داعش پاکستان کے لئے خطرہ


151127133038_isil_flag_640x360_reuters_nocredit

داعش پاکستان کے لئے خطرہ

انٹیلی جنس بیورو (آئی بی) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) آفتاب سلطان نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کو بتایا ہے کہ ملک میں داعش کا خطرہ اُبھر رہا ہے کیونکہ بہت سی دہشت گرد تنظیمیں اس کے لیے ہمدری کا جذبہ رکھتی ہیں۔ انھوں نے کالعدم لشکر جھنگوی اور کالعدم سپاہ صحابہ پاکستان (ایس ایس پی) کو داعش کا قابل ذکر ہمدرد قرار دیا.انہوں نے کہا کہ ہے کہ ملک میں خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والی تنظیم کا نیٹ ورک موجود ہے جس کے خلاف موثر کارروائی عمل میں لاتے ہوئے اس کا بڑی حد تک خاتمہ کردیا گیا ہے۔

0217isis
خیال رہے کہ وفاقی وزیر داخلہ پاکستان میں داعش کی موجودگی کے دعوؤں کو مسترد کرتے آئے ہیں، ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک عرب تنظیم ہے لیکن آئی بی کے ڈائریکٹر جنرل آفتاب سلطان نے بتایا کہ کراچی میں گزشتہ سال مئی میں ہونے والے سانحہ صفورہ گوٹھ کے بعد پنجاب بھر میں داعش کا نیٹ ورک پکڑا گیا ہے اور تنظیم کے سیکڑوں اراکین گرفتار کیے گئے ہیں۔اس سے پہلے سرکاری سطح پر دولت اسلامیہ کی پاکستان میں موجودگی سے مکمل انکار کیا جاتا رہا ہے۔ تاہم صوبہ پنجاب کے وزیر قانون رانا ثنااللہ کے مطابق ملک میں اس تنظیم کے حمایتیوں کی بہت کم تعداد موجود ہے۔
تاہم آفتاب سلطان کے مطابق کراچی میں گزشتہ سال مئی میں ہونے والے سانحہ صفورہ گوٹھ کے بعد پنجاب بھر میں داعش کا نیٹ ورک پکڑا گیا ہے اور تنظیم کے متعدد اراکین گرفتار بھی کیے گئے ہیں۔ آئی بی کے سربراہ نے داعش اور دیگر جہادی تنظیموں کے اثرات کو روکنے کے لئے ’’جہادی عناصر کی بحالی‘‘ اور سوشل میڈیا اور سائبر اسپیس کی نگرانی کے لیے پالیسی کے مؤثر عمل کے لیے ایک جامع پالیسی کا مطالبہ بھی کیا۔

149613
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق آئی بی کے سربراہ کے انکشاف کے بعد کم ازکم یہ واضح ہے کہ اب حکومتی سطح پر بھی داعش کے خطرے کی موجودگی کا ادراک پایا جاتا ہے۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دولت اسلامیہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں پاؤں جمانے کی اہلیت نہیں رکھتی کیونکہ وہاں پہلے ہی سے متعدد کالعدم شدت پسند تنظیمیں موجود ہیں جبکہ بلوچستان میں اس تنظیم کے پاؤں جمانے کا خطرہ موجود ہے۔ سیکیورٹی ماہر ڈاکٹر اعجاز حسین کا ماننا ہے کہ پاکستان کو آئی ایس سے خطرے کا سامنا ہے تاہم داعش کو ایک حقیقی خطرہ بننے میں وقت درکار ہوگا وہ بھی اس صورت میں جب ٹی ٹی پی سمیت دیگر مرکزی گروپس سے علیحدہ ہونے والے افراد کو کامیابی سے اپنے ساتھ منسلک کرنے میں کامیاب ہوئی تو۔

شدت پسند جہادی تنظیموں کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے والے اسلام آباد میں قائم ایک تھنک ٹینک انسٹی ٹیوٹ آف پیس اسٹڈیز کے سربراہ عامر رانا کا کہنا ہے کہ کئی حلقے کافی عرصے سے داعش کے خطرے کے بارے میں بات کر رہے تھے لیکن ریاست یہ سمجھ رہی تھی کہ شاید داعش کا خطرہ تب ہو، جب شام یا عراق سے اس تنظیم کا کوئی گروپ یہاں آئے گا۔

