کوئٹہ میں خودکش حملہ, طالبان نے ذمہ داری قبول کر لی


news-1454758631-7639_large

کوئٹہ میں خودکش حملہ, طالبان نے ذمہ داری قبول کر لی

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں واقع ضلع کچہری کے قریب خودکش بم دھماکے کے نتیجے میں کم ازکم دس افراد ہلاک اور 40 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔سرکاری حکام کے مطابق ’دھماکہ اس وقت ہوا جب ایف سی کی ایک گاڑی ضلع کچہری کے سامنے سے گزر رہی تھی۔‘حکام کا کہنا ہے کہ حملے میں فوسرز کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ دھماکے کے نتیجے میں تین ایف سی اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ 15 زخمی ہیں۔دھماکے کے نتیجے میں راہ گیر بھی ہلاک ہوئے جن میں ایک خاتون بھی شامل ہیں۔

libya-blast
ڈی آئی جی آپریشنز سید امتیاز شاہ نے میڈیا سے گفتگو میں بتایا کہ خودکش بم دھماکے میں 10 سے 15 کلو دھماکہ خیز مواد استعمال ہوا۔

56b614b657698
ڈی آئی جی کے مطابق حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریکِ طالبان خراسانی گروپ نے قبول کی ہے۔
زخمیوں کو سول ہسپتال کوئٹہ میں منتقل کیا گیا ہے جبکہ شدید زخمیوں کو سی ایم ایچ کوئٹہ میں طبی امداد دی جا رہی ہے۔

p
بلوچستان حکومت کے ترجمان انور کاکڑ کے مطابق حملہ خودکش تھا جس میں سکیورٹی فورسز اور فرنٹیئر کور کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔
انھوں نے بتایا کہ ’خودکش حملہ آور سائیکل پر سوار تھا۔

160206124431_quetta_blast_640x360_afp_nocredit
خیال رہے کہ ضلع کچہری کے نواح میں کوئٹہ پریس کلب اور مختلف سرکاری دفاتر موجود ہیں۔

160206144234_quetta_blast_640x360_afp_nocredit
ادھر پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف نے کوئٹہ میں دہشت گردی کی کارروائی کی مذمت کی ہے اور انتظامیہ سے کہا ہے کہ وہ زخمیوں کو بہترین طبی امداد فراہم کریں۔
http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/02/160206_quetta_blast_hk?#_=_

447178-QuettaWeb-1454909417-827-640x480

صدرممنون حسین، وزیراعظم نوازشریف، گورنر، وزیراعلیٰ بلوچستان، وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف، عمران خان، آصف علی زرداری، بلاول بھٹو زرداری، سراج الحق، طاہر القادری، جسٹس (ر) افتخار محمد چودھری کی جانب سے واقعہ کی مذمت اور متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار کیا گیا ہے۔

وزیراعلیٰ بلوچستان ثناء اللہ زہری نے کہا ہے بے گناہوں کا خون بہانے والے دہشت گردوں کو جلد ان کے انجام تک پہنچائیں گے۔ آئی جی بلوچستان نے کہا ہے دھماکہ خودکش معلوم ہوتا ہے۔ جس علاقے میں دھماکہ ہوا وہاں مارکیٹ اور ہسپتال ہے اس لئے علاقے کو سیل نہیں کیا جا سکتا۔ جاں بحق افراد میں 3 سکیورٹی اہلکار ہیں۔ آئی جی ایف سی میجر جنرل شیر افگن نے دھماکے کی جگہ کا دورہ کیا۔ آئی جی ایف سی نے کہا کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ دہشت گرد معصوم شہریوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ دہشت گرد کمزور اور پسپا ہو چکے ہیں اب سافٹ ٹارگٹ کو نشانہ بنائیں گے۔ عوام کے تعاون سے بلوچستان میں امن بحال کریں گے۔ دہشت گرد سامنے آکر مقابلہ نہیں کر سکتے۔ دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث شدت پسندوں کا خاتمہ کریں گے۔ دہشت گردوں کیخلاف کارروائی میں مزید تیزی لائی جائیگی۔ امن کی فضا کو یقینی بنانے کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان نے شہدا کے لواحقین اور زخمیوں کیلئے امداد کا اعلان کیا ہے۔

دہشتگردی، بم دہماکوں اور خودکش حملوں کی اسلامی شریعہ میں اجازت نہ ہے کیونکہ یہ چیزیں تفرقہ پھیلاتی ہیں۔ جہاد وقتال فتنہ ختم کرنے کیلئے ہے ناکہ مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے کیلئے۔ طالبان دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں اور ملک میں دہشتگردی پھیلا رہے ہیں۔ طالبان قرآن کی زبان میں مسلسل فساد فی الارض کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ دہشتگرد ایک رستا ہوا ناسور ہیں اورپاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اس ناسور کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔ اسلامی ریاست کیخلاف مسلح جدوجہد حرام ہے۔معصوم شہری ، بے گناہ اور جنگ میں ملوث نہ ہونے والے تمام افراد ، نیز عورتیں اور بچوں کے خلاف حملہ "دہشت گردی ہے جہاد نہیں۔عورتوں اور بچوں کا قتل حالت جنگ میں بھی منع ہے۔ اسلام میں کسی بھی انسان کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا گیا ہے۔ حدیث رسول کریم ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھوں سے دوسرے مسلمانوں کو گزند نہ پہنچے۔ اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے اور دہشتگرد اسلا م اور امن کے دشمن ہیں۔ دہشتگرد تنظیمیں جہالت اور گمراہی کےر استہ پر ہیں۔جہاد کے نام پر بے گناہوں کا خون بہانے والے دہشتگرد ہیں۔یہ دہشتگرد اسلام کو بدنام اور امت مسلمہ کو کمزور کر رہے ہیں۔
دہشت گرد گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔ نیز دہشت گرد قومی وحدت کیلیے سب سے بڑاخطرہ ہیں۔ انتہا پسند و دہشت گرد پاکستان کا امن تباہ کرنے اور اپنا ملک تباہ کرنے اور اپنے لوگوں کو مارنے پر تلے ہوئے ہیں ۔

Advertisements