اسلام میں انفرادی جہاد کا تصور


اسلام میں انفرادی جہاد کا تصور

اسلام میں انفرادی طور پر جہاد کا کوئی تصور نہ ہے اور نہ ہی اسلام انفرادی جہاد کی اجازت دیتا ہے۔انفرادی جہاد کے پرچارک اسلامی شریعہ کے منافی اقدامات کرنے کے مرتکب ہیں ۔ جہاد شروع کرنے کی ڈیوٹی ریاست کی ہےاور قانونی ریاست کو جہاد کا اعلان کرنا ہوتا ہے۔اگر ریاست جہاد کا اعلان کر دے تو جہادتمام عوام پر فرض ہو جاتا ہے۔

اسلام میں کہیں بھی ایسے جہاد کا ذکر نہیں جو بےگناہوں کی گردنیں کاٹنے اور لوگوں کے خودکش بمبار بننے کی حمایت کرتا ہو، نام نہاد جہادی و طالبان ، اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے درمیان فساد فی الارض برپا کرنےکے ذمہ دار ہیں۔ قرآن مجید میں بہت سے مقامات پر جہاد کا ذکر ہے اور نبی کریم کے ارشادات کی روشنی میں جہاد کے پانچ مراحل ہیں جن میں روحانی، علمی، معاشرتی، سیاسی، سماجی اور دفاعی جہاد شامل ہے. پاکستانی طالبان اور دوسرے نام نہاد جہادی پہلے چار مراحل کو نظر انداز کر کے اپنے ذاتی مفادات کی خاطر اسلام دشمنی میں آخری مرحلے کو پکڑ کر بیٹھے ہیں۔ حالانکہ آخری مرحلے پر عمل صرف دفاعی صورت میں کیا جا سکتا ہے جس کی اجازت کسی جماعت یا تنظیم کو نہیں بلکہ صرف حکومت وقت کو ہے اور اس کی شرائط میں بھی دشمن کی خواتین، بوڑھوں، بچوں، سکولوں، چرچوں اور ہسپتالوں کو تحفظ کی ضمانت حاصل ہوتی ہے۔ ویسے بھی قتال کی بڑی سخت شرائط ہوتی ہیں۔
لفظ جہاد ایک کثیر المعانی لفظ ہے جس کے لغوی معنی سخت محنت و مشقت(Extreme effort & hard work)،طاقت و استطاعت، کوشش اور جدوجہد کے ہیں۔ امام ا بن فارس(م 395ھ) لفظِ جہد کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
جهد الجيم والهاء والدال اصله المشقة، ثم يُحْمَلُ عليه ما يُقَارِبُه.
’’لفظِ جہد (جیم، ھاء اور دال) کے معنی اصلاً سخت محنت و مشقت کے ہیں پھر اس کا اطلاق اس کے قریب المعنی الفاظ پر بھی کیا جاتاہے۔‘‘
(ابن فارس، معجم مقاييس اللغة: 210)
آجکل لفظ جہاد بدنام ہو چکا ہے اور جہاد کاتصور ذہن میں آتے ہی خون ریزی اور جنگ و جدال کا تاثر اُبھرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بدقسمتی سے فی زمانہ جہاد کے نظریے کو نظریہ امن اور نظریہ عدم تشدد کا متضاد سمجھا جارہا ہے۔ مغربی میڈیا میں اب لفظِ جہاد کو قتل و غارت گری اور دہشت گردی کے متبادل کے طور پر ہی استعمال کیا جاتا ہے۔ حالانکہ اَساسی اور بنیادی طورپر جہاد ایک ایسی پراَمن، تعمیری، اخلاقی اور روحانی جدوجہد (Ethical & spiritual striving) ہے جو حق و صداقت اور انسانیت کی فلاح کے لیے بپا کی جاتی ہے۔ ابتداءً اس جدوجہد کا جنگی معرکہ آرائی اور مسلح ٹکرائو سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یہ جدوجہد اُصولی بنیادوں پر صرف ایسے ماحول کا تقاضا کرتی ہے جس میں ہر شخص کا ضمیر، زبان اور قلم اپنا پیغام دلوں تک پہنچانے میں آزاد ہو۔ معاشرے میں امن و امان کا دور دورہ ہو۔ انسانی حقوق مکمل طور پر محفوظ ہوں۔ ظلم و استحصال اور استبداد کی کوئی گنجائش نہ ہو اور دنیا کے تمام ممالک پر امن بقائے باہمی کے رشتے میں منسلک ہوں۔
اسلام امن و محبت، معاملات کو سمجھنے, برداشت کرنے اور انسانیت کے عزت و احترام و اتحاد کا سبق دیتا ہے، اسلام کے نام پر قتل و غارت گری کا بازار گرم کرنا ظلم ہے۔ اسلام میں کسی بھی طرح کی دہشت گردی کی گنجائش نہیں ہے۔ اسلام امن و سلامتی کا دین ہے لیکن آج کچھ عناصر اس میں دہشت گردی کا شر اور فساد بپا کرنے کی سازش کر رہے ہیں۔ وہ جمہوریت کو بھی بدنام کر رہے ہیں۔ لہذا طالبان کا نام نہاد جہاد فساد ہے۔

Advertisements