مہمند ایجنسی میں احرار گروپ کی فائرنگ سے 9 خاصہ دار ہلاک


160218051111_mohmand_agency_fata_pakistan_army_640x360_afp_nocredit

مہمند ایجنسی میں احرار گروپ کی فائرنگ سے 9 خاصہ دار ہلاک

پاکستان میں وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے مہمند ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ خاصہ دار فورس کے اہلکاروں پر ہونے والے دو الگ الگ حملوں میں نو اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔ ان دونوں حملوں کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان جماعت الاحرار گروپ نے قبول کر لی ہے۔

56c5687fdb47d
پولیٹکل انتظامیہ کے ایک سرکاری اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ فائرنگ کے دونوں واقعات بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب مہمند ایجنسی کی تحصیلوں یکہ غنڈ اور پنڈیالی میں پیش آئے۔

news-1455773604-5637_large
انھوں نے کہا کہ پہلا واقعہ اس وقت پیش آیا جب شمسی توانائی سے چلنے والے ٹیوب ویل پر تعینات خاصہ دار فورس کے دو اہلکاروں پر مسلح افراد کی طرف سے فائرنگ کی گئی جس میں دونوں اہلکار ہلاک ہو گئے۔
سرکاری اہلکار کے مطابق فائرنگ کا دوسرا واقعہ یکہ غنڈ سب ڈویژن کے علاقے کڑپہ میں رات گئے ہوا جب مسلح افراد نے خاصہ دار فورس کی ایک چیک پوسٹ پر اندھا دھند فائرنگ کر دی جس سے وہاں ڈیوٹی پر موجود سات اہلکار مارے گئے۔
مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ مرنے والے اہلکاروں کی لاشیں ایجنسی ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کردی گئی ہے۔
ان دونوں حملوں کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان جماعت الاحرار گروپ نے قبول کر لی ہے۔
سرکاری اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے بعد علاقے میں سکیورٹی فورسز کی جانب سے بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کا آغاز کیا گیا ہے اور کئی مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ یہ امر بھی اہم ہے کہ مہمند ایجنسی میں ایک ہی رات میں دو واقعات میں نو اہلکاروں کی ہلاکت کا واقعہ بھی کافی عرصے کے بعد پیش آیا ہے۔
http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/02/160218_mohmand_agency_attack_khasadar_sh

454227-KhasaDarForceWeb-1455768724-511-640x480
پاکستان گزشتہ کئی سال سےطالبان کی دہشت گردی کے چیلنج سے نمٹ رہا ہے، اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ آپریشن ضرب عضب کے باعث دہشت گردی کی کارروائیوں میں نمایاں کمی آئی ہے، طالبان دہشت گردوں کے بیس کیمپس، پناہ گاہیں اور اسلحہ ساز فیکٹریاں تباہ ہو ئیں اور شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تباہ ہونے کے بعد وہ ملکی سلامتی کے لیے ویسا بڑا خطرہ نہیں رہے جو کبھی محسوس کیے جاتے تھے۔ طالبان ب یقینی کی کیفیت میں بکھر رہے ہیں اور ان کی سپریم لیڈرشپ سرحد پار بھاگ گئی ہے ۔ لیکن اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ دہشت گرد ابھی تک ملک کے مختلف حصوں میں چھپے ہوئے اور وقفے وقفے سے دہشت گردی کی کارروائیاں کر کے نقصان پہنچانے کی کوشش کر تے رہتے ہیں۔
مسجدوں ،تعلیمی اداروں مذہبی مقامات اور بھرے بازروں میں خود کش حملوں سے معصوم عورتوں بچوں اور بے گناہ لوگوں کے خون کی ہولی کھیلنے والے مسلمان تو کیا انسان بھی نہیں ہوتے وہ صرف اور صرف ہوس ذر کے پجاری ، اسلام دشمن اور قوم دشمن قوتوں کے آلہ کار ہیں ۔ اسلامی ریاست کیخلاف مسلح جدوجہد حرام ہے۔ دہشتگردی، بم دہماکوں اور خودکش حملوں کی اسلامی شریعہ میں اجازت نہ ہے کیونکہ یہ چیزیں تفرقہ پھیلاتی ہیں۔ طالبان دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں۔طالبان ایک رستا ہوا ناسور ہیں اورپاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اس ناسور کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔ طالبان اسلام، امن اور انسانیت کے سب سے بڑے دشم،ن ہیں۔دہشت گرد گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔ نیز دہشت گرد قومی وحدت کیلیے سب سے بڑاخطرہ ہیں۔ انتہا پسند و دہشت گرد پاکستان کا امن تباہ کرنے اور اپنا ملک تباہ کرنے اور اپنے لوگوں کو مارنے پر تلے ہوئے ہیں.

Advertisements