افغان طالبان نے 10 سالہ بچے کو بے دردی سے قتل کردیا


56b2fa9cd6d78

افغان طالبان نے 10 سالہ بچے کو بے دردی سے قتل کردیا

دس سالہ طالبعلم واصل احمد کو اسکول جاتے ہوئے افغان دہشت گردوں نے نشانہ بنایا اور اس کے سر میں دو گولیاں ماریں ۔چھوٹی سی عمر میں افغان طالبان سے ڈٹ کر مقابلہ کرنے والے دس سالہ افغان بچے کو دہشت گردوں نےگولیاں مار کر قتل کردیا، افغان حکام کی جانب سے اس بچے کو ہیرو قرار دیا گیا تھا۔ طالبان نے مدرسہ جاتے ہوئے دس سالہ افغان بچے کو سفاکانہ طور پر شہید کردیا۔

wasil-ahmad
دس سالہ واصل احمد کو اسکول جاتے ہوئے دہشت گردوں نے نشانہ بنایا اور اس کے سر میں دو گولیاں ماریں، واصل احمد طالبان کے خلاف جنگ میں کئی موقعوں پر اپنے چچا کے ساتھ موجود رہا، بچے کی بہادری کے قصے ہر جگہ مشہور ہوئے ۔طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔

taliban-462967534
ڈپٹی پولیس چیف رحیم اللہ خان کے حوالے سے بتایا کہ واصل احمد کو جنوبی صوبے ارزگان کے دارالحکومت ترین کوٹ میں ہلاک کیا گیا.واصل نے اپنے ایک انکل کے ساتھ متعدد مواقع پر طالبان سے لڑائی میں حصہ لیا تھا. 10 سالہ واصل مقامی سلیبرٹی کی حیثیت سے جانا جاتا تھا اور سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اُس کی بے شمار تصاویر میں اسے یونیفارم اور ہیلمٹ پہنے ایک آٹومیٹک ہتھیار پکڑے دیکھا جاسکتا ہے ۔.
ڈپٹی پولیس چیف رحیم اللہ کے مطابق واصل کے انکل ایک سابق طالبان کمانڈر تھے، جنھوں نے بعد میں حکومت سے وفاداری اختیار کرلی اور انھیں ضلع خاص ارزگان میں مقامی پولیس کمانڈر کی حیثیت سے تعینات کیا گیا۔

2015-12-23T00-05-58-133Z--1280x720.nbcnews-video-reststate-560
دہشتگرد تنظیمیں جہالت اور گمراہی کےر استہ پر ہیں۔جہاد کے نام پر بے گناہوں کا خون بہانے والے دہشتگرد ہیں۔یہ دہشتگرد اسلام کو بدنام اور امت مسلمہ کو کمزور کر رہے ہیں۔ اسلام ایک بے گناہ کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل سے تعبیر کرتا ہے۔ اسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے اور امن کے مقاصد کو آگے بڑہاتا ہے۔طالبان دہشتگردوں کو یہ علم ہونا چاہئیے کہ معصوم اور بیگناہ مردوں، عورتوں اور بچوں کےناحق قتل کی اسلام میں ممانعت ہے۔

مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھوں سے دوسرے مسلمانوں کو گزند نہ پہنچے۔ اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے اور دہشتگرد اسلا م اور افغانستان اور امن کے دشمن ہیں ، ان کی اختراع وسوچ اسلام و افغانستان مخالف ہے ۔اسلام کا پیغام امن ،محبت، بھائی چارگی اور احترام انسانیت ہے۔ طالبان دہشتگرد پافغانستان کو نقصان پہنچا کر ملک میں عدم استحکام پیدا کرناچاہتے ہیں۔
نبی اکرم ﷺ نے جنگ کے دوران کفار کے چھوٹے بچوں اور عورتوں کو بھی قتل کرنے سے منع کیا ہے۔جہاد اسلام کی کوہان اور ایک عظیم عمل ہے جو ہمیشہ ظلم و دہشت گردی کے خاتمہ اور دنیا میں امن و امان کے قیام کیلئے ہوتا ہے۔معصوم بچوں کا قتل جہاد نہیں فساد ہے اور اسلام کے اس عظیم عمل کو بدنام کرنے کی خوفناک سازش ہے۔

