لاہور خود کش دھماکے میں29بچوں سمیت 72 افراد جاں بحق


21472_1568459663464400_1397741036532942253_n

لاہور خود کش دھماکے میں29بچوں سمیت 72افراد جاں بحق

علامہ اقبال ٹاون کے علاقے میں واقع گلشن اقبال پارک میں خود کش دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت72افراد جاں بحق جبکہ300سے زائد افراد زخمی ہو گئے . خود کش دھماکے میں جاں بحق ہونیوالے بچوں کی تعداد 29 ہو گئی ۔دھماکے میں جاں بحق 56 افراد کی شناخت ہوگئی۔

12670876_1568459573464409_2838584558069077209_n

12920501_569554879878287_3326751142517834722_n

زخمیوں کو تشویش ناک حالت میں قریبی ہسپتالو ں میں منتقل کردیا گیا جن میں بچوں اور خواتین کی بڑی تعداد شامل ہے ۔دھماکا خود کش تھا، جو گلشن اقبال پارک کے اُس حصے میں ہوا جہاں بچوں کے جھولے نصب تھے اور مذکورہ مقام پر شہریوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔
خوفناک دھماکا گلشن اقبال پارک کے گیٹ نمبر ایک پر بچوں کے جھولوں کے قریب قریب شام 6بج کر 44منٹ پر زور دار دھماکا ہوا جہاں خواتین و بچوں کا رش تھا جس کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 72افراد جاں بحق اور 300 سے زائد زخمی ہوگئے۔ لوگوں کے ہاتھ ، پائوں اور ٹانگوں سمیت مختلف اعضا جسموں سے الگ ہوکر زمین پر بکھر گئے،ہر طرف خون ہی خون دکھائی دے رہا تھا ، زخمیوں کی کربناک چیخیں فضا میں گونجتی رہیں، وسیع و عریض پارک میں افراتفری کا عالم تھا ،جاں بحق اور زخمیوں میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے۔ اسپتال ذرائع کےمطابق50 میتیں شناخت کےبعدورثاکےحوالے کر دی گئیں ۔جناح اسپتال میں 122 زخمی زیر علاج ۔18 کی حالت تشویش ناک ہے۔ اسپتال ذرائع کے مطابق دم توڑنے والا وحدت کالونی کا 6 سال کا بچہ محب سیر کیلئے گیا تھا ۔

12901331_1568459646797735_6937342207228669062_o

لاہور کا خودکش دھماکا، سانگھڑ کے ایک ہی خاندان کے 7 افراد کی جان لے گیا، دھماکے میں جاں بحق سانگھڑکی کمسن ثمینہ کا باپ فیض محمد ، کمسن بھائی شیراز اور ماموں شانی بھی جاں بحق ہو گئے ہیں جبکہ خودکش دھماکے کے بعدسے ثمینہ کی ماں ابھی تک لاپتہ ہے،ثمینہ کے میزبان امجد ، اس کی بیوی زبیدہ اور بیٹی بھی جاں بحق ہو گئی۔

160327182142_suicide_bomb_blast_killed_at_least_52_people_in_lahore_640x360_epa_nocredit

news-1459109407-1321_large

56f804a83bb6d

12924427_997196547035176_4058431097409832350_n

479982-image-1459104967-459-640x480
عینی شاہدیننے بتایا کہ دھماکہ پارک میں موجود جھولوں کے نزدیک ہوا ۔پولیس نے جائے وقوعہ سے تین مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ۔بم ڈسپوزل سکواڈ کا کہنا ہے کہ خود کش حملے میں 20کلو دھماکہ خیز مواد اور بال بیرنگ استعمال ہوا ۔ریسیکیور ذرائع کا کہنا ہے کہ 300 سے زائد زخمیوں کو فاروق ہسپتال ،شیخ زائد ہسپتال اور جناح ہسپتال منتقل کردیا گیا ہے ۔اتوار کو مسیحی برداری کا ایسٹر کا تہوار اور چھٹی کے دن کی وجہ سے پارک میں کافی رش تھا جس کی وجہ سے قیمتی انسانی جانوں کا زیادہ ضیاع ہوا۔

