پشاور بس دھماکہ، 16افراد ہلاک،لشکر اسلام نے ذمہ داری قبول کر لی


160316051625_peshawar_bus_blast_640x360_reuters_nocredit

پشاور بس دھماکہ، 16افراد ہلاک ،لشکر اسلام نے ذمہ داری قبول کر لی
پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور میں سرکاری ملازمین کی بس میں دھماکے سے کم از کم 16 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں۔ پشاور پولیس کا کہنا ہے کہ یہ دھماکہ بدھ کی صبح صدر کے علاقے میں سنہری مسجد روڈ پر ایک بس میں ہوا۔بی بی سی کے نامہ نگار عزیز اللہ خان کے مطابق پشاور کے ایس ایس پی آپریشنز عباس مجید مروت نے جائے وقوع کے دورے کے بعد بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ دھماکے میں 16 افراد کی ہلاکت اور 37 کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔انھوں نے کہا کہ بس مردان کے نواحی علاقے درگئی سے 40 سے 50 مسافر لے کر پشاور کے لیے روانہ ہوئی تھی۔

15killedinPeshawarbusbombblast.._3-16-2016_218864_l

56e912f36c946
نامہ نگار کے مطابق دھماکے کا نشانہ بننے والی بس میں سول سیکریٹریٹ کے علاوہ دیگر سرکاری دفاتر میں کام کرنے والے ملازمین سوار تھے جو مردان اور دیگر علاقوں سے پشاور آ رہے تھے۔
اس دھماکے کی اطلاع ملتے ہی فوری طور پر امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں اور زخمیوں کو لیڈی ریڈنگ اور کنٹونمنٹ ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔
لیڈی ریڈنگ ہسپتال کے ڈپٹی میڈیکل سپرٹنڈنٹ ڈاکٹر غلام سبحانی کا کہنا ہے کہ ہسپتال میں دس لاشیں اور 21 زخمی لائے گئے ہیں اور زخمیوں میں تین خواتین بھی ہیں۔
ہلاک شدگان یا زخمیوں کی شناخت کے بارے میں تاحال کچھ نہیں بتایا گیا ہے۔
بم ڈسپوزل سکواڈ کے ڈی آئی جی شفقت کے مطابق دھماکہ ٹائم ڈیوائس سے کیا گیا اور چھ کلو کے قریب دیسی ساختہ دھماکہ خیز مواد ایک سیٹ کے نیچے نصب تھا۔
خیبر پختونخوا میں ماضی میں بھی سرکاری ملازمین کی بسیں بم حملوں کا نشانہ بنتی رہی ہیں
واضح رہے کہ ماضی میں بھی صوبہ خیبر پختونخوا میں سرکاری ملازمین کی بسیں اس قسم کے بم حملوں کا نشانہ بنتی رہی ہیں۔
141002101242_peshawar_bus_blast_640x360_afp_nocredit

http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/03/160316_peshawar_bus_blast_zs

Peshawar-Blast-17killed_3-17-2016_218978_l

پشاور : بس دھماکے میں جاں بحق افرادکی تعداد 17ہوگئی

پشاورکینٹ میں سرکاری ملازمین کی بس کے اندر بم دھماکے سے 17 افراد جاں بحق اور 50سے زائد زخمی ہوگئے۔ دھماکے کا مقدمہ سی ٹی ڈی پشاور پولیس اسٹیشن میں نامعلوم شرپسندوں کے خلاف درج کرلیا گیاہے ۔
پشاور ایک بار پھر دہشت گردوں کے نشانے پر آگیا۔ اس بار درگئی اورمردان سے سرکاری ملازمین کو لے کر پشاور آنے والی بس کونشانہ بنایاگیا۔ سنہری مسجد کے قریب بس میں زوردار دھماکہ ہوا اور گاڑی تباہ ہوگئی۔

  http://search.jang.com.pk/JangDetail.aspx?ID=218978#sthash.tHiTn5T6.dpuf

پشاور کے سنہری مسجد روڈ پر سرکاری ملازمین کے بس میں دھماکے کی ذمہ داری کالعدم لشکراسلام اور ایک غیرمعروف جنگجو گروپ نے قبول کرلی ہے ۔
انگریزی اخبار’دی نیوز‘ کے مطابق پاک فوج کے آپریشن کے بعد لشکر اسلام کے افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں بھاگ جانیوالے منگل باغ نے مبینہ طورپر کچھ صحافیوں کو ذاتی طورپر کال کی اور پشاور میں بس کے اندر ہونیوالے دھماکے کی ذمہ داری قبول کی اور اس حملے کو آرمی چیف کی طرف سے 13دہشتگردوں کی سزائے موت کے فیصلے کی توثیق اور فاٹا میں جاری آپریشن کابدلہ قراردیا۔ لشکر اسلام کے مشرقی افغانستان میں جانے سے قبل باڑہ اور وادی تیراہ میں موجودگی تھی ۔ رپورٹ کے مطابق بعد ازاں مجلس لشکری کے نام سے ایک غیرمعروف گروپ نے بھی بس میں دھماکے کی ذمہ داری قبول کی ۔ یہ ذمہ داری اس گروپ کے ترجمان عبداللہ وزیرستانی نے قبول کی ۔