اسلام وہ عظیم مذہب جوجنگ کے دوران کفار کے بچوں و عورتوں کے قتل اور پھل دار درختوں کا نقصان کرنے سے منع کرتا ہے۔ معصوم نونہالوں کا قتل کرنیوالے مسلمان کہلوانے کے حقدار بھی نہیں ہیں۔ بالفرض بعض گمراہ لوگ بچوں کی قتل و غارت گری کو درست سمجھتے ہیں۔
ہمارا مذہب اسلام امن کا درس دیتا ہے، نفرت اور دہشت کا نہیں۔خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے.اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے. طالبان دورحاضر کے خوارج ہیں جو مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار دیتے ہیں۔ معصوم اور بے گناہ لوگوں ، عورتوں اور بچوں کا قتل اسلام میں ممنوع ہے۔عورتوں اور بچوں کا قتل اسلامی تعلیمات کے مطابق حالت جنگ میں بھی جائز نہ ہے۔

بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں دہشت گردوں کا بچوں کو وحشیانہ طریقے سے قتل کرنا ،ایک بہت بڑی مجرمانہ اور دہشت گردانہ کاروائی ہے اور یہ افغان بچوں کے ساتھ ظلم ہے اور افغانستان کی آیندہ نسلوں کے ساتھ بھی زیادتی ہے، افغانستان کی ترقی کے ساتھ دشمنی ہے افغان عوام دہشت گردوں کو اس مجرمانہ کاروائی پر انہیں کبھی معاف نہ کریں گے. دنیا کا کوئی مذہب بشمول اسلام حالت جنگ میں بھی خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دیتا، طالبان نے معصوم بچے کو نشانہ بنایا ہے، یہ کہاں کی بہادری ہے اور کیسا جہاد ہے؟
دورانِ جنگ غیر مسلم خواتین کے علاوہ غیر مسلموں کے بچوں کے قتل کی ممانعت بھی اسلام کے سنہری اور انسان دوست ضابطوں میں سے ایک ہے۔ حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصولِ جنگ بھی دیکھیں اور جہاد کے نام پر کلمہ گو دہشت گردوں کی چیرہ دستیاں بھی۔ کاش ان لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان فرامین کا تھوڑا سا بھی حیاء ہوتا

