ دہشت گردوں کی تصاویر جاری کر دیں ۔نجی ٹی وی کے مطابق لاہور پولیس نے شہر میں دہشت گردی کا خطرہ ظاہر کرتے ہوئے ممکنہ دہشت گردوں کی تصاویر جاری کر دی ہیں ،پولیس نے ممکنہ دہشت گردوں کی تصاویر ،مارکیٹوں،سکولز ،کالجز اور یونیورسٹیوں کی سیکیورٹی انتظامیہ کے حوالے کر دی گئیں ہیں ۔پولیس کے مطابق ممکنہ حملہ آوروں کی عمریں 30سے35سال کے درمیان ہیں۔پولیس کے مطابق ممکنہ حملہ آور لاہور کے ایک بڑے شاپنگ مال کی ریکی بھی کر چکے ہیں۔
شاپنگ مالز پر طالبان کے حملوں کی منصوبہ بندی کا ظاہری مقصد پاکستان کو اقتصادی لحاظ سے تباہ کرنا ہے۔
پاکستان کو سب سے بڑا خطرہ دہشت گردی سے ہے، جسسے ملک دشمن،سماج دشمن اور اسلام کے دشمنوں کو کھل کھیلنے کا موقع مل رہا ہے۔ دہشت گردی پاکستان کی ریاست اور معاشرہ کو درپیش خطرات میں سب سے بڑا اور مہیب خطرہ ہےجس نے پاکستان کی بقا اور سلامتی کو چیلنج کیا ہوا ہے۔ دہشت گردی سے پاکستانی معاشرہ کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔ طالبان اور ان سے منسلک جہادی اور کالعدم تنظیموں نے اپنی کارروائیاں تیز کر دی ہیں. طالبان نے پولیس اور دفاعی افواج پر براہ راست حملے کر کے ریاستی رٹ کو چیلنج کیا ہوا ہے جس سے قومی سلامتی کو درپیش خطرات دو چند ہو گئے ہیں۔ان مسائل کی وجہ سے ملکی وسائل کا ایک بڑا حصہدہشت گردی کے خلاف جنگ پر اُٹھ رہا ہے. آج پاکستان دنیا بھر میں دہشت گردی کا مرکز سمجھاجا تا ہے۔
دہشت گردی اور بدامنی کے بدترین اثرات قومی معیشت پر بھی مرتب ہورہے ہیں۔ بیرون ملکی سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے اور اب ملک سے سرمائے کے فرار کا عمل بھي تيز تر ہوگيا ہے۔کاروبار اجڑ گئے۔ بازاروں اور شہروں کی رونقیں ہم سے جدا ہوگئیں۔
دہشت گردی عالمی اور علاقائی امن کو مسلسل خطرہ لاحق ہے، گزشتہ چند سالوں میں پاکستان نے دہشت گردی کے ہاتھوں سخت جانی و مالی نقصانات اٹھائے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہماری کوششوں اور قربانیوں کے بدولت اب ہماری عوام امن و خوشحالی کی طرف گامزن ہیں۔ دہشت گردی کا خاتمہ قریبی علاقائی تعاون سے زیادہ موءثر انداز میں ہو سکے گا۔
عام پاکستانی کا دن کا چین اور رات کا سکون غارت ہوا ،بیروزگاری میں اضافہ ہوا، دنیا میں ہم اور ہمارا ملک رسوا ہوگئے ۔نفرتوں اور تعصبات نے ہمارے معاشرے تار و پود کو تباہ کرکے رکھ دیا اور ہمارا معاشرتی ڈھانچہ تباہ ہوکر رہ گیا۔مسلسل دہشت گردی سے پاکستان کمزور ہوتا جارہا ہے. ہماری مسجد، پگڑی اور داڑھی کا تقدس پامال ہوگیااور پاکستان سے محبت رکھنے والا ہر دل ، پاکستان اور مسلمانوں کی سلامتی سے متعلق غمزدہ ،پریشان اور متفکر ہے ، اور ہم پھر بھی خاموش ہیں؟ آخر کیوں؟
پاکستانی طالبان کو سمجھنا چاہیے کہ بم دہماکے اور خودکش حملے غیرشرعی اور حرام فعل ہیں۔ بے گناہ و معصومطلبا وطالبات، عورتوں، بوڑھوں، ، جنازوں، ہسپتالوں، مزاروں، مسجدوں اور مارکیٹوں پر حملے اسلامی شریعہ کے منافی ہیں. علمائے اسلام ایسے جہاد اور اسلام کو’’ فساد فی الارض ‘‘اور دہشت گردی قرار دیتے ہیں کیونکہ ایسا جہاد فی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ ہے۔ قرآن مجید، مخالف مذاہب اور عقائدکے ماننے والوں کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے کا نہیں بلکہ ’ لکم دینکم ولی دین‘ اور ’ لااکراہ فی الدین‘ کادرس دیتاہے. ﷲ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک مومن کے جسم و جان اور عزت و آبرو کی اَہمیت کعبۃ اﷲ سے بھی زیادہ ہے۔ ’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنھما سے مروی ہے کہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور یہ فرماتے سنا: (اے کعبہ!) تو کتنا عمدہ ہے اور تیری خوشبو کتنی پیاری ہے، تو کتنا عظیم المرتبت ہے اور تیری حرمت کتنی زیادہ ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! مومن کے جان و مال کی حرمت اﷲ کے نزدیک تیری حرمت سے زیادہ ہے اور ہمیں مومن کے بارے میں نیک گمان ہی رکھنا چاہئے۔‘‘ رسول اکرم کی ایک اور حدیث میں کہا گیا ہے کہ ”مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔

کیا طالبان ان احادیث کی رو شنی میں مسلمان کہلانے کے حقدار ہیں؟

کیا طالبان انسانیت کے معیار پر پورے اترتے ہیں اور انسان کہلانے کے حقدار ہیں؟

طالبان پاکستان میں کونسا اسلامی نظام نافذ کر نا چاہتے ہیں؟

دہشت گردی پاکستانی ریاست اور معاشرہ کے لئے بہت بڑا خطرہ ہےاگر دہشت گردی کی روک تھام نہ کی گئی تو پاکستان ایک غیر موثرمعاشرہ و ریاست بن کر رہ جائے گا اور پاکستانی ریاست و معاشرہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جائے گا اور اس سے ملکی وحدت کو شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں؟ لہذا ہر پاکستانی کو اپنی اپنی جگہ پر دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لئے متحد ہونا ہو گا۔
ہمیں روم کے نیرو کی طرح، بنسری بجاتے ہوئے پاکستان کو جلتا اور تباہ ہوتا نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ متحد ہوکر اور آ گے بڑہ کر اسلام اور پاکستان کے دشمنوں کا مقابلہ کرنا چاہیے۔

Advertisements