پنجاب میں جیلوں پردہشت گردوں کے حملے کا خدشہ


news-1461651031-8858_large

پنجاب میں جیلوں پردہشت گردوں کے حملے کا خدشہ

حساس اداروں کی جانب سے دہشت گردی کے خدشے سے متعلق خفیہ رپورٹس جاری کیے جانے کے بعد پنجاب بھر میں جیلوں کی سیکیورٹی کو انتہائی سخت کردیا گیا ہے۔

498600-se-1461647564-128-640x480.gif
خفیہ اداروں کی جانب سے بھیجی گئی رپورٹس کے مطابق جنوبی پنجاب سمیت دیگر مقامات میں پاک فوج اور رینجرز کے جاری آپریشن کے بعد دہشت گرد قبائلی علاقوں کا رخ کرنے کی بجائے بھیس بدل کر پنجاب میں داخل ہوچکے ہیں اور وہ پنجاب کی جیلوں کو نشانہ بنا سکتے ہیں لہذا صوبائی حکومت اس ضمن میں ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کو یقینی بنائے۔

news-1461403463-1679_large
انٹیلی جنس اداروں کی جانب سے فراہم کی گئی اطلاعات کی روشنی میں صوبائی محکمہ داخلہ نے صوبے بھر کی تمام جیلوں اور دیگر اہم مقامات کی سکیورٹی سخت کرنے کے احکامات جاری کردیئے ہیں۔ متعلقہ اعلیٰ حکام کو ہدایات کی گئی ہیں کہ بین الصوبائی سرحدوں کو سیل کرکے زمینی او ر فضائی پٹرولنگ بڑھائی جائے، کسی بھی شخص یا گاڑی کو جانچ پڑتال کے بغیر پنجاب میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی جائے۔
لاہور میں ڈی آئی جی آپریشن لاہور ڈاکٹر حیدراشرف نے دونوں جیلوں میں سیکیورٹی کے حوالے سے متعلقہ ڈویژنل ایس پی کو احکامات جاری کیے گئے ہیں کہ وہ جیلوں کا خود دورہ کریں اور سیکیورٹی کے حوالے سے موثر اقدامات کریں، اس کے علاوہ ایلیٹ فورس کو بھی حکم دیا گیا ہے کہ وہ کوٹ لکھپت اور کیمپ جیل لاہور کے ارد گرد گشت کریں اور مشکوک افراد پر کڑی نگاہ رکھیں۔
http://www.express.pk/story/498600
طالبان دہشتگردوں کےتمام اقدامات اسلام ،امت مسلمہ ، پاکستان اور اسلامی تعلیمات کی واضح خلاف ورزی ہیں۔ ان کے ہر عمل کا نتیجہ اسلام، امت مسلمہ اور پاکستان کا نقصان ہے۔ ان کا وجود پاکستان کی بقا و سالمیت، اسلام کے تشخص اور اسلامی تہذیب و تمدن کی شناخت کے لئے ایک کھلا خطرہ ہے۔
دہشت گردی و انتہاء پسندی، انسانیت کا قتل عام، خود کش حملے، ریاستی اداروں کے خلاف حملے، جیلوں کو توڑ کر مجرموں اور قاتلوں کو آزاد کرانا اور مسلم ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد پر مبنی افکار و نظریات کا پرچار کرنا۔ یہ لوگوں کا چھوٹا سا اقلیتی گروہ ہے جس کا اسلام کی حقیقی فکر سے کوئی تعلق نہیں اور یہ اسلام کو بدنام کرنے اور اس کے تابناک چہرے کو داغدار کرنے کی گہری سازش کا حصہ ہے۔
یہ گروہ اپنی منفرد مذھبی روایات اور مخصوص انتہا پسندانہ طرز زندگی کو اسلام کے نام پر پاکستانی معاشرے پر مسلط کرنا چاہتا ہے اور ان میں موجود اسلام کے شعوری دشمن ، غیر انسانی اور غیر قرآنی مذھبی روایات اور قبائلی ثقافت کو اسلام کی اقدار و ثقافت قرار دے کر دین اسلام کی روز افزوں مقبولیت کو کم کرنے کے درپے ہیں.طالبان پاکستان میں اسلامی نظام نافذ کرنے کے داعی ہیں مگر اس مقصد کے حصول کے لئے وہ تمام کام برملا کر رہے ہیں جو قران و حدیث ،سنت نبوی اور اسلامی شرعیہ کے خلاف ہیں، لہذا ان کا اسلامی نظام نافذ کرنے کا دعوی انتہائی مشکوک اور ناقابل اعتبار ہے۔ کسی پاکستانی اور مسلمان کو شک نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان میں مسلمانوں اور بے گناہ لوگوں پر خود کش حملے کرنے والے گمراہ لوگ ہیں جن کا دین اسلام کے ساتھ کوئی تعلق اور واسطہ نہیں ہے۔
یہ ہیں پاکستان میں اسلامی نظام نافذ کرنے والوں کے کرتوت و عزائم جو مختلف بھیس بدل کر اور اپنی اصلیت کو چھپا کر سادہ لوح پاکستانیوں کو بیوقوف بنانے کی کوشش کر تے رہتے ہیں۔ طالبان نے قران کی غلط تشریحات کر کے فلسفہ جہاد کی روح کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے۔تحریک طالبان ایک مجرمانہ سرگرمیوں میں ملوث گروہ ہے،جس کا اسلام سے دور کا واسطہ نہ ہے ۔طالبان کے اسلام اوپاکستانی قوم کے خلاف جرائم کی فہرست بڑی طویل ہے ۔ طالبان کے ہاتھ بے گناہوں کے خون سے رنگے ہیں اور طالبان کی حماقتوں کی وجہ سے اسلام اور مسلمانوں کو ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
تمام پاکستانیو ں کو طالبان اور ان دوسرے دہشتگرد ساتھیوں کے مذموم عزائم کو ناکام بنانے کے لئےچوکنا و چوکس رہنا چاہئیے اور متحد و منظم ہو کر اس طالبانی عفریت کا مقابلہ کرنا چاہئیے۔

Advertisements