لاہور میں دہشتگردی کا بڑا خطرہ


556bf28a592afaaa

لاہور میں دہشتگردی کا بڑا خطرہ

پاکستان کے سکیورٹی اداروں نے حکومت پنجاب کو لاہور میں ممکنہ دہشتگردی حملے بارے وارننگ جاری کردی ہے اپنے ایک مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ طالبان دہشتگرد سجنا گروپ لاہور میں کسی بھی وقت دہشتگردی کا بڑا حملہ کرسکتے ہیں ۔ سجنا گروپ کے درجنوں دہشتگرد اپنے مذموم مقاصد کے لئے لاہور اور اس کے گردونواح میں پہنچ گئے ہیں یہ وارننگ ایڈیشنل آئی جی پنجاب لاہور اور کمشنر لاہور کو دی گئی ہے .

198971_65738365دہشتگردی

imagesھگت

مراسلہ میں کہا گیا ہے کہ سندھ سے چند دہشتگرد جنوبی پنجاب کے راستے کے ذریعے بھی لاہور پہنچے ہیں جو سجنا گروپ کے دیگر دہشگردوں سے ملیں گے سکیورٹی اداروں نے حکومت پنجاب کو ہدایت کی ہے کہ دہشتگرد حملے کے خطرے کے پیش نظر فول پروف سکیورٹی انتظامات کئے جائیں تاکہ دہشتگردی لاہور میں بڑی کارروائی نہ کرسکیں پنجاب حکومت کو کہا گیا ہے کہ تمام متعلقہ اداروں کو سکیورٹی خطرہ بارے آگاہ کیا جائے اور شہر و صوبے میں دہشتگردوں اور مشتبہ افراد پر کڑی نگاہ رکھی جائے اور نشاندہی کئے گئے علاقے میں سرچ آپریشن فوری شروع کیاجائے
http://www.bathak.com/pakistan/sajna-group-security-agencies-lahore-67584
http://daily.urdupoint.com/news/2016-04-20/important-news-214126.html
http://javedch.com/pakistan/2016/04/19/152600
طالبان دہشت گردوں کی جانب سے خودکش حملوں کے خدشات کے پیش نظرپنجاب بڑے شہروں میں سکیورٹی ریڈ الرٹ کر دی گئی جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ممکنہ دہشت گردی کے واقعات سے نمٹنے کیلئے شہر میں وسیع پیمانے پر سرچ آپریشن کے دوران 13 غیر ملکیوں سمیت 29 مشکوک افراد کو گرفتار کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ جس کے بعد ائر پورٹ، سیاسی شخصیات، لاری اڈوں، سرکاری عمارات کے علاوہ سرحدی علاقوں میں بھی سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے جبکہ برٹش قونصل اور غیر ملکیوں کی رہائش گاہوں پر پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی ہے۔
طالبان اور طالبان کے اتحادی و ساتھی دہشتگرد ایک سانپ کی مانند ہیں اور ڈنک مارنا ان کی جبلت ہے، چاہے سانپوں کی جتنی مرضی خدمت کی جائے یہ ڈنک مارںے سے باز نہ آتے ہیں۔ یہ ملک کی اہم شخصیتوں کو ہلاک و دہشتگردی کر کے ملک میں امن و امان کی صورتحال پیدا کر کے ملک کو عدم اتحکام میں مبتلا کرنا چاہئتے ہیں اس طرح اپنے آقاوں کی خدمت کر رہے ہیں ۔
چونکہ طالبان اور ان کے ساتھی دہشتگردوں کا ابھی مکمل قلع قمع نہ ہوا ہے اور ان سے ہر حالت میں خبردار و ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے اور ان سے کسی نیکی کی توقع کرنا فضول ہے۔ طالبان پاکستان ،پاکستانی عوام اور اسلام کےد شمن ہیں اور ہمیں ان سے ہر دم چوکنا و ہوشیار رہنا ہو گا اور جہاں بھی یہ سر نکالیں ان کا خاتمہ کرنا ہو گااور ان کو دوبارہ اپنے گل کھلانے کا موقع بہم نہ پہنانا ہو گا کیونکہ یہ پاکستان اور اسلام دشمنی ظاہر کرنے کا کو ئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے ہیں۔
طالبان دہشتگرد ایک مشترکہ خصوصیت کے حامل ہیں اور وہ انارکسٹ فلسفہ کے پیروکار ہیں اور انکے پیچھے کارفرما ذہن ایک مخصوص طرز فکر رکھنے والا ذہن ہے۔ان میں سے بعض شعوری طور پر اور بعض لاشعوری طور پر دین اسلام کو نابود کرنا چاہتے ہیں۔یہ گروہ اپنی منفرد مذھبی روایات اور مخصوص انتہا پسندانہ طرز زندگی کو اسلام کے نام پر پاکستانی معاشرے پر مسلط کرنا چاہتا ہے اور ان میں موجود اسلام کے شعوری دشمن ، غیر انسانی اور غیر قرآنی مذھبی روایات اور قبائلی ثقافت کو اسلام کی اقدار و ثقافت قرار دے کر دین اسلام کی روز افزوں مقبولیت کو کم کرنے کے درپے ہیں۔
طالبان دہشت گرد صرف دہشت گرد ہیں، اُن کا کوئی وطن اور مذہب نہ ہے۔ دہشتگردوں کو انسانیت سے کوئی دلچسپی نہیں اور نہ ہی دہشتگرد کسی اعلیٰ نظریئے کے حصول لئے لڑ رہے ہیں۔ ہمیں ہر حال میں دہشتگردوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لئے، ہر دم چوکنا اور ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔

Advertisements