پاکستان، افغان امن مذاکرات کیلئے پرامید


160412081603_afghanistan_taliban_640x360_afp_nocredit

پاکستان، افغان امن مذاکرات کیلئے پرامید

طالبان کے نمائندوں کے حالیہ دورہ پاکستان کے دوران تو افغان امن مذاکرات کے حوالے سے پیش رفت سامنے نہیں آئی، لیکن اس دورے نے پاکستانی حکام کو امن مذاکرات کے دوبارہ آغاز کی امید دے دی ہے۔طالبان نمائندوں کے دورے کے حوالے سے ایک سینئر عہدیدار نے پس پردہ گفتگو کے دوران کہا کہ طالبان نے انکار نہیں کیا، وہ صورتحال کا دوبارہ جائزہ لے رہے ہیں۔

35683349
گزشتہ ہفتے قطر میں طالبان کے سیاسی دفتر کے شہاب الدین دلاور، جان محمد مدنی اور ملا عباس پر مشتمل تین رکنی وفد نے پاکستان کا دورہ کیا تھا اور پاکستانی حکام سے ملاقاتیں کی تھیں۔
عہدیدار کا کہنا تھا کہ طالبان کی مستقبل کی حکمت عملی، افغانستان میں جنگ کی صورتحال اور اور افغان حکومت کی مذاکرات کے حوالے سے پوزیشن پر منحصر ہوسکتی ہے۔
وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز کا ایک روز قبل ایک صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اگرچہ طالبان نے نئے حملوں کے آغاز کا اعلان کیا ہے، لیکن اب تک انہوں نے کوئی بڑا آپریشن نہیں کیا، جس سے امید ملتی ہے کہ اگر زمینی صورتحال مستحکم رہی تو امن مذاکرات جلد بحال ہوں گے۔
سینئر عہدیدار کا ماننا تھا کہ اگر افغانستان میں جنگ بندی ہوجائے اور افغان حکومت مذاکرات کے حوالے سے اپنی پوزیشن مزید واضح کرے تو طالبان دوبارہ مذاکرات کی میز پر آسکتے ہیں۔
طالبان نے مارچ میں، چار ملکی مصالحتی گروپ کی جانب سے امن عمل کا حصہ بننے سے انکار کردیا تھا۔
عہدیدار نے مذاکرات کے حوالے سے کوئی ٹائم فریم تو نہیں دیا لیکن ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے جلد ابتدائی رابطے ہوسکتے ہیں، جس سے امن مذاکرات کے باضابطہ آغاز میں مدد ملے گی۔
یاد رہے کہ کابل حملوں کے بعد افغان حکومت نے مفاہمت کے حوالے سے اپنے موقف میں سختی لاتے ہوئے پاکستان سے، مبینہ طور پر اپنی سرزمین پر موجود طالبان اور ان کے ٹھکانوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔
تاہم سرتاج عزیز نے طالبان کے خلاف طاقت کے استعمال کا مطالبہ مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اس وقت یہ نامناسب ہے اور مفاہمتی عمل کو وقت دینا چاہیے۔
پاکستان، افغانستان، امریکا اور چین پر مشتمل چار ملکی مصالحتی گروپ کے اگلے اجلاس کے حوالے سے عہدیدار کا کہنا تھا کہ گروپ کے آئندہ اجلاس کے لیے مشاورت جاری ہے، اور یہ اجلاس تب ہوگا جب افغان امن عمل کی سمت کا تعین ہوجائے۔
http://www.dawnnews.tv/news/1036805/

220F5A98-7BF8-40CA-A108-372487706FB6_w640_s_cx0_cy33_cw99

160306033122_afghan_taliban_640x360_bbc_nocredit
طالبان کو بالاآخر مذاکرات میں واپس آنا ہی ہو گا۔ افغانستان میں مسلسل خانہ جنگی، خودکش حملے، تباہی و بربادی اور ہر روز بے شمار معصوم اور بے گناہوں لوگوں، عورتوں اور بچوں کا طالبان کے ہاتھوں ناحق قتل ،طالبان پر  جنگ کو ختم کرنے سے متعلق عوامی دباو میں اضافہ کر رہا ہے اور طالبان ایک لمبے عرصہ تک اس دباو کو نظر انداز کرنے کی پوزیشن میں نہ ہیں۔