56f8103c43059

news-1459087021-2411_large

lahoreblast72deathstoll_3-28-2016_220193_l

479982-image-1459104909-627-640x480
صدر مملکت ممنون حسین اور وزیر اعظم نواز شریف نے لاہور میں خود کش حملے کی مذمت کرتے ہوئے متاثرہ افراد سے دلی دکھ کا اظہار کیا ۔وزیر اعظم نے ہدایت کی کہ دھماکے سے زخمی ہونے والے افراد کو فوری اور بہترین طبی سہولیات فراہم کی جائیں ۔ادھر وزیر اعلیٰ پنجاب نے دھماکے کی پرزور مذمت کر تے ہوئے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ۔وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے دھماکے سے زخمی ہونے والے افراد کو امدادی وسائل فراہم کرنے کا حکم دیا ہے ۔
زیر اعظم نواز شریف اور وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے گلشن اقبال پارک دھماکے میں زخمی ہونے والوں کی جناح ہسپتال میں عیادت کی ۔وزیر اعظم نواز شریف انتہائی اہم دورہ برطانیہ و امریکہ منسوخ کرکے لاہور آئے اور جناح ہسپتال میں زخمیوں کی عیادت کی ۔ انہوں نے جناح ہسپتال میں بچوں سے بھی ملاقاتیں کیں اورانتظامیہ کو زخمیوں کی بہتر دیکھ بھال کی ۔وزیراعظم نواز شریف کی زیرصدارت سیکیورٹی سے متعلق اہم اجلاس ہوا جس میں وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار، وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور وزیراعظم کے مشیروں نے شرکت کی۔ چار گھنٹے سے زائد وقت تک جاری رہنے والے اجلاس کے دوران حکام نے وزیراعظم کو لاہورخودکش حملے سے متعلق بریفنگ دی۔ اجلاس کے دوران وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ سانحہ لاہورپردل خون کے آنسو رو رہا ہے، میرے بچے بچیوں، بہن بھائیوں کو نشانہ بنایا گیا تاہم دہشت گرد اپنا انجام دیکھ کر بزدلانہ کارروائیاں کر رہے ہیں اس لئے بحیثیت قوم ہمیں تمام تفرقات بھلا کر دہشت گردی کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ملک اس وقت قومی یکجہتی کا متقاضی ہے، ہرحال میں دہشت گردوں کو شکست دیں گے اور ہرحال میں دہشت گردوں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔
اس موقع پر وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ دہشتگردوں نے ایک بار پھر بچوں کو نشانہ بناکر بزدلی کا ثبوت دیا ہے آپریشن ضرب عضب قیام امن تک جاری رہے گا، قوم اپنے اتحاد اور جذبے سے دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے گی۔
پاکستانی طالبان کے الگ ہونے والے دھڑے جماعت الاحرار گروپ نے کہا ہے کہ ’ ہم عیسائیوں پر حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں، جو ایسٹر منا رہے تھے۔

329704_33883034

گلشن اقبال پارک میں خود کش حملہ کرنے والے مبینہ خود کش حملہ آور کی تصویر جاری کر دی گئی جبکہ حملے کی ذمہ داری کالعدم تنظیم جماعت الاحرار گروپ نے قبول کر لی۔
تصویر میں مبینہ حملہ آور صلاح الدین کو کالعدم جماعت کی فدائی فورس کا کارندہ ظاہر کیا گیا ہے۔ مبینہ تصویر میں حملہ آور کے حملے سے قبل وڈیو بیان کو بھی جلد منظر عام پر لانے کا اعلان کیا گیا ہے۔ سیکیورٹی فورسز تصویر کے حوالے سے تحقیقات کر رہے ہیں۔
http://dunya.com.pk/index.php/dunya-headline/329704_1#.VvoYA-G5haR

