افغانستان خود کش حملہ میں 13 ہلاک متعدد زخمی


ngres

افغانستان خود کش حملہ میں 13 ہلاک متعدد زخمی

افغان صوبے پروان میں پولیس پر ہونے والے ایک خود کش حملے میں نو شہریوں سمیت کم از کم 13 افراد ہلاک ہو گئے۔کابل کے شمال مغرب میں 60 کلومیٹر دور ایک نواحی علاقے صیگرد میں مقامی پولیس چیف کو نشانہ بنایا گیا۔ صوبائی پولیس چیف محمد زمان ماموزئی نے بتایا کہ حملے میں نو شہری اور 4 پولیس اہلکار ہلاک جبکہ 19 زخمی ہوئے۔صوبائی گورنر کے ترجمان واحد صدیقی کے مطابق، ہلاکتوں کی تعداد 14 ہے اور خود کش بمبار موٹر سائیکل پر سوار تھا۔

15afghanistan2-articleLarge
طالبان نے اپنے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے ذریعے ٹوئٹر پر حملے کی ذمہ داری قبول کی۔
صدیقی کے مطابق، حملے کا نشانہ افغال لوکل پولیس (اے ایل پی) کے ایک کمانڈر تھے۔
http://www.dawnnews.tv/news/1033803/

56cb3e179c7a9
ایک دفعہ پھر طالبان خودکش حملہ آور نے نہتے سویلین کو نشانہ بنایا ہے۔اس وقت بازار خریداروں سے بھرا ہوا تھا اور کلینک کے باہر علاج کے لئے مریضوں کا رش تھا۔.حکام کا کہنا ہے کہ خود کش حملہ آور موٹر سائیکل پر سوار تھا جس نے کلینک کے قریب پہنچ کر خود کو دھماکے سے اڑالیا جب کہ حملہ آور کا ہدف مقامی پولیس کا کمانڈر تھا۔ حکام کے مطابق حملے کی ذمہ داری طالبان کی جانب سے قبول کی گئی ہے۔
طالبان نے میڈیا کو جاری ایک بیان میں خودکش حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ گروپ کے خودکش بمبار نے مقامی پولیس کمانڈر اوراسکے ساتھیوں کو نشانہ بنالیا ۔

