تھر میں موت رقصاں


imagesGYH32WMG

تھر میں موت رقصاں

اکیسویں صدی میں تھر کے علاقہ میں قحط و خشک سالی سے سینکڑوں معصوم جانوں کی ہلاکتیں ایک بہت بڑا انسانی المیہ ہے، یہ معاملہ یہیں ختم نہ ہوا ہے بلکہ موت کا رقص اب بھی جاری ہے۔ غذائی قلت اور مختلف بیماریوں سے ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد 312تک جا پہنچی ہے ۔ زیادہ ترعلاقوں میں لوگوں کو قحط جیسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور اطلاعات کے مطابق خوراک کی شدید کمی کا شکار ہوکر بے شمار معصوم جانیں زندگی سے ہاتھ دہو بیٹھیں ہیں۔

news-1462425275-7574_large

ایک عرصے سے موت کا سیاہ نقاب پوش عفریت بھوک کے ہیبت ناک اور قوی الجثہ جانور پر سوار ہو کر ’تھر‘ کے صحراؤں میں معصوم جانوں کونگل رہا ہے۔ اس نگر کے باسی اس درندے کے آگے بے بس ہیں۔ ان کا کوئی حامی و ناصر  نہیں۔ یہ صبح اپنے گھر کی میت اٹھاتے ہیں تو شام کو پڑوسی کے بچے کو درگور کر آتے ہیں۔ اس دوران انہیں مسلسل یہ خدشہ بھی لاحق ہے کہ کہیں یہ خود بھی اس خونخوار بلا کا شکار نہ ہو جائیں۔
کیا آج کے اس ترقی یافتہ دور اور مہذب معاشرے میں بھی ہم ان کی فریاد رسی نہ کریں؟ ان سے کہہ دیا جائے کہ تم تو پیدا ہی مرنے کے لیے ہو سو فریاد کا نہ تمہیں حق ہے نہ کوئی تمہارا مدعی و مددگار بنے۔ گویا وہ لختِ جگر اس لیے جنمیں کہ چند ہی دنوں میں یہ ننھی جانیں ان ہی کے سامنے ایڑیاں رگڑ رگڑ کر دم توڑ دیں۔ حضرت عمر فاروق(رضی اللہ عنہ) کا یہ قول اس حوالے سے بہت اہمیت رکھتا ہے۔ اگر دریائے فرات کے کنارے ایک بکری کا بچہ بھی بھوکا مر گیا تو عمر(رضی اللہ عنہ) سے اس بارے میں پوچھ گچھ ہو گئی۔ ( ابن جوزی ،سیرت عمر(رضی اللہ عنہ)۔

news-1454652777-3898_large
تھر میں غذائی قلت کے باعث ایک اور بچہ انتقال کر گیا ۔ڈان نیوز کے مطابق سول ہسپتال مٹھی میں آج ایک اور نومولود دم توڑ گیا ہے جس کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 312ہو گئی ۔
ہسپتال ذرائع کا کہنا ہے کہ بچہ غذائی قلت کے باعث بیماری کے بعد ہسپتال میں زیر علاج تھا مگر جانبر نہ ہو سکا ۔ غذائی قلت کی وجہ سے نومولود کا جسم کمزور ہو چکا تھا اور گزشتہ ایک روز سے مصنوعی سانس پر زندہ تھا ۔ نومولو د کے انتقال کے بعد 4ماہ میں غذائی قلت اور مختلف بیماریوں سے ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد 312تک جا پہنچی ہے جبکہ ابھی بھی سول ہسپتال میں 40سے زائد بچے زیر علاج ہیں.
http://dailypakistan.com.pk/tharparkar/05-May-2016/376313

news-1462346173-1299_large
میڈیا رپورٹس کے مطابق مٹھی میں عوام شدید غذائی قلت کا شکار ہیں ِ ، لوگوں کے پاس کھانے کو کچھ ہے اور نہ ہی پینے کیلئے صاف پانی جس کی وجہ سے ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ غذائی قلت اور آلودہ پانی کی بدولت تھرپارکر کے لاگوں میں مہلک بیماریاں پھیلنے کا بھی اندیشہ ہے جبکہ علاقے میں صحت کے مراکز کا فقدان ایک الگ داستان ہے۔ تھرپارکر میں پچھلے 36دنوں کے دوران غذائی قلت سے جاں بحق ہونے والوں کی تعدا د 129ہو چکی ہے جس میں اضافے کا اندیشہ ہے۔ حکومت کی جانب سے تھرپارکر کو مسلسل نظر انداز کیے جانے پر علاقہ کے عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔
http://dailypakistan.com.pk/tharparkar/05-Feb-2016/330341