دہشتگردی، بم دہماکوں اور خودکش حملوں کی اسلامی شریعہ میں اجازت نہ ہے کیونکہ یہ چیزیں تفرقہ پھیلاتی ہیں۔ جہاد وقتال فتنہ ختم کرنے کیلئے ہے ناکہ مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے کیلئے۔ طالبان دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں اور ملک میں دہشتگردی پھیلا رہے ہیں۔ طالبان قرآن کی زبان میں مسلسل فساد فی الارض کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ دہشتگرد ایک رستا ہوا ناسور ہیں اورپاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اس ناسور کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔
دہشتگرد تنظیمیں جہالت اور گمراہی کےر استہ پر ہیں۔جہاد کے نام پر بے گناہوں کا خون بہانے والے دہشتگرد ہیں۔یہ دہشتگرد اسلام کو بدنام اور امت مسلمہ کو کمزور کر رہے ہیں۔ اسلام ایک بے گناہ کے قتل کو پوری انسانیت کے قتل سے تعبیر کرتا ہے۔ اسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے اور امن کے مقاصد کو آگے بڑہاتا ہے۔طالبان دہشتگردوں کو یہ علم ہونا چاہئیے کہ معصوم اور بیگناہ مردوں، عورتوں اور بچوں کےناحق قتل کی اسلام میں ممانعت ہے۔
نبی اکرم ﷺ نے جنگ کے دوران کفار کے چھوٹے بچوں اور عورتوں کو بھی قتل کرنے سے منع کیا ہے۔جہاد اسلام کی کوہان اور ایک عظیم عمل ہے جو ہمیشہ ظلم و دہشت گردی کے خاتمہ اور دنیا میں امن و امان کے قیام کیلئے ہوتا ہے۔معصوم بچوں کا قتل جہاد نہیں فساد ہے اور اسلام کے اس عظیم عمل کو بدنام کرنے کی خوفناک سازش ہے۔
اسلام وہ عظیم مذہب جوجنگ کے دوران کفار کے بچوں و عورتوں کے قتل اور پھل دار درختوں کا نقصان کرنے سے منع کرتا ہے۔ معصوم نونہالوں کا قتل کرنیوالے مسلمان کہلوانے کے حقدار بھی نہیں ہیں۔ بالفرض بعض گمراہ لوگ بچوں کی قتل و غارت گری کو درست سمجھتے ہیں۔
ہمارا مذہب اسلام امن کا درس دیتا ہے، نفرت اور دہشت کا نہیں۔خودکش حملے اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے.اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے. طالبان دورحاضر کے خوارج ہیں جو مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار دیتے ہیں۔ معصوم اور بے گناہ لوگوں ، عورتوں اور بچوں کا قتل اسلام میں ممنوع ہے۔عورتوں اور بچوں کا قتل اسلامی تعلیمات کے مطابق حالت جنگ میں بھی جائز نہ ہے۔
بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں دہشت گردوں کا بچوں کو وحشیانہ طریقے سے قتل کرنا ،ایک بہت بڑی مجرمانہ اور دہشت گردانہ کاروائی ہے اور یہپاکستانی بچوں کے ساتھ ظلم ہے اور پاکستان کی آیندہ نسلوں کے ساتھ بھی زیادتی ہے،پاکستان کی ترقی کے ساتھ دشمنی ہے پاکستانی عوام دہشت گردوں کو اس مجرمانہ کاروائی پر انہیں کبھی معاف نہ کریں گے. دنیا کا کوئی مذہب بشمول اسلام حالت جنگ میں بھی خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دیتا، طالبان نے معصوم بچے کو نشانہ بنایا ہے، یہ کہاں کی بہادری ہے اور کیسا جہاد ہے؟
دورانِ جنگ غیر مسلم خواتین کے علاوہ غیر مسلموں کے بچوں کے قتل کی ممانعت بھی اسلام کے سنہری اور انسان دوست ضابطوں میں سے ایک ہے۔ حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصولِ جنگ بھی دیکھیں اور جہاد کے نام پر کلمہ گو دہشت گردوں کی چیرہ دستیاں بھی۔ کاش ان لوگوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ان فرامین کا تھوڑا سا بھی حیاء ہوتا
امام مسلم اپنی صحیح میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کے ایک خط کا ذکر کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے تحریر فرمایا :
وَإِنَّ رَسُوْلَ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم لَمْ يَکُنْ يَقْتُلُ الصِّبْيَانَ، فَلَا تَقْتُلِ الصِّبْيَانَ.
مسلم، الصحيح، کتاب الجهاد والسير، باب النساء الغازيات يرضخ لهن ولا يسهم والنهی عن قتل صبيان أهل الحرب، 3 : 1444، رقم : 1812
