ہائی بلڈ پریشر – خاموش قاتل


index

ہائی بلڈ پریشر – خاموش قاتل

بلند فشار خون’بلڈ پریشر‘ کو آج کے دور میں صحت کے سب سے زیادہ پھیلے ہوئے مسائل میں شمار کیا جاتا ہے۔ عمر کے مختلف طبقوں سے تعلق رکھنے خواتین و حضرات اس میں مبتلا ہیں ۔ ہائی بلڈ پریشر اس وقت دنیا بھر میں بہت عام مرض بن چکا ہے جس کا علاج نہ ہونے کی صورت میں ہارٹ اٹیک، ہارٹ فیلیئر، گردوں کے امراض، فالج اور دماغی تنزلی کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

Blood-pressure

101576_details

سب سے پہلے یہ جانتے ہیں کہ بلڈ پریشر ہے کیا۔جب ہمارا کا دل دھڑکتا ہے تو خون جسم میں گردش کرتا ہے اور اسے مطلوب توانائی اور آکسیجن مہیا کرتا ہے۔ خون گردش کے دوران نسوں کی دیواروں پر دباؤ ڈالتا ہے۔ اس دباؤ کو ہی بلڈ پریشر کہا جاتا ہے۔ بلڈ پریشر کو جاننے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ اس کی پیمائش کی جائے۔ جب BP کی پیمائش ہوتی ہے تو اسے دو اعداد میں لکھا ہے مثلا HB 120/80mm یا 80 نیچے اور 120 اوپر۔
120/80 mmHG کے بلڈ پریشر کو نارمل تصور کیا جاتا ہے جبکہ 135/85 mmHG باعثِ تشویش ہوتا ہے کیونکہ ریڈنگ اس سے زیادہ ہونا ہائی بلڈ پریشر کہلاتا ہے۔بلڈپریشر بتانے والا پہلا عدد انقباضی (Systolic)کہلاتاہے۔ جب دل دھڑکے، تو یہ وہ سب سے بلند عد دہے جس پہ ہمارا بلڈ پریشر پہنچتا ہے۔ دوسرا عدد انبساطی (Diastolic)کہلاتا ہے۔ دو دھڑکنوں کے درمیان ہمارا دل آرام کرے، تو وہ سب سے نچلی سطح ہے جس پہ ہمارا فشار خون پہنچ سکتا ہے۔بلند فشار خون انسان کو متفرق بیماریوں میں مبتلا کر دیتا ہے۔ مثال کے طور پر جس انسان کا بلڈ پریشر 135/85ہو، اُسے یہ خطرہ درپیش رہتا ہے کہ وہ 115/75والے کی نسبت زیادہ آسانی سے امراض قلب و فالج کا نشانہ بن جائے گا۔

imagesbfe
عام طور پر جس انسان کا انقباضی عدد 140یا اس سے بلند اور انبساطی فشار خون 90یا زیادہ ہو، ڈاکٹر اُسے ادویہ دینے لگتے ہیں تاکہ وہ اپنے ہائی بلڈ پریشر کو قابو کر سکے۔
عام طور پرHBP کی کوئی خاص علامات نہیں ہوتی ہے۔ اس لئے اسے Silent Killer یعنی خاموش قاتل کہتے ہیں۔ بعض اوقات سالوں کسی کو یہ بیماری رہتی ہے لیکن اسے خود احساس نہیں ہوتا۔ پھر بھی اگر مندرجہ ذیل حالتیں محسوس ہوں تو آپ کو اپنا معائنہ کروانا ضروری ہے۔
٭ سر درد٭ چکر آنا ٭ آنکھوں کو دھندلا پن محسوس ہونا ٭ قے ٭ سانس آنے میں تکلیف ہو ٭تھکن محسوس ہو ۔
عالمی ادارہء صحت کی ڈائریکٹر مارگریٹ چین کے مطابق پاکستان میں 18 فیصد بالغان اور 45 سال سے زیادہ عمر کے 33 فیصد لوگوں کو بلند فشارِ خون (ہائی بلڈ پریشر) کی بیماری لاحق ہے۔ بدقسمتی سے صرف 50 فیصد کیسز میں ہی تشخیص ہو پاتی ہے، اور ان میں سے بھی صرف آدھے کیسز میں علاج کروایا جاتا ہے۔

