پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے ایک کروڑ سے زیادہ مریض


news-1461658209-4339_large

پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے ایک کروڑ سے زیادہ مریض

پاکستان میں ہیپاٹائٹس کا مرض ایک اہم چیلنج بن چکا ہے ۔ ملک میں ہیپاٹائٹس کا وائرس ایک وبا کی صورت اختیار کرتا جارہا ہے۔ پندرہ ملین ( ڈیڑھ کروڑ) افراد کسی نہ کسی طرح اپنے جسم میں ہیپاٹائٹس وائرس لئے گھوم رہے ہیں۔ طبی ماہرین کا کہناہے کہ بی اور سی ایک خاموش قاتل ہیں اور مریض کو عموماً اس وقت ہی علم ہوتا ہے جب وہ اتفاقاً ٹسٹ کروالیں یا جگر تشویشناک حد تک خراب ہوجائے۔ ملک کی 4.9 فیصد آبادی ہیپاٹائٹس سی اور 2.4 فیصد لوگ ہیپاٹائٹس بی میں مبتلا ہیں۔ ان سب کیلئے بروقت تشخیص اور ممکنہ طور پر علاج ضروری ہے۔

130728050915_cn_hep_b_virus_512x288_spl_nocredit

طبی ماہرین نے کہا کہ ہیپاٹائٹس وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں سالانہ دس لاکھ افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ ایک عالمی تنظیم ورلڈ ہیپاٹائٹس الائنس کے مطابق دنیا بھر کے ہیپاٹائٹس بی اور سی کے پچاس کروڑ مریضوں میں سے چالیس کروڑ کا مرض تشویشناک حد تک بگڑ چکا ہے۔
عام حالات میں وائرس سے متاثرہ شخص اپنے مرض سے بے خبر ہوتا ہے۔ لیکن ماہرین نے اس وائرس اور اس کے خطرات کو جسم میں موجود ایک ٹائم بم قرار دیا ہے۔
پاکستان کے چاروں صوبوں اور وفاقی دارالحکومت سمیت 28 اضلاع کو ہیپاٹائٹس کی بیماری کے حوالے سے حساس قرار دے دیا گیا ہے۔نجی ٹی وی اے آروائی نیوز کے مطابق ایک سرکاری ادارے کی حالیہ ریسرچ کے مطابق چاروں صوبوں کے 27 اضلاع اور اسلام آباد کو ہیپاٹائٹس کے حوالے سے حساس قرار دیا گیا ہے۔ حساس قرار دیے گئے اضلاع میں پنجاب کے 10، بلوچستان کے 8، سندھ کے 5 ، خیبر پختونخوا کے 4 اضلاع اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد شامل ہیں ۔
ہیپاٹائٹس سی کے حوالے سے سب سے زیادہ خطرناک صورتحال پنجاب کے ضلع وہاڑی کی ہے جبکہ ہیپاٹائٹس بی کے سب سے زیادہ مریض بلوچستان کے ضلع موسیٰ خیل میں موجود ہیں۔ دوسری طرف ہیپاٹائٹس سی کے سب سے کم مریض خیبر پختونخوا کے ضلع سوات میں ہیں جہاں پر صرف 3 فیصد لوگوں میں یہ مرض پایا جاتا ہے جبکہ ہیپاٹائٹس بی کے سب سے کم مریض پنجاب کے ضلع راجن پور میں ہیں جہاں صرف 4 فیصد لوگ اس بیماری کا شکار ہیں۔
ہیپاٹائٹس جگر سے متعلقہ بیماری ہے، اس سے متاثرہ جگر میں ورم آ جاتا ہے اور یہ ٹھیک طرقیقے سے اپنا کام نہیں کر پاتا۔جب جگر میں سوزش پیدا ہوتی ھے تو جسم کا خود کار دفاعی نظام حرکت میں آتا ھے اور اسے ٹھیک کر دیتا ھے۔ تاہم وائرس جگر کے اس حصے ایک نشان یا کھرنڈ جسے انگلش میں "سکار” کہتے ہیں چھوڑ جاتا ھے۔ وائرس چونکہ وہیں موجود رہتا ھے اور ختم نہیں ہوتا، لہذا وو جگر کو بار بار نقصان پہنچاتا رہتا ھے، دفاعی نظام اسے ٹھیک کرتا رہتا ھے اور کھرنڈ بنتے رہتے ہیں۔ آخر میں جگر پر صرف کھرنڈ رہ جاتے ہیں۔ اس حالت کو "سیروسس” کہتے ہیں۔
ہیپاٹائٹس بی اور سی کی علامات یعنی بخار، بھوک نا لگنا، الٹیاں اور پیٹ میں درد وغیرہ ایک جیسی ہیں۔ دونوں بیماریوں میں فرق یہ ھے کہ یہ مختلف قسم کے وائرسوں سے لاحق ہوتی ہیں۔ مزید یہ کہ بی ویکسین موجود ھے جبکہ سی کی ویکسین موجود نہیں۔
روائتی طور پر ہیپاٹائٹس سی کا علاج انٹر فیرون انجکشن اور وائرس کے خلاف استعمال ہونے والی دیگر ادویات سے کیا جاتا ھے۔ ان میں کئی مسائل تھے۔ اب سوالڈی نامی نسبتا کم قمیت دوا متبادل کے طور پر سامنے آ گئی ھے جو اس کے علاج میں حیران کن پیشرفت ثابت ہوئی ھے۔
طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ہیپاٹائٹس کے مریضوں کے مرنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہ مستند علاج کرانے سے پہلے عطائی حکیموں اور عطائی ہومیو ڈاکٹروں کے چکر میں پانچ سات سال گنوا دیتے ہیں اور جب ہسپتال پہنچتے ہیں تو وہ ان کی آخری سٹیج ہوتی ہے۔

Advertisements