افغان امن مذاکرات


931523-MullahAkhtarMansoor-1438597752

افغان امن مذاکرات

افغان امن مذاکرات ہر فریق کے لئے حکمت عملی کے حوالہ سے بہت اہم ہیں مگر دیکھنا یہ ہے کہ یہ مذاکرات کس سمت جاتے ہیں۔ اس وقت طالبان جنگی لحاظ سے پیش قدمی پر ہیں اور افغان فوج دفاعی پوزیشن پر ہے۔ان حالات میں کیا مذاکرات میں ممکنہ پیش رفت کا امکان ہے؟دونوں فریقوں کی جنگ کے میدان میں تندی و تیزی کےباوجود اس تنازع کا سیاسی حل ہی موزوں ترین حل سمجھا جاتا ہے کیونکہ جنگ مسائل کا حل نہ ہے۔

563b6b9badf27
افغان مفاہمتی عمل کے سلسلے میں افغان طالبان کی جانب سے مذاکرات میں شمولیت کے حوالے سے مثبت اشارے ملے ہیں۔تاہم افغان طالبان کے کچھ مطالبات ہیں،وہ چاہتے ہیں کہ براہ راست مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کیلیے کچھ اقدامات اٹھائے جائیں جن میں اقوام متحدہ کی سفری ودیگرپابندیوں کی فہرست سے طالبان کے کچھ رہنماؤں کے ناموں کے اخراج کا مطالبہ شامل ہے۔ذرائع کے مطابق افغان طالبان اپنے بعض قیدی رہنماؤں کی رہائی بھی چاہتے ہیں اور اسی طرح ان کی خواہش ہے کہ امریکاافغانستان سے اپنے فوجی انخلا کے سلسلے میں کسی ’’ٹائم فریم‘‘کا تعین کرے۔جن امور پر دوران مذاکرات غور و خوض ہونا چاہیے انہیں مذاکرات سے قبل اٹھا کر طالبان نے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے سوال یہ ہے کہ اگر مذاکرات سے قبل ان تمام شرائط کو تسلیم کرلیا جائے تو پھر مذاکرات کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے اس کے بعد مذاکرات بے معنی ہو کر رہ جائیں گے مذاکرات کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے جب تنازعہ موجود ہو اور اسے حل کرنے کیلئے متعلقہ فریق مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر اسے حل کرنے کیلئے ایک دوسرے سے تعاون کریں افغانستان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہاں برسہابرس سے خانہ جنگی جاری ہے اور اس خانہ جنگی نے اب دہشتگردی کی شکل اختیار کرلی ہے طالبان اس دہشتگردی کا ارتکاب کررہے ہیں اپنے ملک میں امن قائم کرنے کیلئے انہیں اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہوگا غیر ملکی فوج اگر اس وقت افغانستان میں موجود ہے تو اس کی موجودگی کی وجہ دہشتگردی سے عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے طالبان ہتھیار پھینک کر امن قائم کرنے کا اعلان کریں تو غیر ملکی فوج کی موجودگی کا جواز ختم ہو جاتا ہے طالبان کو اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے کہ وہ اگر افغانستان کو غیر ملکی فوجوں سے پاک دیکھنا چاہتے ہیں تو انہیں حکومت کے خلاف اپنی مزاحمت ختم کرنی ہوگی یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ان کی مزاحمت کی موجودگی میں غیر ملکی فوج وہاں سے رخصت ہو جائے۔

افغانستان میں امن کے لیے شروع کیے گئے امن عمل میں طالبان کے تمام گروہوں کو مدعو کیا گیا ہے۔ پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان نفیس زکریا کا کہنا ہے کہ امن مذاکرات میں تمام طالبان گروپوں کو دعوت دی گئی ہے، چار ملکی رابطہ گروپ کے تمام اراکین افغان امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔

افغان امن عمل کو بحال کرنے کی حالیہ عالمی کوششوں کے بعد افغان حکام اور طالبان رہنماؤں کے درمیان براہ راست مذاکرات کا پہلا دور آئندہ چند دونوں میں پاکستان میں منعقد ہونے کا امکان ہے جس کیلئے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان رابطوں کا سلسلہ جاری ہے ۔افغان وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ حکومت ملک میں جاری جنگ اور خونریزی کے خاتمے کیلئے طالبان کے ساتھ مذاکرات کیلئے تمام ضروری اقدامات اٹھا رہی ہے ۔تمام ضروری انتظامات مکمل ہو چکے ہیں،ہم ایک مخصوص پروگرام کی بنیاد پر بات چیت شروع کریں گے۔وزارت خارجہ کے نائب ترجمان خیر اللہ آزادکا کہنا ہے کہ ہم نے بات چیت کیلئے اپنے اصولوں کا خاکہ تیار کرلیا ہے جس سے طالبان کے ساتھ بات چیت میں مدد ملے گی،تمام اہم امور کو حتمی شکل دیدی گئی ہے ۔دریں اثناء ، افغانستان کی اعلی امن کونسل (ایچ پی سی) نے امید ظاہر کی ہے کہ دونوں فریقوں کے درمیان مذاکرات کے اس دور میں پیش رفت ہوگی ۔ایچ پی سی کے رکن شفیع نورستانی کا کہنا ہے کہ ہمیں توقع ہے کہطالبان مذاکرات کے لئے مجاز نمائندوں کو بھجوائیں گئے۔