Afghan-Suicide-Attack_s_2-22-2016_216236_l

134941889_14507841051351n
اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ 2015 میں 3545 سولین ہلاک ہلاک ہوئے 7457 زخمی ہوئے۔ ان میں 11000 سیویلین طالبان دہشتگردوں کی کاروائیوں سے ہلاک و زخمی ہوئے۔
خودکش حملے،دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے اور قران و حدیث میں اس کی ممانعت ہے ۔
اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :
وَلَا تَقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْط اِنَّ اﷲَ کَانَ بِکُمْ رَحِيْمًاo وَمَنْ يَفْعَلْ ذٰلِکَ عُدْوَانًا وَّظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيْهِ نَارًاط وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اﷲِ يَسِيْرًاo
النساء، 4 : 29، 30
”اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو، بے شک اﷲ تم پر مہربان ہےo اور جو کوئی تعدِّی اور ظلم سے ایسا کرے گا تو ہم عنقریب اسے (دوزخ کی) آگ میں ڈال دیں گے، اور یہ اﷲ پر بالکل آسان ہےo”
امام فخر الدین رازی نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے :
﴿وَلاَ تَقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْ﴾ يدل علی النهی عن قتل غيره وعن قتل نفسه بالباطل.
رازی، التفسير الکبير، 10 : 57
”(اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو)۔ یہ آیت مبارکہ کسی شخص کو ناحق قتل کرنے اور خودکشی کرنے کی ممانعت پر دلیل شرعی کا حکم رکھتی ہے۔”
مزید برآں امام بغوی نے ”معالم التنزیل (1 : 418)” میں، حافظ ابن کثیر نے ”تفسیر القرآن العظیم (1 : 481)” میں اور ثعالبی نے ”الجواھر الحسان فی تفسیر القرآن (3 : 293)” میں سورۃ النساء کی مذکورہ بالا آیات کے تحت خود کشی کی حرمت پر مبنی احادیث درج کی ہیں ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ائمہ تفسیر کے نزدیک بھی یہ آیات خود کشی کی ممانعت و حرمت پر دلالت کرتی ہیں۔
احادیث مبارکہ میں بھی خود کشی کی سخت ممانعت وارد ہوئی ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
فَإِنَّ لِجَسَدِکَ عَلَيْکَ حَقًّا وَإِنَّ لِعَيْنِکَ عَلَيْکَ حَقًّا.
بخاری، الصحيح، کتاب الصوم، باب حق الجسم فی الصوم، 2 : 697، رقم : 1874
”تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری آنکھوں کا تم پر حق ہے۔”
یہ حکمِ نبوی واضح طور پر اپنے جسم و جان اور تمام اعضاء کی حفاظت اور ان کے حقوق ادا کرنے کی تلقین کرتا ہے، تو کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ خودکش حملوں (suicide attacks) اور بم دھماکوں (bomb blasts) کے ذریعے اپنی جان کے ساتھ دوسرے پرامن شہریوں کی قیمتی جانیں تلف کرنے کی اجازت دے! حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود کشی جیسے بھیانک اور حرام فعل کے مرتکب کو فِي نَارِ جَهَنَّمَ يَتَرَدَّی فِيْهِ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيْهَا أَبَدًا (وہ دوزخ میں جائے گا، ہمیشہ اس میں گرتا رہے گا اور ہمیشہ ہمیشہ وہیں رہے گا) فرما کر دردناک عذاب کا مستحق قرار دیا ہے۔
جنا ب رسول اللہ ﷺ نے ارشا د فرما یا صحا بہ کرام ؓ کو فلا ں شخص جو جہا د میں بڑی جر ات سے لڑتا ہے وہ جہنمی ہے صحا بہ ؓ حیران ہو ئے اور اس کا تعا قب شروع کر دیا کیا دیکھتے ہیں کہ وہ زخمی ہو گیا اور زخمو ں کی تا ب نہ لا کر خود اپنی تلوار اپنے سینے میں گھونپ دی اور مر گیا صحا بہ ؓ نبی ؑ کی با رگاہ میں حا ضر ہو ئے اور اسکی خبر دی تو سرکا رﷺ نے وا ضح کیا میرے صحا بہ اسلام میں خود کشی حرام ہے اور خود کشی کر نے والا جہنمی ہے ۔
جب کا فر و ں کے مقا بلے میں ایسا عمل حرام ہے تو مسلمانو ں کے خلا ف ایسا عمل کر نے والا جنتی کیسے ہو سکتا ہے ۔ لہذا دعوت فکر ہے ایسی سوچ کو کہ اسلامی روح پکڑے اپنے ان نو جوانو ں کو پیغام دینا ہے کہ جن کو جھو ٹی جنت کا لا لچ اور فریب دیکر بلیک میل کیا جا تا ہے ۔ اور انہیں خود کش حملہ کر نے کی تر غیب دی جا تی ہے وہ جا ن لیں کہ یہ عمل جنت میں جانے والا نہیں بلکہ سیدھا جہنم میں پہنچا نے والا ہے ۔
دہشتگرد نہ ہی مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان ،بلکہ دہشتگرد انسانیت کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ طالبان دہشت گردوں کا نام نہاد جہاد شریعت اسلامی کے تقاضوں کے منافی ہے۔
بے گناہ اور معصوم لوگوں کے قتل کی اسلام میں ممانعت ہے۔اسلامی شریعہ کے مطابق اور بچوں عورتوں کو حالت جنگ میں بھی جنگ کا ایندہن نہ بنایا جا سکتا ہے۔ حدیث رسول کریم ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھوں سے دوسرے مسلمانوں کو گزند نہ پہنچے۔ اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے اور دہشتگرد اسلا م اور امن کے دشمن ہیں۔ دہشتگرد تنظیمیں جہالت اور گمراہی کےر استہ پر ہیں۔جہاد کے نام پر بے گناہوں کا خون بہانے والے دہشتگرد ہیں۔یہ دہشتگرد اسلام کو بدنام اور امت مسلمہ کو کمزور کر رہے ہیں۔
علمائے اسلام ایسے جہاد اور اسلام کو’’ فساد فی الارض ‘‘اور دہشت گردی قرار دیتے ہیں اور یہ جہاد فی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ ہوتا ہے کیونکہ جہاد کرنا حکومت وقت اور ریاست کی ، نا کہ کسی گروہ یا جتھے کی ذمہ داری ہوتا ہے۔
اس قسم کی صورت حال کو قرآن مجید میں حرابہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ انسانی معاشرے کے خلاف ایک سنگین جرم ہے انتہا پسند و دہشت گرد افغانستان کا امن تباہ کرنے اور اپنا ملک تباہ کرنے اور اپنے لوگوں کو مارنے پر تلے ہوئے ہیںبچوں اور عورتوں کا قتل اسلام میں جائز نہ ہے اور یہ ملا عمر کے حکم کی خلاف ورزی بھی ہے۔

Advertisements