افغانستان میں دو خود کش دھماکوں میں28 افراد ہلاک


world-Afghanistan-suicideattacks_2-28-2016_216844_l

افغانستان میں دو خود کش دھماکوں میں28 افراد ہلاک

افغانستان میں 2 خود کش دھماکوں میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 28 ہو گئی جبکہ 70 سےزائد افراد زخمی ہیں ۔ افغان وزارت دفاع کے ترجمان دولت وزیری کے مطابق کابل میں خود کش بمبار نے افغان وزارت دفاع کی عمارت کے قریب خود کو دھماکے سے اڑایا ۔ ہلاک ہونے والے افراد میں زیادہ تر وزارت دفاع کے ملازمین ہیں ۔ طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے۔ سنیچر کو کابل میں خود کش بم حملہ وزارت دفاع کی عمارت کے سامنے ہوا جس میں حکام کےمطابق جس میں دو فو جیوں سمیت 12 افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے ۔

afghanistan759

صوبہ کنڑ کے صوبائی درالحکومت اسد آباد میں ایک خودکش حملہ ہوا۔ صوبائی گورنر وحید اللہ کلیم زئی نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ بمبار ایک موئٹرسائیکل پر سوار تھا اور اسد آباد میں ایک سرکاری دفتر کے سامنے جاکر اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔

index

Part-DEL-Del8405316-1-1-0

460132-AfghanistanBlastWeb-1456561835-519-640x480

انھوں نے بتایا کہ مرنے والے زیادہ افراد عام شہری اور بچے ہیں جو یا تو ادھر سے گزر رہے تھے یا پھر پارک میں کھیل رہے تھے۔

151016123117_ghani_640x360__nocredit
افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کہا ہے کہ افغانستان کے عام شہریوں کو نشانہ بنانے والوں کے ساتھ ان کی حکومت امن مذاکرات نہیں کرے گی۔انھوں نے یہ بیان درالحکومت کابل اور صوبہ کنڑ کے صوبائی درالحکومت اسد آباد میں ہونے والے دو خود کش بم دھماکوں میں بڑے پیمانے کی ہلاکتوں کے بعد دیا۔مرنے اور زخمی ہونے والوں میں زیادہ تعداد عام شہریوں کی تھی۔

1442751596927

672917AE-AC59-421D-BC87-729F950CE624_w640_s

3398
خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے.۔ بے گناہوں کے قتل کی اسلام میں ممانعت ہے۔حدیث رسول کریم ہے کہ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھوں سے دوسرے مسلمانوں کو گزند نہ پہنچے۔ اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے اور دہشتگرد اسلا م اور امن کے دشمن ہیں۔ دہشتگرد تنظیمیں جہالت اور گمراہی کےر استہ پر ہیں۔جہاد کے نام پر بے گناہوں کا خون بہانے والے دہشتگرد ہیں۔یہ دہشتگرد اسلام کو بدنام اور امت مسلمہ کو کمزور کر رہے ہیں۔
علمائے اسلام ایسے جہاد اور اسلام کو’’ فساد فی الارض ‘‘اور دہشت گردی قرار دیتے ہیں اور یہ جہاد فی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ ہوتا ہے کیونکہ جہاد کرنا حکومت وقت اور ریاست کی ، نا کہ کسی گروہ یا جتھے کی ذمہ داری ہوتا ہے۔
اس قسم کی صورت حال کو قرآن مجید میں حرابہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ انسانی معاشرے کے خلاف ایک سنگین جرم ہے انتہا پسند و دہشت گرد افغانستان کا امن تباہ کرنے اور اپنا ملک تباہ کرنے اور اپنے لوگوں کو مارنے پر تلے ہوئے ہیں۔ طالبان اپنے ہی لوگوں کو مار رہے ہیں اور اپنا ہی ملک تباہ کر رہے ہیں۔

بچوں اور عورتوں کا قتل اسلام میں جائز نہ ہے اور یہ ملا عمر کے حکم کی خلاف ورزی بھی ہے۔

Advertisements