آم کھانے کے فوائد


508032-mango-1462735261-478-640x480

آم کھانے کے فوائد
آم کو پھلوں کا بادشاہ کہا جاتا ہے اس کا صرف ذائقہ ہی لاجواب نہیں ہوتا بلکہ آم کھانے کے بیشمار فوائد ہیں ۔ طبی ماہرین کے مطابق یہ وٹامن ای سے بھرپور ہے جو جلد کو ترو تازہ رکھتی ہے اور چہرے پر دانے نہیں نکلنے دیتی جبکہ وٹامن سی خون میں کولیسٹرول کی مقدار کم کرتی ہے۔ اس میں موجود وٹامن اے بینائی کو کمزور نہیں ہونے دیتی۔ قدرتی مٹھاس کی مناسب مقدار ہے جو شوگر کے مریضوں کے لئے نقصان دہ نہیں۔

imagesbhu

آم کے ریشے جنہیں فائبر کہا جاتا ہے آنتوں کی صفائی کرتے ہیں اور نظام ہضم کو درست رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ اس میں اینٹی اوکسیڈنٹ پائے جاتے ہیں جو آنتوں اور خون کے کینسر کے خطرے کو کم کرتا ہے۔
آم کھانا کس شخص کو پسند نہیں اور اب تو اس پھل کا موسم بھی آچکا ہے مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ اس کے استعمال سے کینسر اور موٹاپے سے متعلق امراض کی روک تھام میں بھی مدد ملتی ہے؟یہ بات امریکا میں ہونے والی کئی طبی تحقیقاتی مطالعہ جات میں سامنے آئی ہے۔

DE22PERISCOPEMANGO_1591446g
ان رپورٹس کے مطابق کے مطابق پھلوں کا بادشاہ غیرصحت بخش غذاﺅں کے مضر اثرات کو کم اور چربی کا باعث بننے والے خلیات کو ختم کرتا ہے۔
اسی طرح آم کا استعمال انسانوں میں آنتوں کی سرگرمی کو بڑھاتا ہے اور قبض کے خلاف بھی موثر ثابت ہوتا ہے۔اوکلا ہاما اسٹیٹ یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق فائبر، وٹامنز، منرلز، اینٹی آکسائیڈنٹس اور چربی گھلانے والے phytochemicals سے بھرپور آم صحت کے لیے نقصان دہ غذاﺅں کے استعمال کے اثرات کو کم کرکے موٹاپے میں کمی لانے میں مدد دیتا ہے۔
اسی طرح ٹیکساس اے اینڈ ایم یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ آم میٹابولزم کو بہتر بناتا ہے جس سے موٹاپے کی روک تھام اور اس سے متعلقہ امراض سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔

34284_04
محققین کے مطابق چوہوں پر تجربات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ آم کے استعمال سے بریسٹ کینسر کے بڑھنے کی شرح میں کمی آئی۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
اسی یونیورسٹی کی ایک الگ تحقیق میں مزید بتایا گیا کہ آم میں پائے جانے فائبر کی بدولت قبض کے شکار افراد کی حالت میں بہتری لائی جاسکتی ہے خاص طور پر اکثر پیٹ کے اس مرض کے شکار افراد کی آنتوں میں ورم پیدا ہوجاتا ہے جس میں کمی کے لیے یہ پھل مفید ثابت ہوسکتا ہے۔