امام مسلم اپنی صحیح میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ایک خط کا ذکر کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے تحریر فرمایا :
وَإِنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم لَمْ يَکُنْ يَقْتُلُ الصِّبْيَانَ، فَلَا تَقْتُلِ الصِّبْيَانَ.
مسلم، الصحيح، کتاب الجهاد والسير، باب النساء الغازيات يرضخ لهن ولا يسهم والنهی عن قتل صبيان أهل الحرب، 3 : 1444، رقم : 1812
’’بے شک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (یعنی عہد نبوی کی مسلم فوج) دشمنوں کے بچوں کو قتل نہیں کرتے تھے، سو تم بھی بچوں کو قتل نہ کرنا۔‘‘
۔ اس سلسلے میں دوسری روایت ملاحظہ کریں جس میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بڑے سخت کلمات کے ذریعے صحابہ رضی اللہ عنہم کو غیر مسلموں کے بچے قتل کرنے سے منع فرمایا اور ان کلمات کو بار بار تاکیداً دہرایا۔ حضرت اسود بن سریع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
کُنَّا فِي غَزَاةٍ فَأَصَبْنَا ظَفَرًا وَقَتَلْنَا مِنَ الْمُشْرِکِيْنَ، حَتَّی بَلَغَ بِهِمُ الْقَتْلُ إِلَی أَنْ قَتَلُوا الذُّرِّيَةَ، فَبَلَغَ ذَالِکَ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم، فَقَالَ : مَا بَالُ أَقْوَامٍ بَلَغَ بِهِمُ الْقَتْلُ إِلَی أَنْ قَتَلُوا الذُّرِّيَةَ؟ أَ لَا! لَا تَقْتُلُنَّ ذُرِّيَةً. أَ لَا! لَا تَقْتُلُنَّ ذُرِّيَةً. قِيْلَ : لِمَ يَا رَسُوْلَ اﷲِ، أَلَيْسَ هُمْ أَوْلَادُ الْمُشْرِکِيْنَ؟ قَالَ : أَوَلَيْسَ خِيَارُکُمْ أَوْلَادَ الْمُشْرِکِيْنَ؟
نسائي، السنن الکبریٰٰ، کتاب السير، باب النهي عن قتل ذراري المشرکين، 5 : 184، رقم : 8616
2. دارمي، السنن، کتاب السير، باب النهي عن قتل النساء والصبيان، 2 : 294، رقم : 2463
3. حاکم، المستدرک، 2 : 133، 134، رقم : 2566، 2567
4. طبراني، المعجم الکبير، 1 : 284، رقم : 829
’’ہم ایک غزوہ میں شریک تھے (ہم لڑتے رہے یہاں تک) کہ ہمیں غلبہ حاصل ہو گیا اور ہم نے مشرکوں سے قتال کیا اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ لوگوں نے بعض بچوں کو بھی قتل کر ڈالا۔ یہ بات حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے جن کے قتل کی نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ انہوں نے بچوں تک کو قتل کر ڈالا؟ خبردار! بچوں کو ہرگز قتل نہ کرو، خبردار! بچوں کو ہرگز قتل نہ کرو۔ عرض کیا گیا : یا رسول اللہ! کیوں، کیا وہ مشرکوں کے بچے نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تمہارے بہترین لوگ بھی مشرکوں کے بچے نہیں تھے؟‘‘
ایک روایت میں ہے کہ کسی نے عرض کیا : یا رسول اﷲ! وہ مشرکین کے بچے تھے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
خِيَارُکُمْ أَبْنَاءُ الْمُشْرِکِيْنَ. أَلَا! لَا تُقْتَلُ الذُّرِّيَة.
1. أحمد بن حنبل، المسند، 3 : 435، رقم : 15626، 15627
2. بيهقی، السنن الکبری، 9 : 77، رقم : 17868
’’تم میں سے بہترین لوگ بھی تو مشرکین ہی کے بچے تھے (یعنی اُن کے والدین بھی مشرک تھے)۔ خبردار! بچوں کو جنگ کے دوران بھی قتل نہ کیا جائے۔‘‘
اسلام میں عورتوں اور بچوں کے قتل کی حالت جنگ میں بھی ممانعت ہے۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی اﷲ عنهما قَالَ: وُجِدَتِ امْرَاة مَقْتُولَة فِي بَعْضِ مَغَازِي رَسُولِ اﷲِ فَنهَی رَسُولُ اﷲِ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْیَانِ۔
حضرت عبد اﷲ ابن عمر رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی غزوہ میں ایک عورت کو دیکھا جسے قتل کردیا گیا تھا۔ اس پر آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت فرمادی۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک لشکر کو جو ملکِ شام ایک مہم کے لیے روانہ ہوا تھا،انھیں اس قسم کی ہدایات دی تھیں کہ وہ بچوں کو قتل نہ کریں ، کسی عورت پر ہاتھ نہ اٹھائیں، کسی ضعیف بوڑھے کو نہ ماریں ، کوئی پھلدار درخت نہ کاٹیں، کسی باغ کو نہ جلائیں ( موٴطامالک : ۱۶۸)
طالبان دہشتگرد جو خوارج ہیں عورتوں اور بچوں کے قتل سے بھی باز نہ آتے ہیں۔ بچوں کا قتل ملا عمر کے حکم کی خلاف ورزی بھی ہے جس میں انہوں نے طالبان کو بچوں کے قتل سے منع کیا تھا۔

طالبان اسلامی احکام کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیا خاک اسلام نافذ کریں گے۔ان کا یہ دعوی مشکوک و ناقابل اعتبار ہے۔

Advertisements