عراق میں دو خود کش کار بم دھماکوں میں 33 افراد ہلاک


502623-iraq-1462111440-161-640x480

عراق میں دو خود کش کار بم دھماکوں میں 33 افراد ہلاک

عراق کے جنوبی شہر سماوا میں دو خود کش کار بم دھماکوں میں 33 افراد ہلاک اور 50 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ عراق کے جنوبی شہر سماوہ کے حوالے سے قائم مثنیٰ ہیلتھ ڈپارٹمنٹ کے سینئر عہدیدار کا کہنا تھا کہ ‘ہسپتال میں 33 لاشیں لائی گئیں ہیں’۔مثنیٰ آپریشنز کمانڈ نے بم دھماکوں میں ہونے والی ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے۔

57263bdd2656b
بغداد سے 230 کلومیٹر جنوب میں واقع شہر کے وسط میں پہلا کار بم دھماکا مقامی حکومت کی ایک عمارت کے نزدیک ہوا اور دوسرا وہاں سے 60 میٹر کے فاصلے پر واقع ایک بس اسٹیشن پر ہوا۔ دھماکے میں زخمی ہونے والوں کو اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
داعش نے حملوں کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

iraq-blastsap6702
اﷲ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا :
وَلَا تَقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْط اِنَّ اﷲَ کَانَ بِکُمْ رَحِيْمًاo وَمَنْ يَفْعَلْ ذٰلِکَ عُدْوَانًا وَّظُلْمًا فَسَوْفَ نُصْلِيْهِ نَارًاط وَکَانَ ذٰلِکَ عَلَی اﷲِ يَسِيْرًاo
النساء، 4 : 29، 30
”اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو، بے شک اﷲ تم پر مہربان ہےo اور جو کوئی تعدِّی اور ظلم سے ایسا کرے گا تو ہم عنقریب اسے (دوزخ کی) آگ میں ڈال دیں گے، اور یہ اﷲ پر بالکل آسان ہےo”
امام فخر الدین رازی نے اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے :
﴿وَلاَ تَقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْ﴾ يدل علی النهی عن قتل غيره وعن قتل نفسه بالباطل.
رازی، التفسير الکبير، 10 : 57
”(اور اپنی جانوں کو مت ہلاک کرو)۔ یہ آیت مبارکہ کسی شخص کو ناحق قتل کرنے اور خودکشی کرنے کی ممانعت پر دلیل شرعی کا حکم رکھتی ہے۔”
مزید برآں امام بغوی نے ”معالم التنزیل (1 : 418)” میں، حافظ ابن کثیر نے ”تفسیر القرآن العظیم (1 : 481)” میں اور ثعالبی نے ”الجواھر الحسان فی تفسیر القرآن (3 : 293)” میں سورۃ النساء کی مذکورہ بالا آیات کے تحت خود کشی کی حرمت پر مبنی احادیث درج کی ہیں ۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ائمہ تفسیر کے نزدیک بھی یہ آیات خود کشی کی ممانعت و حرمت پر دلالت کرتی ہیں۔
احادیث مبارکہ میں بھی خود کشی کی سخت ممانعت وارد ہوئی ہے۔ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
فَإِنَّ لِجَسَدِکَ عَلَيْکَ حَقًّا وَإِنَّ لِعَيْنِکَ عَلَيْکَ حَقًّا.
بخاری، الصحيح، کتاب الصوم، باب حق الجسم فی الصوم، 2 : 697، رقم : 1874
”تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے اور تمہاری آنکھوں کا تم پر حق ہے۔”
