اسلام آباد و راولپنڈی میں دہشت گردی کا خدشہ


5ipj9-400x259

اسلام آباد و راولپنڈی میں دہشت گردی کا خدشہ

وفاقی دارالحکومت اور جڑواں شہر راولپنڈی میں ممکنہ سکیورٹی خدشات کے بعد سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ۔ڈان نیوزکے مطابق انٹیلی جنس اداروں نے اپنی رپورٹ میں اسلام آباد اور راولپنڈ ی میں اہم عمارتوں اور تعلیمی اداروں میں دہشت گردی کے واقعات کا خدشہ ظاہر کیا ہے جس کے بعد جڑواں شہروں کی سکیورٹی بڑھا کر ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔

news-1462346663-4752_large
ذرائع کا کہنا ہے کہ انٹیلی جنس رپورٹ میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ دہشت گرد راولپنڈی میں فوجی ٹاورز، زرعی یونیورسٹی اور کینٹ میں ہوٹلز کو نشانہ بنا سکتے ہیں اس کے علاوہ ریڈ زون اور بڑے ہوٹلوں میں بھی دہشت گردی کی کارروائی ہو سکتی ہے ۔
ذرائع کے مطابق رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کے ایئر پورٹ کے اطراف میں بھی تخریبی کارروائیوں کا امکان ہے جبکہ علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی ، نمل یونیورسٹی سمیت دیگر اہم تعلیمی اداروں کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے ۔ ذرائع نے واضح کیا کہ انٹیلی جنس حکا م نے رات گئے نمل اور قائد اعظم یونیورسٹی میں چیکنگ بھی کی گئی ہے ۔
http://dailypakistan.com.pk/national/04-May-2016/375772
طالبان، راولپنڈی و اسلام آباد میں ملک کی اہم شخصیتوں کو ہلاک و دہشتگردی کر کے ملک میں امن و امان کی صورتحال پیدا کر کے ملک کو عدم استحکام میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔
چونکہ طالبان اور ان کے ساتھی دہشتگردوں کا ابھی مکمل قلع قمع نہ ہوا ہے اور ان سے ہر حالت میں خبردار و ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے اور ان سے کسی نیکی کی توقع کرنا فضول ہے۔ طالبان پاکستان ،پاکستانی عوام اور اسلام کےد شمن ہیں اور ہمیں ان سے ہر دم چوکنا و ہوشیار رہنا ہو گا اور ان کو دوبارہ اپنے گل کھلانے کا موقع بہم نہ پہنانا ہو گا کیونکہ یہ پاکستان اور اسلام دشمنی ظاہر کرنے کا کو ئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے ہیں۔
طالبان دہشتگرد ایک مشترکہ خصوصیت کے حامل ہیں اور وہ انارکسٹ فلسفہ کے پیروکار ہیں اور انکے پیچھے کارفرما ذہن ایک مخصوص طرز فکر رکھنے والا ذہن ہے۔ان میں سے بعض شعوری طور پر اور بعض لاشعوری طور پر دین اسلام کو نابود کرنا چاہتے ہیں۔یہ گروہ اپنی منفرد مذھبی روایات اور مخصوص انتہا پسندانہ طرز زندگی کو اسلام کے نام پر پاکستانی معاشرے پر مسلط کرنا چاہتا ہے اور ان میں موجود اسلام کے شعوری دشمن ، غیر انسانی اور غیر قرآنی مذھبی روایات اور قبائلی ثقافت کو اسلام کی اقدار و ثقافت قرار دے کر دین اسلام کی روز افزوں مقبولیت کو کم کرنے کے درپے ہیں۔
طالبان سمجھتے ہیں کہ پاکستان میں صرف وہ ہی مسلمان ہیں اور باقی سب کافر بستے ہیں ،اس لئے وہ سب دوسرے مسلمانوں کا قتل خوارج کی طرح جائز سمجھتے ہیں۔ مزید براں طالبان پاکستان کے موجودہ سیاسی اور سماجی نظام و ڈہانچےکو غیر اسلامی سمجھتے ہیں اور اس سیاسی و سماجی ڈہانچے کو بزور طاقت گرانے کے خواہاں ہیں۔ طالبان جمہوریت کو بھی غیر اسلامی گردانتے ہیں جبکہ مفتی اعظم دیو بند کا خیال ہے کہ طالبان اسلامی اصولوں کو مکمل طور پر نہ سمجھتے ہیں۔ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر اسلام کی اصل روح اور تشخص کو مسخ کر رہے ہیں۔
طالبان دہشتگردوں انسانیت کے سب سے بڑےد شمن ہیں ۔طالبان دہشتگرد کسی اعلیٰ نظریئے کے حصول لئےنہ لڑ رہے ہیں بلکہ یہ گمراہ لوگ ہیں۔ طالبان کی انتہا پسندانہ سوچ اور اسلامی نظریات کی انتہا پسندانہ اور تنگ نظری پر مبنی تشریح ناقابل قبول ہے ۔
طالبان دہشتگرداپنی خودساختہ اور من پسند تشریح کے ذریعے اسلام کو پوری دنیا میں بدنام کر رہے ۔ ان حالات میں علماء مشائخ کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ میدان میں آ کر اسلام کا صحیح چہرہ پاکستانی عوام اور دنیا کے سامنے پیش کریں۔

Advertisements