عامر رانا کا کہنا تھا، ’’یہاں پر شدت پسند تنظیموں کا ڈھانچہ تو پہلے سے موجود تھا تو اس میں سے کچھ تنظیموں نے آگے بڑھ کر داعش کے ساتھ وفاداری کا حلف لیا اس کے علاوہ کچھ غیر مسلح لیکن شدت پسند سوچ رکھنے والی تنظیموں اور افراد کی ہمدردیاں بھی داعش کو حاصل ہیں تو یہ اس سوچ سے ایک الگ معاملہ ہے جو حکومت نے اب تک داعش کی پاکستان میں موجودگی کے بارے میں اپنا رکھی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر پاکستانی سیکورٹی ادارے داعش کے نقش قدم کو چیک کرنے میں ناکام رہے تو یہ مستقبل میں بڑا دھچکا ثابت ہو سکتا ہے ۔اس سے پہلے حکومت نے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان میں دولت اسلامیہ سے تعلق کے شبے میں کچھ گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ اب اہم بات یہ ہے کہ اس بحث سے آگے بڑھا جائے کہ داعش یہاں موجود ہے یا نہیں ؟ بلکہ اب یہ سوچا جائے کہ اس اتنے بڑے خطرے سے نمٹنے کے لئے کیا سکیورٹی اپروچ اپنانی چاہیے؟ عامر رانا کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ ضرورت ایسی مذہبی جماعتوں اور افراد کی نگرانی ہے، جو داعش کے شدت پسندانہ نظریات کی طرف راغب ہیں یا ممکنہ طور پر راغب ہو سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان کے شہروں کراچی، لاہور، اسلام آباد اور پشاور میں داعش کے حق میں وال چاکنگ بھی کی گئی تھی تاہم حکومت کا کہنا تھا کہ ایسا صرف خوف وہراس پھیلانے کے لئے کیاجارہا ہے۔ اس ضمن میں شدت پسند مذہبی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے افراد کی گرفتاریوں کا دعوی بھی کیا گیا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسی غیر مصدقہ اطلاعات بھی آتی رہی ہیں کہ پاکستان سے ایک سو کے قریب شدت پسند ’دولت اسلامیہ‘ کے ساتھ مل کر لڑنے کے لئے شام پہنچے ہیں۔
دو ماہ قبل ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ پر ایسی خبریں بھی آئی تھیں کہ افغانستان کے شمالی صوبے ننگر ہار سے داعش کے زیر انتطام چلنے والے خلافت ریڈیو کی نشریات پاکستان کے اس صوبے سے متصل قبائلی علاقوں میں بھی با آسانی سنی جاسکتی ہیں۔ تاہم پاکستانی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ انہوں نے ان نشریات کو اپنے علاقوں میں بند کردیا ہے۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ آپریشن ضرب عضب پر عمل درآمد کے بعد سے ملک میں امن و امان کی صورت حال میں بہتری آئی ہے، جس سے دہشت گرد راہِ فرار اختیار کررہے ہیں۔انھوں نے خبردار کیا کہ ملک میں مزید دہشت گردی کے حملے ہوسکتے ہیں کیونکہ ایسا ممکن نہیں ہے کہ اگلی دہائی میں دہشت گردی کا مکمل خاتمہ کیا جاسکے۔انھوں نے بتایا کہ نئے اختیار کیے گئے طریقہ کار کے مطابق آئی بی، صوبائی پولیس اور محکمہ انسداد دہشت گردی کے ساتھ مل کر کام کررہی ہے۔

پاکستان کو داعش کےحقیقی خطرہ کا ادراک ہونا چاہئیے کیونکہ یہ عفریت پہلے ہی عراق و شام کواپنی آگ کی لپیٹ میں لے چکی ہے جہان پر داعش انسانیت کے خلاف جرائمز اور وار کرائمز میں ملوث ہیں۔ عراق اور شام میں دہشتگرد گروہ داعش کے مظالم اسلامی تعلیمات اور اسلامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں ۔ داعش ایک ناسور ہے اورکسی صورت میں بھی اُسے پاکستان میں پذیرائی نہیں ملنی چاہئے۔

Advertisements