دہشت گردی کے خاتمہ کا عزم


news-1421133484-6624_large

دہشت گردی کے خاتمہ کا عزم
وزیراعظم ہاوس کے ایک اجلاس میں ملک میں جاری  آپریشن ضرب عضب میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں سیاسی و عسکری قیادت نے ایک بار پھر دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ دہشت گردوں اور ان کے ساتھیوں کے ساتھ کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی، ملک کو ہر حال میں امن کا گہوارہ بنائیں گے۔وزیراعظم نوازشریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا آپریشن ضرب عضب سے دہشت گردوں کا انفراسٹرکچر تباہ اور نیٹ ورک ٹوٹ چکے ہیں۔ ملک کے کونے کونے سے دہشت گردوں کو ختم کریں گے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ ہر قیمت پر منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

15B01828-51F5-4C61-9A10-D210E3DCF5B3_mw1024_s_n

وزیراعظم نے کہا کہ آج ہمیں دہشتگردی اور شدت پسندی كی شكل میں بے مثال خطرات اور چیلنجز كا سامنا ہے تاہم ہم نے ان خطرات كو شكست دینے كا پختہ عزم كرركھا ہے اورہم اپنی سرزمین وطن سے جلد ہی دہشتگردی اور شدت پسندی كا مكمل خاتمہ كردیں گے۔

انہوں نے کہا کراچی آپریشن سے عوام خوش ہیں اور خوف کی فضا ختم ہو چکی ہے۔ آپریشن سے پہلے کراچی میں جرائم کی شرح انتہائی درجہ پر تھی اب ٹارگٹڈ کلنگ، بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور قتل و غارت جیسی سنگین وارداتوں میں واضح کمی ہو چکی ہے۔ اجلاس میں پشاور میں سرکاری ملازمین کی بس پر دہشت گردوں کے حملے پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔

imagesھگت

w460fff
یہ درست ہے کہ حالیہ دو برسوں میں طالبان دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کامیاب کارروائیاں ہوئی ہیں، شمالی وزیرستان میں کامیاب آپریشن کے نتیجے میں ملک بھر میں اطمینان محسوس کیا جا رہا ہے، آپریشن ضرب عضب کے نتیجے میں دہشت گردوں کا نیٹ ورک تباہ کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے وہ پہلے کی طرح وارداتیں کرنے میں تو کامیاب نہیں ہو پاتے، لیکن یہ سلسلہ ابھی کلی طور پر ختم نہیں ہو پایا۔دہشت گردی کے مکمل خاتمے کا تعلق ہے تو اس حوالے سے ابھی بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے، یہ حقیقت سب کے علم میں ہے کہ دہشت گرد اب بھی اپنی کارروائیاں کر رہے ہیں۔ پشاور میں آرمی پبلک سکول، چارسدہ میں باچا خان یونیورسٹی، بڈھ بیر میں ائر فورس کیمپ اور اب پشاور میں سرکاری ملازمین کی بس پر ہونے والے حملے اس بات کا ثبوت ہیں۔ دہشت گردوں کو جب بھی موقع ملتا ہے وہ کہیں نہ کہیں چھوٹی یا بڑی کارروائی کر گزرتے ہیں ۔
دہشت گردوں کا مکمل صفایا ہونے تک نہ تو ایسا کوئی اطمینان حاصل ہو سکتا ہے اور نہ ان سے غافل ہو کر بیٹھا جا سکتا ہے۔
ملک اپنی تاریخ کے نازک دور سے گزر رہا ہے اور پاکستان جس بری طرح دہشت گردی کی دلدل میں دھسنتا رہا ہے اس کا خمیازہ ملک کے تمام طبقوں اور عوام کو بھگتنا پڑا رہا ہے.دہشت گردی کی وجہ سے سماجی حالات کے ساتھ ساتھ معاشی حالات بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔دہشت گردوں نے نہ صرف پاکستان کو جہنم بنادیا ہے بلکہ خطے اور دنیا کے امن کیلئے بھی خطرات پیدا کردیئے ہیں.طالبان دہشتگرد ملک کو اقتصادی اور دفاعی طور پر غیر مستحکم اور تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور ملک اور قوم کی دشمنی میں اندہے ہو گئے ہیں ۔دہشت گرد گمراہ افراد ہیں ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ جو لوگ اسلام کے نام پر دہشت گردی کررہے ہیں، وہ اسلام کو بدنام کررہے ہیں، مسلمانوں کو مصیبت میں ڈال رہے ہیں، لوگوں کو اللہ اور رسولؐ کے خلاف کر رہے ہیں اور وہ دوست نما دشمن بن چکے ہیں۔اسلام نے وہ جنگی اصول دیے کہ حالت جنگ میں بھی کسی بوڑھے کو قتل نہیں کیا جائے گا، کسی بچے کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا، خواتین پر ہاتھ نہیں اٹھایا جائے گا ، جو جنگ میں شریک نہیں ہیں انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا ، دشمن کی فصلوں کو بھی تباہ نہیں کیا جائے گا، لوگوں کی عبادت گاہوں اور ان کے مذہبی رہنماؤں کونقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔
خودکش حملے،دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے. اسلامی ریاست کیخلاف مسلح جدوجہد حرام ہے۔ اِنتہاپسندوں کی سرکشی اسلام سے کھلی بغاوت ہے. دہشت گرد گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔ نیز دہشت گرد قومی وحدت کیلیے سب سے بڑاخطرہ ہیں۔طالبان دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں۔معصوم اور بے گناہ لوگوں ، عورتوں اور بچوں کا قتل اسلام میں ممنوع ہے۔ اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے ۔ دہشت گرد خود ساختہ شریعت نافذ کرنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام پر اپنا سیاسی ایجنڈا مسلط کرنا چاہتے ہیں جس کی دہشت گردوں کو اجازت نہ دی جا سکتی ہے۔ .پاکستان سے دہشت گردی اور اس کے مائنڈ سیٹ کو ختم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

Advertisements