افغانستان میں اعلی افسر سمیت 8 اہلکار ہلاک


news-1460619875-1838_large

افغانستان میں اعلی افسر سمیت 8 اہلکار ہلاک

افغانستان کے صوبے تخار میں سڑک کنارے نصب بم حملے میں اعلیٰ سیکیورٹی افسر سمیت 8 اہلکار ہلاک ہو گئے۔افغانستان کے نشریاتی ادارے خاما پریس کی رپورٹ کے مطابق صوبہ تخار میں قندوز ہائی وے کے کمانڈر کے قافلے پر سڑک کنارے نصب بم سے حملہ کیا گیا۔حملے میں پولیس کمانڈر اور ان کے 7 محافظ ہلاک ہوئے۔

m_id_407481_afghanistan_1375517376_540x540
اس حملے کی ذمہ داری فوری طور پر کسی بھی گروہ نے قبول نہیں کی تاہم اس طرح کی کارروائیاں عام طورپر طالبان کی جانب سے کی جاتی رہی ہیں۔
واضح رہے افغانستان کا شمال مشرقی صوبہ تخار دیگر صوبوں کے مقابلے میں پرتشدد کارروائیوں کا زیادہ شکار ہے۔اسی صوبے میں طالبان سمیت دیگر گروہ متعدد بار سیکیورٹی اداروں کو نشانہ بنا چکے ہیں۔

570f5926c8a59
خیال رہے کہ 2 روز قبل افغان طالبان نے موسم بہار کےبڑے آپریشن کا اعلان کیا تھا، اس آپریشن کو طالبان کی جانب سے ‘عمری آپریشن’ کا نام دیا گیا۔
http://www.dawnnews.tv/news/1036038/
افغان طالبان کی دہشتگردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے.کسی بھی مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے،اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔
علمائے اسلام ایسے جہاد کو’’ فساد فی الارض ‘‘اور دہشت گردی قرار دیتے ہیں اور یہ جہاد فی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ ہوتا ہے کیونکہ جہاد کرنا حکومت وقت اور ریاست کی ، نا کہ کسی گروہ یا جتھے کی ذمہ داری ہوتا ہے۔ طالبان کا نام نہاد جہاد ،جہاد نہ ہے بلکہ فساد اور قوم میں تفرقہ ہے۔
طالبان انتہا پسند و دہشت گرد افغانستان کا امن تباہ کرنے اور اپنا ملک تباہ کرنے اور اپنے لوگوں کو مارنے پر تلے ہوئے ہیں۔

Advertisements