خودکش بمبارپاکستان میں داخل، اسلام آباد، راولپنڈی اورلاہور میں حملے کر سکتے ہیں


news-1461403463-1679_large

خودکش بمبارپاکستان میں داخل، اسلام آباد، راولپنڈی اورلاہور میں حملے کر سکتے ہیں

قانون نافذ کرنے والے اداروں نے وزارت داخلہ کو وفاقی دارالحکومت سمیت ملک کے 3 بڑے شہروں میں افغانستان سے 8 سے 12 خودکش حملہ آوروںکے داخل ہونے کی رپورٹ دی ہے۔وزارت داخلہ میں قائم نیشنل کائونٹر ٹیررازم اتھارٹی نے ان شہروں میں ریڈالرٹ جاری کر دیا۔

5ipj9-400x259
باوثوق ذرائع نے جمعے کو ایکسپریس کو بتایا کہ قانون نافذ کرنے والے اداروںنے خبردار کیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت، راولپنڈی اورلاہورمیں اہم سرکاری و نجی عمارات، پبلک پارکس کوبڑے پیمانے پردہشت گردی کا شکار کرنے کے لیے 8سے 12خودکش حملہ آورپاکستان داخل ہوچکے ہیں جس کے بعدنیکٹا نے حکومت پنجاب ، آئی جی و چیف کمشنر اسلام آبادکوہنگامی طورپرفیکس بھیج دیے ہیں۔اس صورتحال کے بعدوفاقی دارالحکومت میں جمعے کی سہ پہر سے ایف نائن پارک ، چڑیا گھر، جناح سپر مارکیٹ، ریڈزون سمیت اہم سرکاری و نجی عمارات کی سیکیورٹی بڑھا دی گئی ہے۔
http://www.express.pk/story/496536/
طالبان دہشتگردی کر کے ملک میں امن و امان کی صورتحال پیدا کر کے ملک کو عدم استحکام میں مبتلا کرنا چاہئتے ہیں.طالبان سے کسی نیکی کی توقع کرنا فضول ہے۔

طالبان پاکستان ،پاکستانی عوام اور اسلام کےد شمن ہیں اور ہمیں ان سے ہر دم چوکنا و ہوشیار رہنا ہو گا ۔طالبان پاکستان اور اسلام دشمنی ظاہر کرنے کا کو ئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے ہیں۔طالبان اپنی منفرد مذھبی روایات اور مخصوص انتہا پسندانہ طرز زندگی کو اسلام کے نام پر پاکستانی معاشرے پر مسلط کرنا چاہتے ہیں اور ان میں موجود اسلام کے شعوری دشمن ، غیر انسانی اور غیر قرآنی مذھبی روایات اور قبائلی ثقافت کو اسلام کی اقدار و ثقافت قرار دے کر دین اسلام کی روز افزوں مقبولیت کو کم کرنے کے درپے ہیں۔