ادہر افغان حکومت نے پاکستان کی جانب سے وعدے پورے کرنے تک مذاکرات میں شرکت کرنے سے انکار کردیا ہے۔ رائٹرز کے مطابق افغان صدر اشرف غنی کے ترجمان دعویٰ خان نے کہا ہم پاکستان میں طالبان وفد کی موجودگی سے آگاہ ہیں تاہم اس وقت تک مذاکرات کی طرف نہیں جائیں گے جب تک پاکستان اپنے کئے گئے وعدے پورے نہیں کرتا۔ اس سے پہلے صدراشرف غنی نے بھی مصالحتی عمل میں شرکت نہ کرنے کا کہا تھا اور پاکستان سے طالبان کے مخصوص عناصر کیخلاف لڑائی کا مطالبہ کیا تھا۔
پاکستانی تجزیہ کار حسن عسکری نے کہ پاکستان کے افغان طالبان سے تعلقات کو امن مذاکرات کے لیے اہم تصور کیا جا رہا ہے۔حسن عسکری نے کہا ہے پاکستانی فوج طالبان پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کر سکتی ہے۔
واشنگٹن میں قائم ادارے نیشنل انڈاؤمنٹ فار ڈیموکریسی سے وابستہ دفاعی تجزیہ کار حامد ارسلان کہتے ہیں کہ افغان حکومت نے افغان طالبان پر پاکستانی فوج کے اثر کی اہمیت کو تسلیم کر لیا ہے۔
افغان تجزیہ کار سرور احمدزئی نے بتایا کہ ’’پاکستان اور افغانستان کے درمیان سیاسی قیادت طالبان سے مذاکرات کے لیے کسی معاہدے پر نہیں پہنچی جس کی وجہ سے پاکستانی فوج اس میں شامل ہوئی۔ میرے خیال میں طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کے سلسلے میں بین الاقوامی برداری کو پاکستان کی فوجی قیادت کی (صلاحیت) پر زیادہ اعتماد ہے۔‘‘
طالبان کے سربراہ ملا عمر کی موت کی خبر منظر عام پر آنے کے بعد گزشتہ سال جولائی سے امن مذاکرات کا عمل معطل ہے۔
مذاکرات کے حوالے سے طالبان کو اعتماد میں لیا گیا ہے یا نہیںٍ؟ اور طالبان کی مذاکرات میں شرکت کا امکان ہے یا نہیں؟ کونسے طالبان گروپ مذاکرات کے حق اور کون مخالف ہیں؟ اور آیا فریقین یعنی افغان حکومت اور طالبان مذاکرات میز پر مشروط طور پر بیٹہیں گے یا غیر مشروط طور پر؟ ایسے بہت سے سوالات ہیں جو عام ذہنوں میں ابھر رہے ہیں۔
طالبان کی جانب سے مبہم اشارے آرہے ہیں۔ طالبان مشروط مذاکرات کی حق میں ہیں مگر چار فریقی رابطہ کمیٹی کے اجلاسوں اور پراسس کے حوالے سے شکوک و شبھات کا اظہار کر رہے ہیں۔
بعض طالبان حامی حلقے بھی براہ راست مذاکرات اور اس کی کامیابی کے بارے میں زیادہ پر امید نہیں۔ملا عبدالالسلام ضعیف نے ایک حالیہ انٹرویو میں چار فریقی مذاکراتی عمل سے مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے اور اسے لاحاصل عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس عمل میں شریک تمام فریقوں کو اپنے اپنے مفاد کی پڑی ہے اور افغان عوام کی دکھ درد اور مشکلات سے ان کو کوئی سروکار نہیں۔
بعض مبصرین کا خیال ہے کہ طالبان کا مذاکرات سے انکار اور پیشگی شرائط کا اعلان سے طالبان مذاکرات میں اپنی پوزیشن مضبوط مزید بنانا چاہتے ہیں۔ طالبان مذاکرات سے قبل زیادہ سے زیادہ علاقوں پر قبضہ کر کے مذاکرات میں اپنی پوزیشن مستحکم کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ مذاکرات میں بہتر شرائط پر اپنے حق میں فیصلے حاصل کر سکیں۔طالبان کے عمری حملے اسی وجہ سے ہو رہے ہیں۔ طالبان کے مزاکرات میں شامل ہونے سے انکار کے باوجود مذاکرات کا امکان ختم نہ ہوا ہے۔

افغان جنگ تیز ہونے کی صورت میں جنگ کا دائرہ وسیع ہونے کا امکان ہے اور پاکستان اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکتا ہے۔نیز بین الاقوامی برادری، چین اور امریکہ کی طرف سے پاکستان پر طالبان کی مدد سے ہاتھ کھینچے اور پاکستان سے نکال باہر کرنے کے لئے زبردست دباو ہو گا اور پاکستان اپنی بری اقتصادی حالت کی وجہ سے یہ دباو برداشت نہ کر سکے گا۔
طالبان کو بھی زمینی حقائق کا ادراک ہونا چاہئے کیونکہ لمبی خانہ جنگی اور آئے روز کی بڑہتی ہوئی ہلاکتوں کی وجہ سے افغانستان کے لوگ اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل سے متعلق مایوس ہیں اور وہ جنگ سے بھی تنگ آچکے ہیں اور امن کو موقع دینے کے خواہاں ہیں۔ طالبان کو مذاکرات میں شامل ہو کر ، اورافغانستان کے آئندہ سیاسی عمل میں شامل ہو کر ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئیے۔ ایسے مواقع تاریخ بار بار بہم نہ پہنچاتی ہے۔ یہ موقع کھونے سے طالبان پیچھے رہ جائیں گے اور ان کو ناقابل تلافی نقصان ہو سکتا ہے۔

Advertisements