550d45af462fc
یاد رہے یہ انسانوں کے بچے ہیں۔ مفرب میں ایک کتے کا پلا بھوک و پیاس سے نڈھال ہو تو قیامت آ جاتی ہے۔ کیا ہم لوگوں میں انسانیت ختم ہو چکی ہے؟ ہمیں کسی کے دکھ اور درد کا کوئی خیال نہ ہے؟ اگر یہ سب کچھ ہمارے بچوں کےساتھ ہو رہا ہو تو ہمارا کیا رد عمل ہو گا؟ کہاں ہیں فلاحی ادارے اور صاحب ثروت لوگ ؟ وہ کیوں ان معصوم جانوں کو بچانے کے لئے میدان میں نہ نکلے ہیں؟ کیا امر مانع ہے؟ کیا ہمارے ضمیر مردہ ہو چکے ہیں؟
آج کے جدید دور میں بھی تھر پارکر طبی سہولیات، ذرائع آمد ورفت، بجلی اور ٹیلی کمیونیکیشن جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہے، سڑکیں اور ذرائع آمد و رفت نہ ہونے کے باعث یہ بات کامل وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ ہلاک ہونے والے بچوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے جو ہم تک پہنچتی ہے۔ اوپر بیان کی گئی تعداد وہ ہے جو گرتے پڑتے کسی نہ کسی طرح اسپتال پہنچ کر وفات پا جاتے ہیں اور ریکارڈ میں آ جاتے ہیں۔ ہلاک ہونے والے بچوں کی وہ تعداد اس کے علاوہ ہے جو کوشش بسیار کے باوجود اسپتال تک پہنچ نہیں پاتے جو گاؤں کی دائیوں، عطائی ڈاکٹروں کے رحم و کرم ہر ہوتے ہیں، یا غربت کے باعث اسپیشل گاڑی کرایہ پر لینے کے متحمل نہیں وہ اس اعداد و شمار سے باہر ہیں۔
اسکے بعد خوراک کا عمومی مسئلہ ہے، لوگوں کا ذریعہ معاش بارانی فصلیں اور مال مویشی پالنا ہے ہر دو کا انحصار بارش پر ہے، بارش کے حوالےسے صورت حال مزید فکر انگیز ہے۔ گزشتہ چند سال سے قحط سالی نے تھر پارکر میں ڈیرے ڈال رکھے ہیں پانی ناپید ہو چکا ہے اور جو میسر ہے وہ بھی مضر صحت ہے۔ مجھے تین سال تک تھر پارکر میں قیام کا موقع ملا اس دوران وہاں کے لوگوں کے رہن سہن اور بود و باش کا بہت قریب سے مشاہدہ کیا ہے۔ ایسا پانی پینے کا اتفاق ہوا جس سے شاید آپ پاؤں دھونا بھی پسند نہ کریں۔
گزشتہ برس 3جنوری2014 کو شائع ہونیوالی ایک رپورٹ کیمطابق تھر میں مسلسل تین سالوں سے خشک سالی ہے، کے آخر تک 0 .65 بچے زندگی کی دوڑ میں مات کھا چکے ، غذائی قلت کے باعث کئی خطرناک بیماریاں جنم لے چکی ہیں،جو مستقبل قریب میں قبرستان کا پیش خیمہ ثابت ہونگی(اب ثابت ہو رہا ہے)حکومت کے ناقص انتظامات نے آفت کی شدت میں کئی گنا اضافہ کر دیا۔ FIOH تنظیم کے چیئر مین ڈومینک سٹیفن کا کہنا تھا کہ ”شروع میں گورنمنٹ نے گندم کی متاثرین کو فراہمی پر توجہ دی مگر بعد میں یہ عمل سست روی شکا ر ہو گیا”سست و تیز الگ بات ،متاثرین میں امدادی اشیاء کی فراہمی میں نچلے طبقے کے ملازمین نے جس بے حسی ،حرص و لا لچ کامظاہرہ کیا ،انسانیت پر نا دھلنے والا داغ تھا.
حالات کی ستم ظریفی دیکھئے کہ ویسی ہی ،ہسپتالوں میں یا تو سامانِ علاج میسر نہیں ،اگر ہے تو باہر پڑا ہوا گرد سے اٹا ہوا بیکار ہو رہاہے، غریبوں کی آہ و بکا سننے کا خیال کسی کو نہیں آیا،کسی کو توفیق نہیں ہوئی کہ قیمتی وقت سے چند گھڑیاں اس انسان نما مخلوق کی جانب بھی جواپنی ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہے ہیں۔
اس علاقہ میں میڈیکل کیمپوں کا قیام اور امدادی سامان کی فوری ترسیل ان دل گرفتہ لوگوں کو پہنچانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ تمام پاکستانیوں اور صاحب ثروت لوگوں کو ، مصیبت کی اس گھڑی میں ، دل کھول کر قحط و خشک سالی سے متاثر ان لوگوں کی امداد کرنی چاہئیے۔

Advertisements