لاہور میں دہشتگردی


CREATOR: gd-jpeg v1.0 (using IJG JPEG v62), quality = 80

لاہور میں دہشتگردی

عروس البلاد ، لاہور ، میں خودکش حملہ کے نتیجہ میں بچوں اور عورتوں کی ایک بڑی تعداد کی شہادت نے ہر دل کو غمگین و پریشان کر کے رکھ دیا ہے۔اسی سلسلہ میں وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف نے قوم سے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ سانحہ گلشن اقبال پارک پر ہر پاکستانی کا دل زخمی اور پوری قوم رنج و غم میں مبتلا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سانحہ گلشن اقبال پارک کے تمام شہدا کی بلندی درجات کے لیے دعا گو ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ہمیں معلوم ہے کہ دہشت گرد آسان اہداف کو نشانہ بنا کر کیا پیغام دینا چاہتے ہیں ،ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ دہشت گرد اپنی پنا گاہوں ،تربیت گاہوں اور اپنے انفرا سٹرکچر سے محروم ہو جانے کے بعداپنی نا کامیوں اور مایوسیوں کو چھپانے کے لیے درس گاہوں ،تفریح گاہوں اور عوامی مقامات تک آ پہنچے ہیں ۔

n00529964-b

417750aa
گزشتہ چند ماہ کے دوران پشاور ،شبقدر ،کوئٹہ ،مردان اور دوسرے مقامات پر بھی دہشت گردوں نے آسان اہداف سمجھ کر معصوم جانوں کو نشانہ بنا یا ۔ان کا کہنا ہے کہ ہم اپنے شہیدوں کے خون کے ایک ایک قطرے کا حساب رکھ رہے ہیں اور یہ حساب چکایا جا رہا ہے ۔اس حساب کی آخری قسط ادا ہونے تک ہم چین سے نہیں بیٹھیں گے ۔ دہشت گردوں کے مددگار اور سرپرست جہاں کہیں بھی چھپے ہیں انھیں ڈھونڈ نکالا جائے گا۔انھوں نے کہا کہ پاکستان کی سرزمین دہشت گردوں کے لیے تنگ کر دی گئی ہے۔

0,,19146627_303,00
فوج نے ضرب عضب کے ذریعے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا خاتمہ کر کے کافی حد تک امن قائم کر دیا ہے لیکن ملک بھر میں پھیلے ہوئے بے چہرہ اور بے شناخت دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کی ایک بڑی تعداد ابھی تک موجود ہے جو وقفے وقفے سے دہشت گردی کی کارروائیاں کرکے اپنے مذموم مقاصد کا اظہار کرتی رہتی ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ چند دنوں کی بات نہیں یہ ایک طویل اور صبر آزما مرحلہ ہے۔اس جنگ کو کامیاب بنانا صرف فوج ہی کا کام نہیں ہے سول انتظامیہ پر بھی یہ بھاری ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ شہریوں کی جان و مال کی حفاظت یقینی بنائے۔

160327172407_lahore_blast_640x360_ap_nocredit
ایسا لگتا ہے کہ دہشت گردوں نے براہ راست حملے کرنے کی حکمتِ عملی تبدیل کر لی ہے اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ آپریشن ضربِ عضب کے نتیجے میں دہشت گردوں کی قوت میں معتدبہ کمی آ گئی ہے ان کا نیٹ ورک تباہ ہو چکا ہے اور مواصلاتی رابطوں کے لئے انہوں نے جو نیٹ ورک بنا رکھا تھا وہ بھی ختم ہو گیا ہے اب وہ مختلف جگہوں پر حملہ آور ہونے کی پوزیشن میں نہیں اس لئے وہ خودکش بمباروں سے کام لیتے ہیں۔