طالبان دہشتگردوں کو انسانیت سے کوئی دلچسپی نہیں بلکہ یہ انسانیت کے سب سے بڑےد شمن ہیں ۔طالبان دہشتگرد کسی اعلیٰ نظریئے کے حصول لئےنہ لڑ رہے ہیں بلکہ یہ گمراہ لوگ ہیں۔ طالبان کی انتہا پسندانہ سوچ اور اسلامی نظریات کی انتہا پسندانہ اور تنگ نظری پر مبنی تشریح ناقابل قبول ہے ۔
بدقسمتی سے ایک اقلیتی گروہ اسلام کی خودساختہ اور من پسند تشریح کے ذریعے اسلام کو پوری دنیا میں بدنام کر رہا ہے اور اسلام دشمنوں کو اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کے لیے جواز فراہم کرنے کا باعث بن رہا ہے۔ ان حالات میں علماء مشائخ کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ میدان میں آ کر اسلام کا صحیح چہرہ دنیا کے سامنے پیش کریں۔
طالبان سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں صرف وہ ہی مسلمان ہیں اور باقی سب کافر بستے ہیں ،اس لئے وہ سب دوسرے مسلمانوں کا قتل  خوارج کی طرح جائز سمجھتے ہیں۔ مزید براں طالبان پاکستان کے موجودہ سیاسی اور سماجی نظام و ڈہانچےکو غیر اسلامی سمجھتے ہیں اور اس سیاسی و سماجی ڈہانچے کو بزور طاقت گرانے کے خواہاں ہیں۔ طالبان جمہوریت کو بھی غیر اسلامی گردانتے ہیں جبکہ مفتی اعظم دیو بند کا خیال ہے کہ طالبان اسلامی اصولوں کو مکمل طور پر نہ سمجھتے ہیں۔ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کی اصل روح اور تشخص کو مسخ کر رہے ہیں۔
طالبان ، حکومت وقت کی موجودگی کے باوجود ، یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں نفاذ اسلام ان ہی کا حق اور ذمہ داری ہے؟ اگر یہ تسلیم کر لیا جائے کہ کوئی ٓآدمی یا فرد اسلام پر عمل نہ کر رہا ہے تو خدا نے طالبان کو ا س امر کے لئے معمور نہ کیا ہے کی وہ لوگوں پر اسلام نافذ کرتے پھریں؟
جمہور کی دلیل یہ ہے کہ چونکہ احادیث رسولؐ میں امیر کی اطاعت فی المعروف کی بڑی تاکید کی گئی ہے، اس لیے اس کے خلاف تلوار نہ اُٹھائی جائے، کیونکہ اس کی وجہ سے مسلمانوں میں خانہ جنگی، خوں ریزی اور فساد برپا ہوجائے گا اور فتنہ و فساد کا دروازہ کھل جائے گا جسے دوبارہ بند کرنا آسان نہ ہوگا۔ اس صورت حال سے فائدہ اُٹھا کر کچھ لوگ غارت گری اور رہزنی کا بازار گرم کریں گے اور فاسق و ظالم حکمران کے مظالم و مفاسد سے زیادہ تباہ کن مفاسد رونما ہوجائیں گے۔ اگرچہ فاسق کی حکمرانی ایک برائی ہے جس کو مٹانا ضروری ہے لیکن ایک برائی کو ختم کرنے کے لیے مسلمانوں کو اس سے کئی گنا بڑی برائی میں مبتلا کرنا نہ حکمت و دانش کا تقاضا ہے اور نہ دین و شریعت کا تقاضا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ مسجد بنانے کے لیے پوری بستی کو مٹا دیا جائے۔
طالبان تکفیریوں نے سکو لوں کو تباہ کرنے،مساجد پر حملے کرنے اور بزرگانِ دین کے مزاروں کو منہدم کرنے سے دریغ نہیں کیا۔ ماضی قریب میں حضرت داتاگنج بخشؒ، حضرت بابا فرید الدین شکر گنج ؒ، حضرت عبداللہ شاہ غازیؒ ، رحمان باباؒ اور پیر باباؒ (بونیر والے) کے مزارات کو جس طرح نشانہ بنایا گیا اور ان کو نقصان پہنچانے کی کوششیں کی گئیں، وہ انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہیں ۔

كسي بے گناہ انسان كو قتل كرنا خواہ اسكا تعلق كسي بھی مذہب يا فرقہ سے ہو اور خواہ وہ كسي بھی علاقہ كا رہنے والا ہو، حرام ہے۔انسان کی جان اور اس کا خون محترم ہے.اسلام نے ایک ایک انسانی جان کو بڑی اہمیت دی ہے۔ اس کے نزدیک کسی ایک شخص کا بھی ناحق قتل گویا کہ پوری انسانیت کا قتل ہے۔ اسلامی تعلیم ہے کہ انسانی جان کی حفاظت کی جائے اور کسی کو قتل نہ کیا جائے۔ ارشاد باری ہے ‘‘ انسانی جان کو ہلاک نہ کرو، جسے خدا نے حرام قرار دیا ہے’’۔ (بنی اسرائیل :33)
اسلام سے متعلق طالبان کے نظریات اور ان کی اسلامی اصولوں سے متعلق تشریح انتہائی گمراہ کن، تنگ نظر اور ناقابل اعتبار ہے کیونکہ رسول کریم صلعم نے فرمایا ہے کہ جنگ کی حالت میں بھی غیر فوجی عناصر کو قتل نہ کیا جاوے مگر طالبان اس کو جائز سمجھتے ہیں۔ طالبان کا جہاد ،پاکستان کے اور مسلمانوں کے خلاف مشکوک اور غیر شرعی ہے ۔
طالبان جو تکفیری ہیں اور خوارج ہیں اور وہ اس ملک میں جمہوری اداروں اور جمہوری عمل کو اپنی راہ کا سب سے بڑا پتھر اور رکاوٹ سمجھتے ہیں اور ہر دم ا س امر کی سازش و منصوبہ بندی پر عمل پیرا رہتے ہیں کہ کس طرح ملک کے جمہوری سسٹم کو پٹری سے اتارا جا سکے اور پوری ملک میں افرا تفری و انتشار پیدا کر دیا جائے تاکہ طالبان کو ملک میں کھل کھیلنے کا موقع مل سکے۔

Advertisements