طالبان کو’’آپریشن عمری‘‘ بند نہ کرنے پر سنگین نتائج کی دہمکی


493455-AfghanTalibanPhotoReuters-1460928678-812-640x480

طالبان کو’’آپریشن عمری‘‘ بند نہ کرنے پر سنگین نتائج کی دہمکی

افغان امن عمل کو بحال کرنے کے لیے پاکستان نے افغان طالبان کو متنبہ کیا ہے کہ وہ اپنے ’’آپریشن عمری‘‘ کے حوالے سے کارروائیاں روک دیں ورنہ دوسری صورت میں نتائج بھگتنے کیلیے تیار رہیں۔

indexvderdc
یاد رہے کہ طالبان نے گذشتہ ہفتے افغان حکومت اور امریکی اتحادی افواج کے خلاف نئے حملوں کے آغاز کا اعلان کیا ہے اور ان کارروائیوں کو اپنے مرحوم سربراہ ملا عمر کے نام سے ’آپریشن عمری‘ کا نام دیا ہے۔ سیاسی حلقے افغان طالبان کے اس اعلان کو افغان امن عمل کیلیے بڑا دھچکا قرار دے رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے نئے حملوں کا اعلان4ملکی کمیٹی کی جانب سے افغان امن عمل کیلیے کوششوں کو متاثرکرے گا، پاکستان کی جانب سے افغان طالبان پرزوردیاگیاہے کہ وہ تشدد کا راستہ ترک کردیں اورمذاکرات شروع کریں، موسم بہار میں طالبان کی جانب سے نئے حملوں کے آغازکا اعلان انتہائی مایوس کن بات ہے۔ حکام کا کہناہے کہ رابطہ کاروں کے توسط سے افغان طالبان کی قیادت کوواضح پیغام پہنچادیاگیاہے کہ مذاکرات سے انکارکی انھیں بھاری قیمت چکاناپڑے گی۔
راستہپاکستان حکومت کی کوششوں سے افغان حکومت اور افغان طالبان میں جولائی2015میں پہلی بار براہ راست مذاکرات شروع ہوئے تھے لیکن ملاعمر کی موت کی خبر منظرعام پر آنے اور طالبان کے درمیان آپس کے اختلافات کے باعث مذاکرات تعطل کا شکارہوگئے تھے۔ وزیراعظم کے مشیرخارجہ سرتاج عزیزنے واشنگٹن میں امریکی تھنک ٹینک سے خطاب میں پہلی بار اس بات کا اعتراف کیاتھاکہ افغان طالبان کی قیادت اپنے اہل خانہ سمیت پاکستان میں مقیم ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہاتھاکہ پاکستان نے افغان طالبان کی قیادت کی نقل وحرکت پر پابندیاں لگانے کا دبائو ڈالتے ہوئے مذاکرات شروع کرنے پرزوردیا تھا اور اس بات کی تردید کی تھی کہ افغان طالبان کی قیادت کو پاکستان میں کوئی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔

