خودکُش حملے، بدترین جرم اور ناقابل معافی گناہ


خودکُش حملے، بدترین جرم اور ناقابل معافی گناہ

مسز ماہ طلعت نثار جمعـء 15 اپريل2016

491592-blast-1460661013-419-640x480

سورۂ بنی اسرائیل میں رب کائنات نے ارشاد فرمایا ’’ہم نے بنی نوع انسان کو قابل تعظیم بنایا ‘‘ اسلام، تکریم انسانیت کا درس دیتا ہے۔ اسلام ہی وہ واحد مذہب ہے جس نے روئے زمین کے تمام انسانوں کو بلا امتیاز رنگ و نسل قابل احترام قرار دیا۔ ہماری زندگی اﷲ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت اور امانت ہے۔ رب ذوالجلال زندگی ایک بار عطا کرتا ہے، اسی وجہ سے کارخانۂ قدرت میں اس سے زیادہ قیمتی کوئی شے نہیں۔ یہ نعمت ایک بار انسان کے ہاتھ سے چلی جائے تو کوئی اسے لوٹانے پر قادر نہیں۔

اﷲ تعالیٰ نے انسان کو بہترین مخلوق قرار دے کر اسے اشرف المخلوقات کا اعزاز دیا۔ یہ زندگی انعام الٰہی ہے، خالق کائنات نے انسانی زندگی کی عظمت اور قیمت سورۃ المائدہ میں اس طرح بیان فرمائی ہے۔
’’جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا، تو گویا اس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی۔‘‘
یہ آیت دو طرح کے لوگوں کی وضاحت کرتی ہے۔ ایک تو وہ جو انسانی جان کا احترام نہ کرنے والا ایسا سنگ دل قاتل ہے، جو معصوم و بے گناہ انسانوں کی جان لینے سے بھی نہیں ہچکچاتا، ایسے سفاک قاتل نے پوری انسانیت کو قتل کیا۔ اس کا سخت دل انسانی عظمت کا احترام نہیں کرتا اس لیے وہ پوری انسانیت کا دشمن ہے۔ یہاں یہ بات بھی قابل غور ہے کہ کسی کو قتل کرنا اور زمین میں فساد پھیلانا دونوں جرم اور عظیم گناہوں کو ایک ساتھ بیان کیا گیا ہے یعنی دونوں گناہ ایک ہی زمرے میں آتے ہیں۔ دوسرا تذکرہ ایسے انسان کا ہے جو حیات انسانی کے جذبے سے سرشار، محبت و ہم دردی کا پیکر ہے، جو انسانی جان کی حرمت و عظمت کو پہچانتے ہوئے لوگوں کو ناحق قتل ہونے سے بچالیتا ہے اور اس کا یہ عمل خالق کائنات کے نزدیک تمام انسانوں کو حیات نو بخش دینے کے مترادف ہے۔ ایک مسلمان کا دوسرے مسلمان پر سب سے بڑا حق اس کی جان و مال کا احترام ہے۔