’’بے شک حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (یعنی عہد نبوی کی مسلم فوج) دشمنوں کے بچوں کو قتل نہیں کرتے تھے، سو تم بھی بچوں کو قتل نہ کرنا۔‘‘
۔ اس سلسلے میں دوسری روایت ملاحظہ کریں جس میں رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بڑے سخت کلمات کے ذریعے صحابہ رضی اللہ عنہم کو غیر مسلموں کے بچے قتل کرنے سے منع فرمایا اور ان کلمات کو بار بار تاکیداً دہرایا۔ حضرت اسود بن سریع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
کُنَّا فِي غَزَاةٍ فَأَصَبْنَا ظَفَرًا وَقَتَلْنَا مِنَ الْمُشْرِکِيْنَ، حَتَّی بَلَغَ بِهِمُ الْقَتْلُ إِلَی أَنْ قَتَلُوا الذُّرِّيَةَ، فَبَلَغَ ذَالِکَ النَّبِيَّ صلی الله عليه وآله وسلم، فَقَالَ : مَا بَالُ أَقْوَامٍ بَلَغَ بِهِمُ الْقَتْلُ إِلَی أَنْ قَتَلُوا الذُّرِّيَةَ؟ أَ لَا! لَا تَقْتُلُنَّ ذُرِّيَةً. أَ لَا! لَا تَقْتُلُنَّ ذُرِّيَةً. قِيْلَ : لِمَ يَا رَسُوْلَ اﷲِ، أَلَيْسَ هُمْ أَوْلَادُ الْمُشْرِکِيْنَ؟ قَالَ : أَوَلَيْسَ خِيَارُکُمْ أَوْلَادَ الْمُشْرِکِيْنَ؟
نسائي، السنن الکبریٰٰ، کتاب السير، باب النهي عن قتل ذراري المشرکين، 5 : 184، رقم : 8616
2. دارمي، السنن، کتاب السير، باب النهي عن قتل النساء والصبيان، 2 : 294، رقم : 2463
3. حاکم، المستدرک، 2 : 133، 134، رقم : 2566، 2567
4. طبراني، المعجم الکبير، 1 : 284، رقم : 829
’’ہم ایک غزوہ میں شریک تھے (ہم لڑتے رہے یہاں تک) کہ ہمیں غلبہ حاصل ہو گیا اور ہم نے مشرکوں سے قتال کیا اور نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ لوگوں نے بعض بچوں کو بھی قتل کر ڈالا۔ یہ بات حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے جن کے قتل کی نوبت یہاں تک پہنچ گئی کہ انہوں نے بچوں تک کو قتل کر ڈالا؟ خبردار! بچوں کو ہرگز قتل نہ کرو، خبردار! بچوں کو ہرگز قتل نہ کرو۔ عرض کیا گیا : یا رسول اللہ! کیوں، کیا وہ مشرکوں کے بچے نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا تمہارے بہترین لوگ بھی مشرکوں کے بچے نہیں تھے؟‘‘
ایک روایت میں ہے کہ کسی نے عرض کیا : یا رسول اﷲ! وہ مشرکین کے بچے تھے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
خِيَارُکُمْ أَبْنَاءُ الْمُشْرِکِيْنَ. أَلَا! لَا تُقْتَلُ الذُّرِّيَة.
1. أحمد بن حنبل، المسند، 3 : 435، رقم : 15626، 15627
2. بيهقی، السنن الکبری، 9 : 77، رقم : 17868
’’تم میں سے بہترین لوگ بھی تو مشرکین ہی کے بچے تھے (یعنی اُن کے والدین بھی مشرک تھے)۔ خبردار! بچوں کو جنگ کے دوران بھی قتل نہ کیا جائے۔‘‘
اسلام میں عورتوں اور بچوں کے قتل کی حالت جنگ میں بھی ممانعت ہے۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رضی اﷲ عنهما قَالَ: وُجِدَتِ امْرَاة مَقْتُولَة فِي بَعْضِ مَغَازِي رَسُولِ اﷲِ فَنهَی رَسُولُ اﷲِ عَنْ قَتْلِ النِّسَاءِ وَالصِّبْیَانِ۔
حضرت عبد اﷲ ابن عمر رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کسی غزوہ میں ایک عورت کو دیکھا جسے قتل کردیا گیا تھا۔ اس پر آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں اور بچوں کو قتل کرنے کی ممانعت فرمادی۔
ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ایک لشکر کو جو ملکِ شام ایک مہم کے لیے روانہ ہوا تھا،انھیں اس قسم کی ہدایات دی تھیں کہ وہ بچوں کو قتل نہ کریں ، کسی عورت پر ہاتھ نہ اٹھائیں، کسی ضعیف بوڑھے کو نہ ماریں ، کوئی پھلدار درخت نہ کاٹیں، کسی باغ کو نہ جلائیں ( موٴطامالک : ۱۶۸)
طالبان دہشتگرد جو خوارج ہیں عورتوں اور بچوں کے قتل سے بھی باز نہ آتے ہیں۔ بچوں کا قتل ملا عمر کے حکم کی خلاف ورزی بھی ہے جس میں انہوں نے طالبان کو بچوں کے قتل سے منع کیا تھا۔
طالبان اسلامی احکام کی خلاف ورزی کرتے ہوئے کیا خاک اسلام نافذ کریں گے۔ان کا یہ دعوی مشکوک و ناقابل اعتبار ہے۔

Advertisements