یہ حکمِ نبوی واضح طور پر اپنے جسم و جان اور تمام اعضاء کی حفاظت اور ان کے حقوق ادا کرنے کی تلقین کرتا ہے، تو کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ خودکش حملوں (suicide attacks) اور بم دھماکوں (bomb blasts) کے ذریعے اپنی جان کے ساتھ دوسرے پرامن شہریوں کی قیمتی جانیں تلف کرنے کی اجازت دے! حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود کشی جیسے بھیانک اور حرام فعل کے مرتکب کو فِي نَارِ جَهَنَّمَ يَتَرَدَّی فِيْهِ خَالِدًا مُخَلَّدًا فِيْهَا أَبَدًا (وہ دوزخ میں جائے گا، ہمیشہ اس میں گرتا رہے گا اور ہمیشہ ہمیشہ وہیں رہے گا) فرما کر دردناک عذاب کا مستحق قرار دیا ہے۔
جنا ب رسول اللہ ﷺ نے ارشا د فرما یا صحا بہ کرام ؓ کو فلا ں شخص جو جہا د میں بڑی جر ات سے لڑتا ہے وہ جہنمی ہے صحا بہ ؓ حیران ہو ئے اور اس کا تعا قب شروع کر دیا کیا دیکھتے ہیں کہ وہ زخمی ہو گیا اور زخمو ں کی تا ب نہ لا کر خود اپنی تلوار اپنے سینے میں گھونپ دی اور مر گیا صحا بہ ؓ نبی ؑ کی با رگاہ میں حا ضر ہو ئے اور اسکی خبر دی تو سرکا رﷺ نے وا ضح کیا میرے صحا بہ اسلام میں خود کشی حرام ہے اور خود کشی کر نے والا جہنمی ہے ۔ جب کا فر و ں کے مقا بلے میں ایسا عمل حرام ہے تو مسلمانو ں کے خلا ف ایسا عمل کر نے والا جنتی کیسے ہو سکتا ہے ۔ لہذا دعوت فکر ہے ایسی سوچ کو کہ اسلامی روح پکڑے اپنے ان نو جوانو ں کو پیغام دینا ہے کہ جن کو جھو ٹی جنت کا لا لچ اور فریب دیکر بلیک میل کیا جا تا ہے ۔ اور انہیں خود کش حملہ کر نے کی تر غیب دی جا تی ہے وہ جا ن لیں کہ یہ عمل جنت میں جانے والا نہیں بلکہ سیدھا جہنم میں پہنچا نے والا ہے ۔
جہاد وقتال فتنہ ختم کرنے کیلئے ہے ناکہ مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے کیلئے۔اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ دہشتگرد جان لیں کہ وہ اللہ کی مخلوق کا بے دردی سے قتل عام کر کے اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں اور اللہ اور اس کے پیارے رسول صلم کی ناراضگی کا سبب بن رہے ہیں. حدیث رسول اللہ میں ہے کہ انسانی جان کی حرمت خانہ کعبہ کی حرمت سے زیادہ بیان ہے۔۔ بے گناہ اور معصوم لوگوں ،عورتوں اور بچوں کے قتل کی اسلام میں ممانعت ہےاور اسلام کسی بھی انسان کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔

داعش خوارج قاتلوں ،جنونی ،انسانیت کے قاتل اور ٹھگوں کا گروہ ہے جو اسلام کی کوئی خدمت نہ کر رہاہے بلکہ مسلمانوں اور اسلام کی بدنامی کا باعث ہے اور مسلمان حکومتوں کو عدم استحکام میں مبتلا کر رہا ہے۔ داعش کے مظالم کے سامنے ہلاکو اور چنگیز خان کے مظالم ہیچ ہیں۔داعش کے پیروکار ایسے نظریے کے ماننے والے ہیں جس کی مسلم تاریخ میں مثال نہیں ملتی، داعش کے ارکان کا تعارف صرف یہی ہے کہ وہ ایسے مجرم ہیں جو مسلمانوں کا خون بہانا چاہتے ہیں۔ سعودی مفتی اعظم کا کہنا تھا کہ اس تنظیم میں شمولیت اختیار کرنیوالے نادان اوربے خبرہیں۔

Advertisements