طالبان اور طالبان کے اندر متحارب گروپس کے، مذاکرات میں شرکت کے لئے متضاد خیالات ہیں مگرحکومت اور دوسرے مزاکرات کاروں کا خیال ہے کہ طالبان کے اندر ماڈریٹس طالبان مذاکرات میں شامل ہونگے۔کابل میں حکام پرامید ہیں کہ طالبان گروپ کے کچھ دھڑے اور دوسرے عسکریت پسند گروپس کو مذاکرات کیلئے قائل کیا جا سکتا ہے۔ بعض طالبان حامی حلقے بھی براہ راست مذاکرات اور اس کی کامیابی کے بارے میں زیادہ پر امید نہیں۔

چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے بھی قطر کا دورہ کیا ہے اور خاص کر راحیل شریف صاحب کے دورے کو افغان امن مذاکرات سے جوڑا جا رہا ہے۔ طالبان کے حوالے سے اور خاص کر وہاں پر واحد کھلم کھلا طالبان سیاس دفتر کی موجودگی کی وجہ قطر نہایت اھمیت کا حامل ہے۔ اور طالبان پر قطری حکومت کی اثرورسوخ کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔

افغان صدرڈاکٹراشرف غنی نے ایک بارپھرطالبان اوردیگرباغی گروپوں کوامن عمل میں شامل ہونے کی دعوت دیتے ہوئے کہاہے کہ افغان قوم نے پہلے ہی اپنی آزادی کی بھاری قیمت چکائی ہے۔ طالبان سمیت تمام باغی گروپ جنگ کا راستہ ترک کرکے امن عمل میں شامل ہوکر ملک کی تعمیرنومیں اپناکرداراداکریں، حکومت امن کی خواہش رکھنے والے کسی بھی گروپ کا خیرمقدم کرے گی ۔افغان صدر نے سوویت یونین کے خلاف جنگ میں مجاہدین کی شراکت کوتسلیم کرتے ہوئے کہاکہ مذاکرات جاری ہیں، ہم دیکھ رہے ہیں کہ سابق جہادی ملک میں امن واستحکام لانے میں کیاکرداراداکرسکتے ہیں۔ان کا کہناتھاکہ سال بھر میں شہید ہونیوالے افغان عوام کوامن کی امیدتھی اوریہی وہ چیزہے جوعوام چاہتے ہیں ہم یہ چیزحاصل کرنے کیلیے دن رات کام کررہے ہیں۔ اشرف غنی نے طالبان پرزوردیاکہ وہ امن عمل میں شامل ہوکرملک کی تعمیرنومیں حصہ لیں کیونکہ جنگ جاری رہی تویہ ملک اورعوام کومتاثرکرے گی۔،

ادہر افغانستان کا کہنا ہے کہ مذاکرات کے بامعنی ہونے کے لیے ضروری ہے کہ یہ شدت پسندوں کے موسم بہار کے نئے حملے سے قبل کسی نتیجے پر پہنچیں۔ ان کے بقول وقت کم اور مقابلہ انتہائی سخت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مصالحتی عمل کے لیے ایک واضح اور قابل عمل روڈ میپ ضروری ہے۔
چار ملکی گروپ میں شامل ممالک نے اب تک کی پیش رفت میں سست رفتاری پر کوئی باضابطہ ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے، لیکن افغانستان میں پاکستان کے سفیر نے بھی گزشتہ دنوں ایک تھنک ٹینک میں سیر حاصل خطاب میں واضح طور پر شاید انہی مذاکرات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان کے پاس انتظار کے لیے زیادہ وقت نہیں ہے۔
’بات چیت کے لیے ہمارے پاس سال نہیں ہیں۔ ہمیں کسی نتیجے پر چند ماہ میں پہنچنا ہوگا۔ شدت پسندوں کی موسم بہار کی تازہ یلغار کوئی زیادہ دور نہیں۔‘
تیسرے اجلاس کے آغاز میں سرتاج عزیز نے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مذاکراتی عمل کے آغاز کے لیے کسی قسم کی شرائط نہ رکھی جائیں کیونکہ ایسا کرنا مدد گار ثابت نہیں ہو گا۔