indexbde
لیکن یہ بات ابھی واضح نہیں کہ ’آپریشن عمری‘ بند کرنے اور مذاکرات شروع کرنے کے حوالے سے پاکستان کا انتباہ کارگرثابت ہوگا یا نہیں، یہ اطلاعات ہیں کہ پاکستان حکومت کی جانب سے پابندیاں لگانے قبل متعدد افغان طالبان رہنما پاکستان سے انخلا کرچکے ہیں یا افغانستان واپسی کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔ مشکلات کے باوجودافغان عمل کے حوالے سے پاکستان اور4ملکی کمیٹی نے ہمت نہیں ہاری ہے اور کوششیں جاری ہیں۔
http://www.express.pk/story/493455/
افغانستان میں قیام امن کا مسئلہ انتہائی سنگین اور پیچیدہ ہے۔ طالبان کے تمام دھڑوں کو مذاکرات کی میز پر لاکر اکٹھا بٹھانا نہایت مشکل کام ہے۔ امیدیں بندھتی ہیں اور ٹوٹتی ہیں۔ طالبان کے بعض دھڑے امن مذاکرات میں شرکت سے مسلسل گریزاں ہیں۔ بار بار کی کوششوں کے باوجود ان سب کو ایک میز پر جمع کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔وقت اور حالات کا تقاضا ہے کہ طالبان کی قیادت افغانستان میں امن کے قیام کی کوششوں کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے اپنے موقف میں غیر معمولی لچک کا مظاہرہ کرے کیونکہ چار ملکی گروپ کی کوششیں صرف اسی صورت میں کامیابی کی جانب گامزن ہوسکتی ہیں۔ اگر خدانخواستہ ایسا نہ ہوا تو حالات مزید خرابی کی طرف چلے جائیں گے اور مزید مشکلات حائل ہوجائیں گی۔ مگر بعض خبروں سے ایسا لگتا ہے ہے کہ طالبان نے پاکستان کا پریشر ماننے سے انکا ر کر دیا ہے کیونکہ طالبان کی حالیہ کامیابیوں نے یہ مساوات تبدیل کر کے رکھد ی ہے۔ کیوں پیچھے ہٹو جب تم آگے ہو۔پاکستان اور افغان حکام پر امید ہیں کہ مذاکرات جلد شروع ہو جائیں گے۔یہ بھی شنید ہے کہ طالبان اور افغانستان واپس جا رہے ہیں۔
افغان طالبان کو بھی ان مذاکرات میں بلاکسی شرط ،شامل ہو کر اس کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئیے۔مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کیلئے فریقین کے رویوں میں لچک ضروری ہے دونوں فریقوں کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ان کے رویوں میں لچک نہ ہونے کے باعث انہیں رابطہ گروپ کے عدم اعتماد اور برہمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔
افغانستان میں ہر روز بم دھماکے ہو رہے ہیں اور بے گناہ اور معصوم مرد ، عورتوں اور بچوں کا ناحق قتل ہورہا ہے اور ملک کو تباہ کیا جا رہا ہے اور اس طرح ملک بجائے آگے بڑہنے کے پیچھے کی طرف جا رہا ہے۔ ان حالات کی وجہ سے اٖفغان طالبان کو چاہئیے کہ خانہ جنگی کا حل تلاش کرنے اور مذاکرات پر جانے کے لئے اپنا کردار ادا کریں۔
طالبان لیڈروں میں اختلافات کی وجہ سے مذاکرات کے امکانات روشن ہیں۔مزاکرات میں شامل ہونے سے طالبان دہڑوں کو دوسروں پر فوقیت حاصل ہو جائے گی کیونکہ مذاکراتی دہڑے کو بین الاقوامی قبولیت حاصل ہو جائے گی، جس کی وہ ایک عرصہ سے خواہش کر رہے تھے۔
مذاکرات اور پر امن جمہوری جدوجہد سے ہی مسائل کا دیر پا اور پر امن حل نکالا جانا ممکن ہے۔
اگر مذاکرات کے ذریعے دہشت گردی کا کوئی حل نکل سکتا ہے تو اس سے اچھی کوئی بات نہ ہے کیونکہ اس سے خون خرابہ ختم ہو گا اور اٖفغانستان میں امن قائم ہو سکتا ہے اور افغان طالبان قومی سیاسی دھارے میں بھی آ سکتے ہیں اور پر امن افغانستان ترقی کرے گا اور خطے میں امن و استحکام آئے گا مگر طالبان کو بھی امن کی اس خواہش کو افغانستان کی کمزوری نہ سمجھنا چاہئیے اور اقفہام و تفہیم سے مذاکرات شروع کرنے چاہئیے اور ان کو نیک نیتی سے آگے بڑہانا چاہئیے کیونکہ اس میں ہی تمام افغان عوام ، افغانستان اور خطے کی بھلائی مضمر ہے۔

Advertisements