یہ مرض ماضی کی طرح صرف بڑی عمر کے لوگوں تک نہیں بلکہ نوجوانوں کو بھی متاثر کر رہا ہے، نوجوان دیگر عام امراض مثلا ًسردرد، چکر، سانس میں دقت، نظر کا مسئلہ وغیرہ ان میں سے کوئی شکایت لے کر ڈاکٹر سے رجوع کرتے ہیں تو اچانک ان پر بلند فشار خون میں مبتلا ہونے کا انکشاف ہوتا ہے۔

عموما کسی شخص کے بلند فشار خون میں مبتلا ہونے کے پیچھے بہت سے عوامل ہوتے ہیں۔ ان میں کھانوں میں نمک کی زیادہ مقدار، ڈبوں میں بند غذائیں، میٹھی اور چکنی غذائیں، چربی سے بھرپور غذاؤں کے نتیجے میں خون میں نقصان دہ کولسٹرول کی سطح میں اضافہ، چلنے پھرنے کی کمی، ورزش کا نہ کرنا، شریانوں کا تنگ ہوجانا، منفی اثرات کی حامل بعض طبی دواؤں کا استعمال، گردے کی خرابی وغیرہ شامل ہیں۔

بلند فشار خون کے مریض کو اپنا زندگی گزارنے کا طریقہ یکسر تبدیل کردینا چاہیے تاکہ اسے علاج میں دواؤں اور کیمیائی مواد کا سہارا نہ لینا پڑے۔ زندگی کے اسلوب کی تبدیلی اسے دواؤں سے نجات دلا سکتی ہے۔

بلند فشار خون سے نجات حاصل کرنے کے لیے 6 قدرتی طریقوں کا ذکر کیا گیا ہے جو درج ذیل ہیں:۔

وزن کو کم کیجئے
بلند فشار خون اور وزن کی زیادتی کے درمیان قریبی تعلق ہے۔ وزن کی زیادتی سونے کے دوران سانس رکنے’خراٹوں‘ کی بنیادی وجہ ہے اور وزن بڑھنے سے بلند فشار کا مسئلہ بھی پیدا ہوتا ہے۔

اگر آپ وزن کی زیادتی اور بلند فشار خون کا شکار ہیں تو آپ کو فوری طور پر غذائی پرہیز شروع کر دینا چاہیے تاکہ زائد وزن سے چھٹکارا حاصل کر سکیں۔

طبی تحقیقات سے ثابت ہوچکا ہے کہ انسانی کمر کا بلند فشار خون میں مبتلا ہونے کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ مردوں میں اگر کمر کی پیمائش 102 سینٹی میٹر (40 انچ) اور خواتین میں 89 سینٹی میٹر (35) انچ سے زیادہ ہوجائے تو ایسے لوگ بلند فشار خون میں مبتلا ہونے کے خطرے سے دوچار ہوتے ہیں۔

باقاعدگی سے ورزش کریں
باقاعدگی سے ورزش کی جائے جن میں آسان ترین روزانہ پیدل چلنا یا تیراکی ہے، فشار خون کو نارمل اور قدرتی سطح پر برقرار رکھنے میں انتہائی مدد گار ثابت ہوتا ہے۔ ڈاکٹروں کی ہدایت کے مطابق اچھی صحت کے لیے ہفتے میں پانچ دن روزانہ
تیس منٹ ورزش ضرور کرنا چاہیے۔

نمک کا استعمال کم کریں
بلند فشار خون کے مریض کو کھانے میں نمک کی مقدار کم کر دینا چاہیے۔ اس کے علاوہ اسے ڈبوں میں بند اور محفوظ غذاؤں سے بھی اجتناب کرنا ضروری ہے۔ اس لیے کہ یہ اشیاء سوڈیم کی کثیر مقدار پر مشتمل ہوتی ہیں جو بلند فشار خون کی بنیادی وجہ شمار کی جاتی ہے۔

سبزیاں، پھل ، کم چکنائی والی غذائیں استعمال کریں
سبزیوں، پھلوں، بغیر چھنے آٹے اور دودھ کی کم چکنائی والی مصنوعات پر مشتمل غذاؤں کے نظام کو اپنانا، بلند فشار خون پر قابو کرنے کا اہم راز ہے۔