images
ذرائع کے مطابق افغان طالبان کے مطالبات کے حوالے سے افغان حکومت کی جانب سے کسی مثبت ردعمل کی صورت میں براہ راست مذاکرات جلد شروع ہوسکتے ہیں بصورت دیگر اس مقصد کے حصول میں کچھ مزید وقت لگ سکتاہے۔افغان حکومت اور طالبان کے مابین براہ راست مذاکرات کا پہلا دورگزشتہ سال جولائی میں مری میں ہواتھا اور پاکستان نے ’’سہولت کنندہ‘‘ ملک کے طور پراس بات چیت کے انعقاد میں اہم کرداد ادا کیا تھا۔ مذاکرات کا دوسرا دور بھی گزشتہ سال جولائی کے آخر میں ہونا تھا تاہم طالبان کے سابق سربراہ ملا عمر کے انتقال کی خبر منظرعام پر آنے کے بعدوہ مذاکراتی دور ملتوی کردیا گیا تھا جو تاحال نہیں ہوسکا۔
ذرائع کے مطابق 4ملکی رابطہ گروپ میں شامل ممالک کی بھرپورکوششوں کے باعث توقع ہے کہ براہ راست مذاکرات جلد شروع ہوجائیں گے۔
قران حکیم کی سورۂ انفال میں ہدایت کی گئی ہے ’’اگر دشمن صلح و سلامتی کی طرف مائل ہو تو تم بھی اس کے لئے آمادہ ہوجاؤ، اور اللہ پر بھروسہ رکھو، بے شک اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔ اگر وہ دھوکے کی نیت رکھتے ہوں تو تمہارے لئے اللہ ہی کافی ہے‘‘یعنی اللہ کے نزدیک صلح و آشتی اتنی پسندیدہ چیز ہے کہ دشمن سے دھوکے کا اندیشہ ہو تب بھی اللہ کے بھروسے پر صلح کے راستے کو ترجیح دینے کو کہا گیاہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام جو امن و سلامتی کا دین ہے، حتی الامکان خونریزی کو روکنا چاہتا ہے اور کوئی دوسری صورت باقی نہ رہنے کی شکل ہی میں مسلح جنگ کی اجازت دیتا ہے ۔
طالبان میں دہڑے بندیوں سے اٖفغان حکومت کی پوزیشن مضبوط ہو جائے گی کیونکہ طالبان متحد نہ ہو نگے۔ دہڑے بندی اور تقسیم سے طالبان کمزور ہو گئے ہیں اور طالبان ایک متحدہ اکائی و قوت کی حیثت کھو بیٹھے ہیں اور اس طرح افغان حکومت اور عوام کے لئے ایک بڑا خطرہ نہ رہے ہیں۔
مگر افغان تجزیہ نگار اور طالبان دور میں وزارت خارجہ کے سابق عہدے دار وحید نے کہا ہے کہ’نیا دھڑا مزید کٹر جنگجوؤں کو اپنی جانب متوجہ کر سکتا ہے، جس سے مستقبل میں افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات میں پیچیدگی آئے گی‘۔
افغانستان میں ہر روز بم دھماکے ہو رہے ہیں اور بے گناہ اور معصوم مرد ، عورتوں اور بچوں کا ناحق قتل ہورہا ہے اور ملک کو تباہ کیا جا رہا ہے اور اس طرح ملک بجائے آگے بڑہنے کے پیچھے کی طرف جا رہا ہے۔ ان حالات کی وجہ سے اٖفغان طالبان پرمذاکرات کےذ ریعہ خانہ جنگی کا حل تلاش کرنے اور مذاکرات پر جانے کے لئے بڑا دباو ہوگا۔
طالبان لیڈروں میں اختلافات کی وجہ سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں۔مزاکرات میں شامل ہونے سے طالبان دہڑوں کو دوسروں پر فوقیت حاصل ہو جائے گی کیونکہ مذاکراتی دہڑے کو بین الاقوامی قبولیت حاصل ہو جائے گی، جس کی وہ ایک عرصہ سے خواہش کر رہے تھے۔ادہر افغانستان میں مذاکرات کے ناقدین کو خطرہ ہے کہ پچھلے 14 سالوں کی سوشل اور سیاسی ترقی طالبان سے معاہدہ کی نظر ہو جائے گی۔
تاہم ان مذاکرات کے نتائج کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل ازوقت ہوگا۔ ذرائع کے مطابق افغانستان کا معاملہ کئی سال پرانامسئلہ ہے اور اس کے دیرپا حل کیلیے اصل فریقین یعنی افغان حکومت اور طالبان کو بنیادی کردار ادا کرنا ہوگا، دونوں فریقین کوانتہائی سنجیدگی اور ذمے داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ کئی سال سے بدامنی کے شکار،افغانستان میں دیرپا امن کے قیام کی راہ ہموارہوسکے۔طالبان کو بھی ان مذاکرات میں بلاکسی شرط ،شامل ہو کر اس کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئیے۔مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کیلئے فریقین کے رویوں میں لچک ضروری ہے دونوں فریقوں کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ان کے رویوں میں لچک نہ ہونے کے باعث انہیں رابطہ گروپ کے عدم اعتماد اور برہمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Advertisements