افغان طالبان نے آپریشن عمری شروع کر دیا


news-1460470238-9510_large

افغان طالبان نے آپریشن عمری شروع کر دیا

افغان طالبان نے ملک بھر میں سالانہ ’موسم بہار کے حملوں‘ کا اعلان کر دیا ،اس مرتبہ اس عسکری کارروائی کا نام سابق جنگجو کمانڈر ملا محمد عمر کے نام پر’ ’آپریشن عمری‘‘ رکھا گیا ہے۔طالبان نے کہا ہے کہ اہم اور حساس اہداف کو حکمت عملی کے تحت خودکش حملہ آوروں کےذ ریعہ نشانہ بنایا جائے گا اور حکومتی اہداف پر بڑے پیمانے پر حملے کئے جائیں گے وغیرہ وغیرہ۔

220F5A98-7BF8-40CA-A108-372487706FB6_w640_s_cx0_cy33_cw99
ساری دنیا میں موسم بہار زندگی، پھولوں کی رنگا رنگی، میلوں ٹھیلوں اور امید کی نوید لاتا ہے ۔ پھولوں کی بھینی بھینی خوش بو دل کو لبھا تی ہے۔ خوش گوار ہوا کے دوش پر پرندے میٹھے گیت گاتے ہیں۔ اکژ تتلیوں کے غول دور دراز سے اڑتے اپنے من پسند پھولوں سے دل بہلانے باغوں اور باغیچوں کا رخ کرتے ہیں۔ شہد کی مکھیوں کا تو یہ من بھاتا موسم ہے۔ انہیں جی بھر کر پھولوں کا تازہ اور شیریں رس پینے کا موقع جو مل جاتا ہے۔
بچوں کا بھی جی للچاتا ہے کہ باغوں میں دوڑتے پھریں، خوب کھیلیں کودیں اور پھول پودوں سے بھی دوستی کریں۔کچھ لوگ جو باغبانی کا شوق رکھتے ہیں گھر کے صحن یا گملوں میں پھولوں والے پودے لگا رکھتے ہیں۔ موسم بہار میں ان پر تازہ پتیاں اگ آتی ہیں۔ کچھ ہی دن میں رنگ رنگ کے پھول سندر خوش بو ،دینے لگتے ہیں۔ پو پھٹنے کے بعد پھولوں کا مدہم آواز کے ساتھ کھلنا بہت حیران کن منظر ہوتا ہے۔

35683349

indexvderdc

160306033122_afghan_taliban_640x360_bbc_nocredit

جبکہ افغانستان میں موسم بہار جنگ اور تباہی کا پیغام لاتا ہے۔ افغانستان میں موسم بہارکی آمد پر کابل کی حکومت اور طالبان کی طرف سے ایک دوسرے کے خلاف آپریشن شروع کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
افغان حکومت نے کہا ہے کہ وہ طالبان کے خلاف ’شفق‘ کے نام سے آپریشن شروع کر چکی ہے جبکہ طالبان نے شدت پسند تنظیم کے بانی سربراہ ملا عمر کے نام کی نسبت سے’عمری آپریشن‘ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ آپریشن شروع کرنے کے اعلانات سے افغانستان میں قیام امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کو ایک دہچکا لگا ہے۔حکومت اور طالبان کے درمیان براہ راست مذاکرات مارچ میں شروع ہونا تھے جو ابھی تک نہیں ہو سکے ہیں اور فریقین کی جانب سے آپریشن شروع کرنے کے اعلانات سے امن کا عمل مزید متاثر ہو سکتا ہے۔
طالبان بھی کیا عجب مخلوق ہیں کہ اس آپریشن کا نام ملا عمر کے نام پر عمری آپریشن رکھا ہے۔ ان کی وفات کے بعد ملا عمر کومزید جنگ و جدال اور تباہی اور بربادی کی نہیں ، دعاوں، قران پڑہ کر بخشنے, قران کا ختم کرانا اور دوستوں، عزیزوں اور لوگوں کی دعاوں کی ضرورت ہے ناکہ ملا عمر کو تباہی و بربادی کےذ ریعہ مزید بد دعاوں کی۔ افغانستان کو امن کی ضرورت ہے مزید جنگ اور تباہی بربای و خون خرابہ کی نہیں۔
اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال افغانستان میں شدت پسندی کے واقعات میں 11 ہزار سے زائد شہری ہلاک و زخمی ہوئے تھے اور طالبان اب پھر خودکش حملے کریں گے جس سے مزید معصوم و بے گناہ لوگوں، بچوں اور عورتوں کی ہلاکت کا خطرہ ہے۔
طالبان کو سمجھنا چاہیے کہ بم دہماکے اور خودکش حملے غیرشرعی اور حرام فعل ہیں۔ بے گناہ و معصومطلبا وطالبات، عورتوں، بوڑھوں، ، جنازوں، ہسپتالوں، مزاروں، مسجدوں اور مارکیٹوں پر حملے اسلامی شریعہ کے منافی ہیں. علمائے اسلام ایسے جہاد اور اسلام کو’’ فساد فی الارض ‘‘اور دہشت گردی قرار دیتے ہیں کیونکہ ایسا جہاد فی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ ہے۔
رسول اکرم کی ایک اور حدیث میں کہا گیا ہے کہ ”مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے۔
خودکش حملے،دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے اور قران و حدیث میں اس کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے. اسلام امن و سلامتی کا مذہب ہے اور امن کے مقاصد کو آگے بڑہاتا ہے۔طالبان دہشتگردوں کو یہ علم ہونا چاہئیے کی اسلامی ریاست کیخلاف مسلح جدوجہد حرام ہے۔ معصوم اور بیگناہوں کےناحق قتل کی اسلام میں ممانعت ہے۔ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھوں سے دوسرے مسلمانوں کو گزند نہ پہنچے۔ اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے اور دہشتگرد اسلا م اور  اٖفغانستان اور امن کے دشمن ہیں ، ان کی اختراع وسوچ اسلام و  افغانستان کے مخالف ہے ۔اسلام کا پیغام امن ،محبت، بھائی چارگی اور احترام انسانیت ہے۔

Advertisements