34284_02

images
ماضی میں سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق آم کا استعمال کولیسٹرول کی سطح میں کمی، جلد کی شفافیت، آنکھوں اور نظام ہاضمہ کی صحت میں بہتری وغیرہ لاتا ہے تاہم بہت زیادہ کھانے کی عادت ذیابیطس کا خطرہ بڑھا دیتی ہے۔
جلد بوڑھا ہونے سے بچاتا ہے:
طبی ماہرین کے مطابق آم وٹامن ای سے بھرپور ہے جس کے استعمال سے انسان صحت مند اور شاداب رہتا ہے جب کہ یہ وٹامن جلد کو ترو تازگی فراہم کرتے ہیںاور چہرے پر دانوں اور کیل مہاسوں سے بچاتے ہیں۔ آم میں شامل وٹامن سی خون میں کولیسٹرول کی مقدار کم کرتا ہے جب کہ اس میں موجود وٹامن اے بینائی کو کمزور ہونے سے بچاتا ہے اور اس کے علاوہ یہ پھل سورج کی تیز شعاعوں سے بھی آنکھوں کو خراب ہونے سے بچاتا ہے۔
دمے سے محفوظ رکھتا ہے
ماہرین کے مطابق آم میں موجود اجزا انسانی جسم کے لیے انتہائی مفید ثابت ہوتے ہیں اور جو لوگ آم کا زیادہ استعمال کرتے ہیں ان کے دمے کے مرض میں مبتلا ہونے کے امکانات کم سے کم ہوجاتے ہیں۔
کینسر سے بچاؤ میں معاون
طبی ماہرین کے مطابق آم میں شامل اینٹی آکسیڈنٹ آنتوں اور خون کے کینسر کے خطرے کو کم کرتا ہے جب کہ گلے کے غدود کے کینسر کے خلاف بھی یہ مؤثر کردار ادا کرتا ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کے مطابق کولون یا بڑی آنت کے سرطان کے خلاف آم ایک اہم مدافعانہ ہتھیار ثابت ہوا ہے اورآم کھانے کے شوقین لوگوں میں اس سرطان کی شرح نمایاں طور پر کم دیکھی گئی ہے۔
ہڈیوں کی صحت کیلیے مفید
ماہرین کا کہنا ہے کہ آم کا استعمال ہڈیوں کی بیماریوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے اس میں موجود کیلشیم ہڈیوں کو مضبوط رکھتا ہے اور آم کھانے کے شوقین افراد میں وقت سے پہلے ہڈیوں کی کمزوری کے امکانات کم ہوجاتے ہیں۔
ذیابطیس میں بھی کارآمد
تحقیق کے مطابق آم میں موجود وٹامن اے ،بی،سی اور فائبر کے علاوہ 20 دیگر اجزا پائے جاتے ہیں جو خون کی گردش میں شکر کے جذب ہونے کے عمل کو کم کرتے ہیں۔ امریکی ماہرین کے مطابق آم میں موجود قدرتی مٹھاس کی مناسب مقدار شوگر کے مریضوں کے لئے نقصان دہ نہیں ہوتی۔
نظام ہاضمہ کیلیے ضروری:
آم میں موجود ریشے جنہیں فائبر بھی کہا جاتا ہےآنتوں کی صفائی کرتے ہیں اور نظام ہضم کو درست رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
دل کی صحت کیلیے مفید
ماہرین کا کہنا ہے کہ دل کے امراض میں مبتلا افراد کے لیے آم ایک بہترین پھل ہے اس میں موجود پوٹاشیم ،فائبر اور وٹامن دل کی صحت میں اضافے کا باعث بنتے ہیں جب کہ اس میں موجود بڑی تعداد میں پوٹاشیم بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔
انفیکشن کے خلاف مؤثر دوا
ماہرین صحت کے مطابق تمام بیکٹیریا کا حملہ اس لیے ممکن ہوتا ہے کہ جسم کی خارجی تہہ بنانے والی بافتیں کمزور ہوجاتی ہیں تاہم آم کے موسم میں اس کا آزادانہ استعمال بافتوں کی اس کمزوری کو دور کرتا ہے چنانچہ بیکٹیریا کا جسم میں داخلہ ممکن نہیں رہتا اس کیفیت کے بعد پے در پے انفیکشن مثلاً نزلہ‘ زکام اور ناک کی سوزش رونما نہیں ہوئی۔ اس تحفظ کی وجہ آم میں پائی جانے والی وٹامن اے کی وافر مقدار ہے۔

Advertisements