http://dailypakistan.com.pk/peshawar/17-Mar-2016/349840

56e8d4dc0f7bc
وزیر اعظم نواز شریف اور وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے پشاور میں سرکاری ملازمین کی بس میں دھماکے کے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حملے میں ملوث افراد کو کیفرکردار تک پہنچایا جائے گا۔ دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنا نا گزیر ہو چکا ہے۔
پنے بیان میں انکا کہنا تھا کہ ضرب عضب آپریشن نے دہشت گردوں کی کمر توڑ دی ہے اور اب وہ پسپائی اختیار کرنے پر مجبو ر ہو چکے ہیں تاہم ملک او اسلام دشمنوں کو جلد اپنے انجام تک پہنچا یا جائے گا، بیان میں کہا گیا کہ اس قسم کی بزدلانہ کارروائیوں سے قوم کے حوصلے پست نہیں ہونگے۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری نے اپنے بیان میں کہا کہ معصوم انسانی جانوں کے ضیاع پر انہیں شدید دکھ پہنچا ہے تاہم دہشت گردوں کا صفایا ضروری ہے۔ وزیر داخلہ چودھری نثار، وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید، گورنر کے پی کے اقبال ظفر جھگڑا ، پاکستان مسلم لیگ (ق) کے صدر چودھری شجاعت حسین، ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین ، قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈ ر خورشید شاہ,نے کہا کہ دہشت گردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ۔ اپنے مذمتی بیانات میں دھماکے کے نتیجے میں جاں بحق ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور عوام دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پر عزم ہے اور اس اہم ایشو پر حکومت کی کاوشوں کے ساتھ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دھماکے میں جاں بحق ہونے والے افراد کی بلند درجات اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کیلئے دعا گو ہیں۔
http://dailypakistan.com.pk/national/16-Mar-2016/349184

news-1458103209-2473_large

news-1458103193-5814
سابق وزیر اطلاعات کے پی کے میاں افتخار حسین نے کہا ہے کہ انکی پارٹی پشاور بس دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں اور اس مشکل گھڑی میں جاں بحق اور زخمی افراد کے لواحقین کے ساتھ ہے۔ پشاور میں میڈ ٰیا سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ قوم نے دہشت گردوی سے چھٹکارا حاصل کرنے کیلئے کمر کس لی ہے اور اب اس عفریت سے نجات حاصل کر کے ہی دم لیا جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس قسم کی بزدلانہ کارروائیوں سے قوم کے حوصلے پست نہیں ہونگے۔ مالاکنڈ آپریشن میں کامیابی اس لئے ہوئی کہ حکومت اور پاک فوج ایک پیج پر تھی اور آپریشن ضرب عضب بھی کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔میاں افتخار کا کہنا تھا کہ پوری قوم دہشت گردوں کا خاتمہ چاہتی ہے اور اس مشن میں حکومت اور پاک فوج کیساتھ شانہ بشانہ کھڑی ہے۔
http://dailypakistan.com.pk/peshawar/16-Mar-2016/349194
اس وقت پاکستا ن ایک انتہائی تشویسناک صورتحال سے دوچار ہے۔لشکر اسلام اور دوسرے دہشتگردوں اور ان کے ساتھیوں نے ہمارے پیارے پاکستان کو جہنم بنا دیا ہے،62 ہزار کے قریب معصوم اور بے گناہ لوگ اپنی جان سے گئے،پاکستان کی اقتصادیات آخری ہچکیاں لے رہی ہے اور داخلی امن و امان کی صورتحال دگرگوں ہے۔
معصوم شہریوں، عورتوں اور بچوں کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا، قتل و غارت کرنا، بم دہماکے کرنا،خود کش حملوں کا ارتکاب کرنا دہشتگردی ہے ،جہاد نہ ہے،جہاد تو اللہ کی راہ میں ،اللہ تعالی کی خشنودی کے لئےکیا جاتا ہے۔ جہاد کا فیصلہ افراد نہیں کر سکتے،یہ صرف قانونی حکومت کر تی ہےلہذا لشکر اسلام اور دوسرے دہشتگردوں کا نام نہاد جہاد ،بغاوت کے زمرہ میں آتا ہے۔ ان دہشت گردوں کا نام نہاد جہاد شریعت اسلامی کے تقاضوں کے منافی ہے۔
کسی بھی مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے،اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔
لشکر اسلام اور دوسرے دہشتگرد اسلامی نظام لانے کے دعویدار ہیں مگر ان سے بڑا اسلام دشمن کوئی نہ ہے اور اسلام کو سب سے زیادہ نقصان  دہشتگردوں نے پہنچایا ہے۔دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہ ہے اور یہ قابل مذمت ہے۔ اور نہ ہی اسلام میں دہشت گردی اور بم دہماکوں کی کوئی گنجائش ہے۔ دہشتگرد ملک اور قوم کی دشمنی میں اندہے ہو گئے ہیں. اسلام امن،سلامتی،احترام انسانیت کامذہب ہے لیکن چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام کاامیج خراب ہورہا ہے۔ اِنتہاپسندوں کی سرکشی اسلام سے کھلی بغاوت ہے. طالبان دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں۔لشکر اسلام اور دوسرے دہشتگرد  ایک رستا ہوا ناسور ہیں اورپاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اس ناسور کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔ دہشت گرد گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔ نیز دہشت گرد قومی وحدت کیلیے سب سے بڑاخطرہ ہیں۔ انتہا پسند و دہشت گرد پاکستان کا امن تباہ کرنے اور اپنا ملک تباہ کرنے اور اپنے لوگوں کو مارنے پر تلے ہوئے ہیں۔ لشکر اسلام اور دوسرے دہشتگرد دورحاضر کے خوارج ہیں جو مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار دیتے ہیں. بے گناہ انسانوں کا خون بہانے والے اسلام کے سپاہی نہیں اسلام کے غدار اور پاکستان کے باغی ہیں کیونکہ اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔

Advertisements