کھانے کی مقدار کو کنٹرول کریں
جو غذائیں آپ کو کھانی ہیں ان کی ایک فہرست تیار کرنا فائدہ مند ہے، تاکہ آپ کھانے کی مقدار کو کنٹرول کرسکیں اور ان نقصان دہ اشیاء سے رک سکیں جو آپ کے بلند فشار خون کے مسئلے میں اضافہ کر سکتی ہیں۔

پوٹاشیم سے بھرپور غذائیں کھائیں
پوٹاشیم کی زیادہ مقدار رکھنے والی غذاؤں کے استعمال میں اضافہ کردیں جو انسانی جسم سے سوڈیئم کی زائد مقدار ختم کرنے میں مدد کرتی ہیں۔ پوٹیشیئم سے بھرپور غذاؤں میں کیلا، کھجور،مگرناشپاتی، خوبانی، گاجر، لوبیا اور ڈارک چاکلیٹ وغیرہ شامل ہیں۔
کیفین کا استعمال گھٹائیے
بلڈپریشر بڑھانے میں کیفین کے کردار پر تحقیق جاری ہے۔ دراصل کیفین کے حامل مشروبات پینے سے دفعتہً ہمارا بلڈ پریشر بڑھ جاتا ہے، لیکن یہ اثر بعض مرد و زن میں عارضی رہتا ہے۔ جن لوگوں میں کیفین والا مشروب پینے سے بلڈ پریشرمسلسل بڑھا رہے، تو وہ اس سے پرہیز کریں۔

حالیہ تحقیق کے مطابق اب چقندر کا ایک کپ رس پینے سے بلڈ پریشر کا کیا جا سکتا ہے خاتمہ۔ ایک جرنل میں شائع پندرہ افراد پر پر کی گئی تحقیق کے مطابق چقندر کا رس پینے سے ان کے بلڈ پریشر میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے چقندر میں موجود نائٹریٹ وریدوں میں خون کے تیزی سے بہائو میں مدد کرتے ہیں اور یہی نائٹریٹ انجائنا کے بہت سے مریض بیماری میں بطور منشیات استعمال کرتے ہیں۔ محقیقین کا کہنا ہے کہ ابھی اس سلسلے میں بہت سا کام کرنا باقی ہے۔ انہوں نے خبردارکیا ہے کہ چقندر کا رس پینے سے غیر متوقع نتیجہ بھی برامد ہو سکتا ہے مثلا رس آپ کے پیشاب کا رنگ گلابی بھی کر سکتا ہے۔
چیری کا جوس پینے کی عادت بلڈ پریشر میں کمی لانے کے لیے ادویات جتنی ہی فائدہ مند ثابت ہوتی ہے۔
یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی ہے۔نارتھ امبریا یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ 60 ملی لیٹر چیری کے عرق کو پانی میں ملا کر پینے سے 3 گھنٹے کے اندر بلڈ پریشر میں 7 فیصد تک کمی آتی ہے۔بلڈ پریشر میں اتنی کمی فالج کا خطرہ 38 فیصد یا امراض قلب کا 23 فیصد تک کم کرنے کے لیے کافی ہے۔
اس نئی تحقیق میں 15 افراد پر تجربات کیے گئے جن میں ہائی بلڈ پریشر کی ابتدائی علامات کی تشخیص ہوئی تھی۔ ان افراد کو 60 ملی لیٹر چیری کا عرق 100 ملی لیٹر پانی میں ملا کر دیا گیا اور نتائج سے معلوم ہوا کہ اس کے نتیجے میں بلڈ پریشر میں 7 فیصد تک کمی آئی۔
محققین کے خیال میں چیری کا جوس بلڈ پریشر پر اس لیے مثبت اثرات مرتب کرتا ہے کیونکہ یہ قدرتی طور پر ایک اینٹی آکسائیڈنٹ فینولک ایسڈز سے بھرپور ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ خون کی شریانوں اور دل کے امراض اکثر ایسے اسباب کی وجہ سے لاحق ہوتے ہین جنھیں کنٹرول کیا جاسکتا ہے۔
ان کے بقول ان خطرات میں ہائی بلڈ پریشر، کولیسٹرول، موٹاپا، تمباکو کا استعمال، جسمانی سرگرمیوں کمی اور ذیابیطس شامل ہیں۔

Advertisements