خواتین وزن کم کرنے کیلئے اخروٹ کھائیں


news-1402593934-1361

خواتین وزن کم کرنے کیلئے اخروٹ کھائیں

زمانہ قدیم سے اخروٹ کو ذائقے اور جسمانی فوائد کے حوالے سے ایک خاص اہمیت حاصل ہے۔اخروٹ کے حوالے سے کیے جانے والے کئی مطالعوں میں اخروٹ کو وزن کم کرنے کے لیے اہم بتایا گیا ہے۔اخروٹ کی فائدہ مند طبی خصوصیات کے حوالے سے ماہرین دماغ سے ملتی جلتی شکل کے اس خشک میوے کو تمام گری دار میووں کا ‘بادشاہ قرار دیتے ہیں۔پروٹین سے بھرپور قدرت کا عطا کردہ موسم سرما کا بہترین تحفہ ہے۔ یہ وزن کم کرنے میں نہایت اہم کردار ادا کرتا ہے۔

bhu

mge

nju
اخروٹ کے طبی فوائد کے حوالے سے کی جانے والی ایک نئی تحقیق میں امریکی سائنس دانوں نے وزن کم کرنے کی خواہش مند خواتین کو دن بھر میں مٹھی بھر اخروٹ کھانے کے لیے کہا ہے۔نئی تحقیق یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کی طرف سے منعقد کی گئی جس میں تحقیق کاروں نے کہا کہ اگرچہ اخروٹ میں چکنائی اور کیلوریز کی اعلیٰ مقدار ہے لیکن اس کے باوجود اخروٹ اور زیتون کے تیل پر مشتمل ڈائٹ وزن کم کرنے کے لیے کم چکنائی والی غذا جتنی ہی فائدہ مند ہے۔

mhr

سان ڈیاگو اسکول آف میڈیسن کے شعبے سے منسلک تحقیق کی مصنفہ ڈاکٹر شیرل راک نے کہا کہ اخروٹ زیادہ بہتر طریقے سے وزن میں کمی لاتا ہے جیسا کہ یہ پولی ان سچوریٹیڈ فیٹ (نباتاتی تیل) سے بھرا ہوا ہے جو دل کی صحت اور کولیسٹرول کی سطح کو کم رکھنے کے لیے فائدہ مند ہے۔

index
محققین نے اس مطالعے کے نتائج پر غور کیا اور اس کے ساتھ اخروٹ کے حوالے سے کیے جانے والے پچھلے تحقیقی جائزوں کا تجزیہ بھی کیا جس میں سائنس دانوں نے مٹھی بھر اخروٹ یا (سات اخروٹ ) کھانے کے فوائد بتائے تھے۔مشاہدے کے لیے محققین نے 245فربہ خواتین کو ایک سال کے وزن کم کرنے کے پروگرام میں بھرتی کیا جن کی عمریں 22 سے 72 برس کے درمیان تھیں۔

WomenUseWallNutsForWeightLoosa_2-11-2016_214762_l
شرکاء کو بعد میں تین مختلف گروپ میں تقسیم کیا گیا اور انھیں تین مختلف اقسام کی غذائیں کھانے کے لیے دی گئیں۔
ایک گروپ کو کم چربی کے ساتھ اعلیٰ کاربو ہائیڈریٹ پر مشتمل ڈائیٹ پر رکھا گیا جبکہ دوسرے گروپ کے لیے کم کاربو ہائیڈریٹ اور زیادہ چکنائی والی ڈائیٹ مقرر کی گئی اس کے علاوہ تیسرے گروپ کی خواتین کو اخروٹ سے بھر پور ڈائیٹ کے ساتھ زیادہ چکنائی اور کم کاربو ہائیڈریٹ پر مشتمل غذا کھانے کے لیے دی گئیں۔
جنھیں اخروٹ کی ڈائیٹ پر رکھا گیا تھا انھیں دن بھر میں تقریباً 43 گرام یا پانچ اعشاریہ ایک اونس اخروٹ یعنی دن بھر میں ڈیڑھ مٹھی اخروٹ کھانے کی تاکید کی گئی تھی۔
چھ ماہ مکمل ہونے پر تمام گروپ کی خواتین نے ابتدائی وزن کا اوسطاً 8 فیصد وزن کم کیا تھا جبکہ اخروٹ سے بھر پور غذا کھانے والی خواتین نے بھی اتنا ہی وزن کم کیا جتنا کہ دوسرے گروپ کی خواتین نے کیا تھا۔
محقق ڈاکٹر شیرل راک نے کہا کہ یہاں تعجب کی بات یہ تھی کہ دوسری خواتین کے مقابلے میں اخروٹ کی ڈائیٹ پر عمل کرنے والی خواتین کے کولیسٹرول کی سطح میں بہتری آئی تھی۔
خاص طور پر ان میں برا کولیسٹرول ایل ڈی ایل کی سطح گری تھی اور اچھے کولیسٹرول کی سطح میں اضافہ ہوا تھا۔
یہ تحقیق ‘جرنل آف امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی 2016ء کے اشاعت کا حصہ ہے، جس میں محققین نے کہا کہ ان نتائج کی کلید یہ تھی کہ اخروٹ سے بھرپور ڈائیٹ زیادہ پولی ان سچیوریٹڈ چربی فراہم کرتی ہے۔
اخروٹ واحد خشک میوہ ہے جس میں بنیادی طور پر پولی ان سچوریٹیڈ فیٹ اور الفا لینولینک ایسڈ (اے ایل اے) کی قابل ذکر مقدار شامل ہے۔
اے ایل اے دراصل اومیگا فیٹی ایسڈ کی ایک نباتاتی نژاد شکل ہے، جو کہ جسم کے صحت مند افعال کے لیے بے حد ضروری ہے۔
بقول محقق شیرل راک کیونکہ ہمارا جسم اومیگا تھری نہیں بناتا ہے اور اسے مکمل طور پر غذاؤں سے حاصل کیا جاتا ہے، جس کا مطلب یہ ہے کہ بہت سے لوگوں میں اومیگا تھری فیٹ کی کمی ہوتی ہے۔
اخروٹ دماغی کمزوری میں بہت مفید ہے ۔ گرم مزاج والوں کیلئے نقصان دہ ہے ۔ زیادہ استعمال سے منہ میں دانے بھی نکل آتے ہیں ۔ اس میں ایسے اجزاء ہوتے ہیں جن سے نیند بہت اچھی آتی ہے ۔ دل کی رفتار کو اعتدال میں رکھتا ہے ۔ کینسر کے مرض میں بھی مفید ہے ۔ کالے اخروٹ ہائی بلڈ پریشر ، دل کی جلن اور بہت سی جلدی بیماریوں کو روک تھا م میں مدد کرتے ہیں ۔طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ کھانسی اور دمہ کے علاج کے دوران اخروٹ کا استعمال نہایت موثر ہے۔روزانہ صرف ایک اخروٹ کا استعمال جسم کو ہائی بلڈپریشر کا مقابلہ کرنے کی طاقت بھی فراہم کرتا ہے۔

Advertisements