بغداد میں چار دہماکے، 69 افراد ہلاک


160517131013_car_bomb_attack_in_baghdads_mainly_shiite_district_of_sadr_city_iraq_640x360_reuters_nocredit

بغداد میں چار دہماکے، 69 افراد ہلاک
عراق کے دارالحکومت بغداد میں حکام کا کہنا ہے کہ چار بم دھماکوں میں کم از کم 69 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان چار دھماکوں میں سے تین دھماکے شیعہ علاقوں میں جبکہ ایک دھماکہ اس علاقے میں ہوا ہے جہاں شیعہ اور سنی دونوں ہی رہائش پذیر ہیں۔ ان چار میں سے دو دھماکوں کی ذمہ داری اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم نے قبول کی ہے۔

514382-tw-1463491662-889-640x480
طبی عملے کا کہنا ہے کہ ان دھماکوں کے نتیجے میں ایک سو سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ان دھماکوں میں تین ماکیٹوں اور ایک ریسٹورنٹ کو نشانہ بنایا گیا۔ پہلا اور سب سے مہلک بم دھماکہ شیعہ اکثریتی علاقے شاب کی ایک مارکیٹ میں ہوا جس میں 28 افراد ہلاک ہوئے۔ اس دھماکے کی ذمہ داری دولت اسلامیہ نے قبول کی ہے۔ پہلے ایک دھماکہ دیوار کے ساتھ ہوا اور جب لوگ وہاں جمع ہوئے تو خود کش حملہ آور نے اپنے آپ کو اڑا دیا۔

160517130857_baghdad_640x360_reuters_nocredit
وزیر اعظم حیدر العابدی نے اس علاقے کے سکیورٹی انچارج کو گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔
اس دھماکے کے کچھ دیر بعد فروٹ اور سبزیوں کی مارکیٹ کو نشانہ بنایا گیا جس میں پانچ افراد ہلاک ہوئے۔ تیسرا دھماکہ کار بم حملہ تھا جو صدر شہر کی مارکیٹ میں ہوا۔ اس دھماکے میں 21 افراد ہلاک ہوئے۔ چوتھا دھماکہ ایک ریسٹورنٹ میں ہوا جس میں تین افراد ہلاک اور نو زخمی ہوئے۔
http://www.bbc.com/urdu/world/2016/05/160517_baghdad_blasts_rh

573b0f9f51b0a

CipbHqSUkAEmvPM

بغداد بم دہماکوں میں ہلاکتیں 77 ہو گئیں، 140 سے زائد زخمی

http://jang.com.pk/latest/102292-death-toll-rises-in-baghdad-blasts-more-than-140-injured،
داعش میں دہشتگردی و سفاکی کا عمل بڑا نمایاں ہے۔    د اعش کے دہشتگرد انسانیت کے سب سے بڑے دشمن ہیں اور تباہی و بربادی ان کا طرع امتیاز ہے اور قتل و غارت گری ان کا وصف ۔
خودکش حملے،دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے اور قران و حدیث میں خودکشی کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے. جہاد وقتال فتنہ ختم کرنے کیلئے ہے ناکہ مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے کیلئے۔اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ دہشتگرد جان لیں کہ وہ اللہ کی مخلوق کا بے دردی سے قتل عام کر کے اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں اور اللہ اور اس کے پیارے رسول صلم کی ناراضگی کا سبب بن رہے ہیں. حدیث رسول اللہ میں ہے کہ انسانی جان کی حرمت خانہ کعبہ کی حرمت سے زیادہ بیان ہے۔۔ بے گناہ اور معصوم لوگوں کے قتل کی اسلام میں ممانعت ہےاور اسلام کسی بھی انسان کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔داعش خوارج قاتلوں ،جنونی ،انسانیت کے قاتل
اور ٹھگوں کا گروہ ہے جو اسلام کی کوئی خدمت نہ کر رہاہے بلکہ مسلمانوں اور اسلام کی بدنامی کا باعث ہے اور مسلمان حکومتوں کو عدم استحکام میں مبتلا کر رہا ہے۔ داعش کے مظالم کے سامنے ہلاکو اور چنگیز خان کے مظالم ہیچ ہیں۔داعش کے پیروکار ایسے نظریے کے ماننے والے ہیں جس کی مسلم تاریخ میں مثال نہیں ملتی، داعش کے ارکان کا تعارف صرف یہی ہے کہ وہ ایسے مجرم ہیں جو مسلمانوں کا خون بہانا چاہتے ہیں۔ سعودی مفتی اعظم کا کہنا تھا کہ اس تنظیم میں شمولیت اختیار کرنیوالے نادان اوربے خبرہیں۔

قرآن مجید، مخالف مذاہب اور عقائدکے ماننے والوں کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے کا نہیں بلکہ ’ لکم دینکم ولی دین‘ اور ’ لااکراہ فی الدین‘ کادرس دیتاہے اور جو انتہاپسند عناصر اس کے برعکس عمل کررہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول سلم ، قرآن مجید اور اسلام کی تعلیمات کی کھلی نفی کررہے ۔ فرقہ واریت مسلم امہ کیلئے زہر ہے اور کسی بھی مسلک کے شرپسند عناصر کی جانب سے فرقہ واریت کو ہوا دینا اسلامی تعلیمات کی صریحاً خلاف ورزی ہے اور یہ اتحاد بین المسلمین کےخلاف ایک گھناؤنی سازش ہے۔ ایک دوسرے کے مسالک کے احترام کا درس دینا ہی دین اسلام کی اصل روح ہے۔

Advertisements