سورہ النسا میں ارشاد ربانی ہے ’’اور جو شخص کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کر ڈالے تو اس کی سزا جہنم ہے، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اﷲ اس پر غضب ناک ہوا اور اس پر لعنت کی اور اس کے لیے بڑا عذاب تیار کر رکھا ہے‘‘
مندرجہ بالا آیت مبارک میں قتل عمد (یعنی جان بوجھ کر قتل کرنا) کی سزا بیان ہوئی ہے۔ اس آیت کو پڑھ کر ایک مسلمان کا دل لرز اٹھتا ہے کہ اﷲ نے صاف الفاظ میں فرما دیا ہے کہ کسی مسلمان کو جان بوجھ کر قتل کرنے والے پر خالق کائنات غصے ہوتا ہے اور نہ صرف غصے، بل کہ اپنی رحمت سے بھی دور کردیتا ہے۔ اس پر اﷲ کی لعنت ہے اور اس کے لیے بڑا عذاب تیار ہے۔
غرض یہ کہ بے گناہ انسانوں کا قتل ایک سنگین جرم، قابل لعنت و مذمت کام ہے۔ سورۂ بنی اسرائیل میں اس کی شدید مذمت ان الفاظ میں کی گئی ہے۔ ’’خبردار کسی جان کو جس کا مارنا اﷲ نے حرام کردیا ہو، ہرگز ناحق قتل نہ کرو‘‘
سورۃ النسا میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو، بے شک اﷲ تعالیٰ تم پر بہت مہربان ہے۔‘‘
مذکورہ آیت مبارکہ میں اپنے آپ کو ہلاک نہ کرو کا مطلب نہ ہی دوسروں کی جان سے کھیلو اور نہ ہی اپنی جان کو ہلاکت میں ڈالو ہے۔ اپنے آپ کو ہلاک کرنے کا ہر اقدام ’’خودکشی‘‘ کہلاتا ہے، خواہ وہ کسی صورت میں ہو، اسلام میں قطعاً حرام ہے۔ بہ حیثیت مسلمان ہمارا یہ عقیدہ ہے کہ زندگی اور موت اﷲ کے اختیار میں ہے جب کہ خودکشی کرنے والا اس عقیدے کی نفی کرتا ہے۔
خودکشی کی طرح خودکش حملے بھی اسلام میں قطعاً حرام اور ناجائز ہیں۔ خودکش حملہ آور اگر یہ سمجھتا ہے کہ وہ جہاد کر رہا ہے اور سیدھا جنت میں جائے گا تو یہ قطعاً غلط ہے۔ جہاد تو اس وقت فرض ہوتا ہے جب ریاست کی طرف سے جہاد کا اعلان ہو اور غیر مسلموں کے ساتھ جنگ ہو۔ اپنے طور پر گنجان آبادی میں جاکر ایک خدا، ایک رسولؐ اور ایک کتاب پر ایمان رکھنے والوں اور دیگر بے قصور لوگوں کی جانوں سے کھیلنا ہرگز جہاد نہیں ہے۔

