افغان طالبان نے مذاکرات سے انکار کر دیا


160227145804_afghan_taliban_640x360_afp

افغان طالبان نے مذاکرات سے انکار کر دیا

طالبان قیادت نے اسلام آباد میں امن مذاکرات کے متوقع اجلاس میں شمولیت سے انکار کرکے امن عمل اور بات چیت کے مستقبل کو ایک بار پھر خطرے میں ڈال دیا ہے، وہ ملا عمر کی موت کے بعد بھی مذاکرات سے گریز پا رہے۔ طالبان قیادت کو افغانستان میں امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے غیر معمولی لچک کا مظاہرہ کرنا چاہیے، اس کے بعد ہی چار ملکی گروپ سے بات چیت کسی بریک تھرو پر منتج ہو سکتی ہے۔طالبان کو بھی ان مذاکرات میں بلاکسی شرط ،شامل ہو کر اس کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئیے۔ طالبان نے مذاکرات سے انکار کر کے اپنی ساکھ کو انتہائی زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔ طالبان کو چاہئیے کہ وہ امن کا انتخاب کریں، فیصلہ کریں کہ وہ افغان قوم اور ملک دشمنوں میں سے کس کے ساتھ ہیں۔ فی الحال افغان حکومت اور طالبان کے درمیان مفاہمت کا عمل خطرے میں پڑھ گیا ہے۔

931523-MullahAkhtarMansoor-1438597752
طالبان نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ‘ہم واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ امارات اسلامیہ کے رہنما نے کسی کو بھی اس اجلاس میں شرکت کیلئے اجازت نہیں دی ہے’۔طالبان کی جانب سے شرائط بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مذاکرات سے قبل ملک سے غیرملکی افواج کا خاتمہ، طالبان کے ناموں کا عالمی بلیک لسٹ سے اخراج اور ان کے قیدیوں کی رہائی ضروری ہے جب کہ ان شرائط کی منظوری تک طالبان کسی قسم کے مذاکرات میں شریک نہیں ہوں گے۔
پاکستان میں افغانستان کے سفیر ڈاکٹر عمر زاخیلوال نے کہا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے حکومت سے مذاکرات سے انکار کے باوجود بات چیت کی امید برقرار ہے۔

151016123117_ghani_640x360__nocredit
ادہر افغان صدر اشرف غنی نے پارلیمنٹ سے خطاب میں کہا ‘میں طالبان سے کہتا ہوں کہ آپ کا ایک بڑا تاریخی امتحان ہے۔۔۔آیا آپ اپنے ہم وطنوں کے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں یا ان کے مخالفین کے ساتھ۔’۔ان کا کہنا تھا کہ وہ مذاکرات کی جلد بحالی کے حوالے سے پرامید ہیں اور امن ہی واحد راستہ ہے۔ اجلاس سے خطاب میں انھوں نے کہا اگر طالبان افغان ہیں توانھیں امن کے عمل میں شامل ہوناچاہیے، لوگوں کو قتل کرنا اسلام کے خلاف ہے، ہمیں بدترین حالات کا سامنا کرنے کے لیے تیاررہناچاہیے، مشکل حالات کے باوجودمیں اب بھی امن کے لیے پرامید ہوں۔انھوں نے کہا افغانستان امن چاہتا ہے اوران کی حکومت کی خواہش ہے کہ ملک میں پائیدارامن قائم ہو۔
پاکستان کے وزیرِ اعظم کے مشیر برائے امورِ خارجہ سرتاج عزیز نے امید ظاہر کی ہے کہ افغانستان میں قیامِ امن کے لیے مفاہمتی عمل آئندہ چند روز میں شروع ہو جائے گا۔ اسلام آباد میں منگل کو برطانوی وزیرِ خارجہ کے ہمراہ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ افغان طالبان کو سمجھنا ہوگا کہ ان کی پیشگی شرائط مذاکرات کے نتیجے میں تو پوری ہو سکتی ہیں، ان سے پہلے نہیں۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ افغان طالبان تک پہنچایا جانے والا ’بنیادی پیغام یہی ہوگا کہ بہت سی پیشگی شرائط جو وہ پیش کر رہے ہیں، مذاکرات کے نتیجے میں تو پوری ہو سکتی ہیں لیکن بات چیت سے قبل ان کا تسلیم کیا جانا ممکن نہیں۔‘
جن امور پر دوران مذاکرات غور و خوض ہونا چاہیے انہیں مذاکرات سے قبل اٹھا کر طالبان نے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے سوال یہ ہے کہ اگر مذاکرات سے قبل ان تمام شرائط کو تسلیم کرلیا جائے تو پھر مذاکرات کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے اس کے بعد مذاکرات بے معنی ہو کر رہ جائیں گے مذاکرات کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے جب تنازعہ موجود ہو اور اسے حل کرنے کیلئے متعلقہ فریق مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر اسے حل کرنے کیلئے ایک دوسرے سے تعاون کریں ۔
افغانستان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہاں برسہابرس سے خانہ جنگی جاری ہے اور اس خانہ جنگی نے اب دہشتگردی کی شکل اختیار کرلی ہے طالبان اس دہشتگردی کا ارتکاب کررہے ہیں اپنے ملک میں امن قائم کرنے کیلئے انہیں اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہوگا غیر ملکی فوج اگر اس وقت افغانستان میں موجود ہے تو اس کی موجودگی کی وجہ دہشتگردی سے عوام کو تحفظ فراہم کرنا ہے طالبان ہتھیار پھینک کر امن قائم کرنے کا اعلان کریں تو غیر ملکی فوج کی موجودگی کا جواز ختم ہو جاتا ہے طالبان کو اس حقیقت کا ادراک کرنا چاہیے کہ وہ اگر افغانستان کو غیر ملکی فوجوں سے پاک دیکھنا چاہتے ہیں تو انہیں حکومت کے خلاف اپنی مزاحمت ختم کرنی ہوگی یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ ان کی مزاحمت کی موجودگی میں غیر ملکی فوج وہاں سے رخصت ہو جائے۔
طالبان سمیت تمام باغی گروپ جنگ کا راستہ ترک کرکے امن عمل میں شامل ہوکر ملک کی تعمیرنومیں اپناکرداراداکریں ۔

Advertisements