lahore-gulshan
دہشتگردی، بم دہماکوں اور خودکش حملوں کی اسلامی شریعہ میں اجازت نہ ہے کیونکہ یہ چیزیں تفرقہ پھیلاتی ہیں۔ طالبان دہشتگردوں کو یہ علم ہونا چاہئیے کہ معصوم اور بیگناہ مردوں، عورتوں اور بچوں کےناحق قتل کی اسلام میں ممانعت ہے۔خودکش حملے اسلام میں حرام ہیں۔
نبی اکرم ﷺ نے جنگ کے دوران کفار کے چھوٹے بچوں اور عورتوں کو بھی قتل کرنے سے منع کیا ہے۔جہاد اسلام کی کوہان اور ایک عظیم عمل ہے جو ہمیشہ ظلم و دہشت گردی کے خاتمہ اور دنیا میں امن و امان کے قیام کیلئے ہوتا ہے۔معصوم بچوں کا قتل جہاد نہیں فساد ہے اور اسلام کے اس عظیم عمل کو بدنام کرنے کی خوفناک سازش ہے۔
طالبان دورحاضر کے خوارج ہیں جو مسلمانوں کے قتل کو جائز قرار دیتے ہیں۔ معصوم اور بے گناہ لوگوں ، عورتوں اور بچوں کا قتل اسلام میں ممنوع ہے۔عورتوں اور بچوں کا قتل اسلامی تعلیمات کے مطابق حالت جنگ میں بھی جائز نہ ہے۔دنیا کا کوئی مذہب بشمول اسلام حالت جنگ میں بھی خواتین اور بچوں کو نشانہ بنانے کی اجازت نہیں دیتا، طالبان نے معصوم بچے کو نشانہ بنایا ہے، یہ کہاں کی بہادری ہے اور کیسا جہاد ہے؟
اسلام سے متعلق طالبان کے نظریات اور ان کی اسلامی اصولوں سے متعلق تشریح انتہائی گمراہ کن، تنگ نظر اور ناقابل اعتبار ہے کیونکہ رسول کریم صلعم نے فرمایا ہے کہ جنگ کی حالت میں بھی غیر فوجی عناصر کو قتل نہ کیا جاوے مگر طالبان اس کو جائز سمجھتے ہیں۔ طالبان کا جہاد ،پاکستان کے اور مسلمانوں کے خلاف مشکوک اور غیر شرعی ہے۔ یہ کیسا جہاد ہے کہ خون مسلم ارزاں ہو گیا ہے اور طالبان دائیں بائیں صرف بے گناہ اور معصوم مسلمانوں کے قتل کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ شیعہ اور بریلوی حنفی مسلمانوں کو وہ مسلمان نہ جانتے ہیں۔ طالبان ،جاہلان جہاد اور قتال کے فرق کو اور ان سے متعلقہ بنیادی تقاضوں سے کماحقہ واقف نہ ہیں۔ طالبان سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں صرف وہ ہی مسلمان ہیں اور باقی سب کافر بستے ہیں . طالبان پاکستان کے موجودہ آئین، سیاسی اور سماجی نظام و ڈہانچےکو غیر اسلامی سمجھتے ہیں اور اس سیاسی و سماجی ڈہانچے کو بزور طاقت گرانے کے خواہاں ہیں۔ طالبان جمہوریت کو بھی غیر اسلامی گردانتے ہیں جبکہ مفتی اعظم دیو بند کا خیال ہے کہ طالبان اسلامی اصولوں کو مکمل طور پر نہ سمجھتے ہیں۔
طالبان دیوبندی مسئلک کے پیروکار ہیں مگر تمام دیوبندی طالبان نہ ہیں۔ اہل حق دیوبندی یقیننا طالبان کی خلاف شریعہ و خلاف اسلام حرکات سے اتفاق نہ رکھتے ہیں ۔ مگر دیو بندی دوستوں کو اس امر کا احساس ہونا چاہئیے کہ طالبان ان کےمسئلک کی نیک نامی و شہرت پر ایک بدنما داغ ہیں؟ اور طالبان کی ظلم و زیادتی کے خلاف انہیں آواز اٹھانی چاہئیے اور برائی سے روکنا چاہئیے؟
پاکستانی طالبان کو سمجھنا چاہیے کہ بم دہماکے اور خودکش حملے غیرشرعی اور حرام فعل ہیں۔ بے گناہ طالبات، عورتوں، بوڑھوں، ، جنازوں، ہسپتالوں، مزاروں، مسجدوں اور مارکیٹوں پر حملے اسلامی شریعہ کے منافی ہیں. علمائے اسلام ایسے جہاد اور اسلام کو’’ فساد فی الارض ‘‘اور دہشت گردی قرار دیتے ہیں کیونکہ ایسا جہاد فی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ ہے۔ قرآن مجید، مخالف مذاہب اور عقائدکے ماننے والوں کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے کا نہیں بلکہ ’ لکم دینکم ولی دین‘ اور ’ لااکراہ فی الدین‘ کادرس دیتاہے. ﷲ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک مومن کے جسم و جان اور عزت و آبرو کی اَہمیت کعبۃ اﷲ سے بھی زیادہ ہے۔ ’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنھما سے مروی ہے کہ انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اور یہ فرماتے سنا: (اے کعبہ!) تو کتنا عمدہ ہے اور تیری خوشبو کتنی پیاری ہے، تو کتنا عظیم المرتبت ہے اور تیری حرمت کتنی زیادہ ہے، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے! مومن کے جان و مال کی حرمت اﷲ کے نزدیک تیری حرمت سے زیادہ ہے اور ہمیں مومن کے بارے میں نیک گمان ہی رکھنا چاہئے۔‘‘ رسول اکرم کی ایک اور حدیث میں کہا گیا ہے کہ ”مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔

کیا طالبان ان احادیث کی رو شنی میں مسلمان کہلانے کے حقدار ہیں؟

کیا طالبان انسانیت کے معیار پر پورے اترتے ہیں اور انسان کہلانے کے حقدار ہیں؟

طالبان پاکستان میں کونسا اسلامی نظام نافذ کر نا چاہتے ہیں؟
ہمار ا دین امن ،سلامتی اور بھائی چارے کا دین ہے ،اسلام نے ایک انسان کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا ۔ہم ایسے رسول ﷺکے امتی ہے جو تمام جہانوں کے لیے رحمت بن کر آئے ،جنہوں نے انسانیت کو حسن اخلاق کا سبق دیا ،اللہ اور رسول کے نام پر لاقانونیت ،جلاﺅ گھیراﺅ ،سرکاری املاک کو نقصان پہنچانا ،بد امنی پھیلانا اور عام مخلوق کے لیے مشکلات پیدا کرنا کسی طور پر بھی قابل قبول نہیں۔
دہشت گردی ایک عالمی چیلنج بن چکا ہے اور انسانیت کے دشمن اخلاق اور جغرافیے کی حدود سے نکل چکے ہیں ۔
معاشرے کے تمام طبقوں کے علاوہ علماء کرام کا بھی فرض ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف عوام کی رہنمائی کریں اور ان نظریات کو باطل قرار دیں جن سے کسی بھی سطح پر دہشت گردی کو تقویت ملتی ہو۔

Advertisements