211

رحمت عالمؐ نے فرمایا ’’مسلمان کو گالی دینا فسق (گناہ کا کام) ہے اور اس سے لڑنا کفر ہے۔‘‘ ایک اور موقع پر حضور پاکؐ نے ارشاد فرمایا ’’جو ہم پر ہتھیار اٹھائے، ہم میں سے نہیں۔‘‘ خودکش حملہ آور تو لڑنے اور ہتھیار اٹھانے سے بھی کئی درجے بدترین فعل کا ارتکاب کرتا ہے۔ خود اپنے آپ کو اور دوسرے بے گناہ، بے قصور اور معصوم بچوں، خواتین، بوڑھوں، جوانوں کو خاک و خون میں لت پت کردینے والا، جسم کے ٹکڑے ٹکڑے کردینے والا، معذور کردینے والا، بدن کو جلاکر رکھ کردینے والا، کیا پوری انسانیت کا قاتل نہیں۔۔۔۔؟
انسان جس کو اﷲ تعالیٰ نے اپنی خلافت و نیابت کا تاج پہنایا، اشرف المخلوقات کے شرف سے نوازا، احسن تقویم کا خطاب عطا فرمایا، کیا خود کش حملہ آور اس کی عظمت کو تار تار نہیں کرتا؟ خودکش حملہ آور نہ صرف اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال کر گناہ عظیم کا مرتکب ہوتا ہے، بل کہ چند لمحوں میں ہنستے بستے خاندانوں کی زندگی کو سسکیوں، اداسی اور اندھیروں میں بدل کر ایسا دکھ دے جاتا ہے جس کی تلافی کبھی ممکن نہیں۔
خود کش حملوں کی ترغیب دینا اور ایسے سفاک اور گم راہوں کا ساتھ دینے والے، ان کی مدد اور ان سے روابط رکھنے یا راہ نمائی کرنے والے تمام افراد اس گناہ عظیم میں برابر کے شریک ہیں۔ اس کے علاوہ قومی و نجی املاک کو نقصان پہنچانا، قانون کو ہاتھ میں لینا، اشتعال پھیلانا، توڑ پھوڑ کرنا، بسوں، گاڑیوں کو نذر آتش کرنا زمین میں فساد برپا کرنے کے مترادف ہے، جس کو اﷲ تعالیٰ نے قرآن پاک میں بار بار منع فرمایا ہے۔
امام بارگاہوں اور مساجد میں دھماکے، اسکولوں اور یونی ورسٹیوں میں دھماکے، بازاروں اور باغات میں دھماکے، انسان یہ سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ اتنا گھناؤنا جرم ایک مسلمان کیسے کرسکتا ہے۔۔۔؟ اسلام تو امن و سلامتی کا مذہب ہے۔ اسلام تو پُرامن معاشرے کا علم بردار ہے۔
اسلام تو ایک ایسا معاشرہ تشکیل دیتا ہے جس میں اتحاد و یگانگت، اخوت و رواداری، مساوات اور عدل و انصاف کا دور دورہ ہو ۔ حضور پاکؐ سارے عالم کے لیے رحمت بن کر آئے، آپؐ نے تو دشمنوں سے بھی اچھے سلوک کی تعلیم دی۔
رحمت عالمؐ نے فرمایا ’’بہترین انسان وہ ہے جو لوگوں کو نفع دیتا ہے‘‘ یعنی صحیح معنوں میں انسان کہلانے کے قابل وہ ہے جو دوسروں کو نفع پہنچائے، دوسروں کے کام آئے۔ انسان کا درجہ اسی قدر بلند ہوتا جاتا ہے، جس قدر مخلوق خدا کی خدمت کی جائے۔ خالق کائنات فرماتا ہے ’’مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست اور ہم درد ہیں‘‘ بہ ہر حال ان حالات میں ایک مسلمان ہونے کے ناتے سارے دینی و سیاسی اختلافات کو بھلا کر متحد ہوکر معاشرے کے تمام افراد پر یہ ذمے داری عاید ہوتی ہے کہ اپنے ارد گرد مشکوک افراد پر کڑی نظر رکھیں، برائی دیکھتے ہوئے، انسانی جانوں کا ضیاع دیکھتے ہوئے خاموشی نہیں اختیار کرنی چاہیے، یہ بھی گناہ ہے کیوں کہ حضورؐ کا فرمان ہے ’’تم میں سے جو کوئی برائی دیکھے تو اپنے ہاتھ سے روک دے اور اگر یہ طاقت نہ ہو تو اپنی زبان سے روک دے اور اگر یہ بھی نہ ہوسکے تو اپنے دل میں برا جانے اور یہ ایمان کا ادنیٰ ترین درجہ ہے۔‘‘
امت محمدیؐ کی غایت تخلیق اﷲ تعالیٰ نے یہی بیان کی ہے کہ وہ دنیا میں نیکیوں کی اشاعت کرے اور برائی کو روکے۔ ’’تم بہترین امت ہو جسے لوگوں کے لیے عالم وجود میں لایا گیا ہے، تم اچھی باتوں کا حکم دیتے اور بری باتوں سے روکتے ہو۔‘‘ مذکورہ آیت میں مسلمانوں کو بہترین امت اسی لیے قرار دیا گیا ہے کہ اس کا کام نیکی کو فروغ دینا اور برائی کو مٹانا ہے اسی کارکردگی کی بنا پر اسے یہ ’’تمغہ فضیلت‘‘ عطا ہوا۔
اﷲ تعالیٰ ہمیں اپنے تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اتحاد و یگانگت کا ثبوت دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین
( بشکریہ ایکسپریس نیوز)
http://www.express.pk/story/491592/

Advertisements