افغانستان میں چار سکولوں کو جلا دیا گیا


Ciu0qsQWYAA5WP2

افغانستان میں چار سکولوں کو جلا دیا گیا

افغانستان کے صوبہ مشرقی کنبر میں طالبان نے 4 سکولوں کو جلا دیا ہے۔ افغانستان کےعلماء نے اسکولوں کو نذر آتش کرنے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ کابل کے ایک مذہبی عالم ولی محمد نے کہا کہ کسی اسکول کو نذر آتش کرنا غیر اسلامی اور غیر انسانی فعل ہے۔ اسکولوں کو نذر آتش کرنے والے افغانستان اور اس کے مستقبل کے دشمن ہیں۔

20h20 hours ago

: کونړ کې څلور ښوونځي سوځول شوي

…………………………………………………………

21h21 hours ago

Militants burned and blownup four schools in eastern province.

 مساجد، اسکولوں اور ان تمام مقامات کی حفاظت کرنے کی ضرورت ہے جہاں لوگ کچھ نہ کچھ سیکھتے ہوں۔

طالبان نے اسکولوں کو نذر آتش نہ کرنے کا وعدہ کیا ہے تاہم افغان حکومت کو اس بات پر یقین نہیں ہے کہ طالبان اپنے وعدے کا پاس کریں گے۔
افغانستان میں اب تک عسکریت پسندوں نے تعلیمی اداروں پر جو حملے کیے ہیں ان کے نتیجے میں بہت سے اسکول جلائے جا چکے ہیں۔ کئی واقعات میں شدت پسندوں نے اسکولوں میں پینے کے پانی میں زہر بھی ملا دیا۔ اس طرح زہر ملا پانی پینے کے بعد سینکڑوں بچوں کو علاج کے لیے ہسپتالوں میں بھی داخل کرانا پڑا۔ عسکریت پسندوں نے تعلیمی اداروں کو بند کروانے کے لیے بہت سے اساتذہ پر حملے بھی کیے۔

May 17

Now in province, 21 school girls Poisoned and taken to hospital.

  عسکریت پسند ملک میں تمام اسکول بند کروانے کا تہیہ کیے ہوئے ہیں۔ اس لیے وہ ایسی کارروائیاں کر رہے ہیں جن کی مدد سے طلبا و طالبات کو تعلیمی اداروں سے دور رکھا جا سکے۔افغانستان کے مختلف حصوں میں عسکریت پسندوں کی طرف سے تعلیمی اداروں خاص کر لڑکیوں کے اسکولوں پر کیے جانے والے حملوں کے نتیجے میں طلبا و طالبات مجبور ہو گئے ہیں کہ وہ اپنی حفاظت کے لیے خود مختلف اقدامات کریں۔ یہ اقدامات کابل حکومت نے غیر نصابی سرگرمیوں کے طور پر متعارف کرائے ہیں۔ کابل حکومت کا الزام ہے کہ طالبان باغیوں نے تعلیمی اداروں پر حملوں میں اضافہ کر دیا ہے۔

آج کے بچے کل کو قوم کے معمار ہوتے ہیں۔ سکولوں کو تباہ کرنے کا مطلب قوم کی بنیادوں کو تباہ کرنا ہر۔ ان اجڈ دہشت گردوں کو تعلیم کی اہمیت کا احساس تک نہ ہے۔ ملا عمر کا کہنا تھا کہ طالبان تعلیم و تربیت کی اہمیت کو جانتے ہیں اور وہ دنیا اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ علم کے حصول ہی کو سمجھتے ہیں۔ ملا عمر نے اپنے ردعمل پر مشتمل تفصیلی پشتو بیان میں مزید کہا تھا کہ طالبان کبھی بھی افغان عوام کیلئے بنائے گئے تعلیمی اداروں،اسپتالوں اور عوامی مقامات کو بموں سے اڑانے کا تصور بھی نہیں کر سکتے ہیں۔ ایسا کرنے والوں کا طالبان سے کوئی تعلق نہیں ۔ بموں سے اڑانے والے افغانوں کے دشمن ہیں یا پھر دشمنوں کے ایجنٹ ہیں جو طالبان کو بدنام اور افغانستان کو تباہ کرنے کیلئے ایسا کر رہے ہیں۔ مگر ایسے لگتا ہے کہ طالبان کے یہ بیانات صرف بیانات ہی ہیں اور پبلک ریلشنگ کا حصہ ہیں اور طالبان ان پر عمل کرنے کا کوئی ارادہ نہ رکھتے ہیں۔
تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی میں بے حد اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تعلیم کی اہمیت کا اعتراف ازل سے ہر مہذّب معاشرہ کرتا آیا ہے اور ابد تک کرتا رہے گا۔ 21صدی میں تعلیم کی اہمیت پہلے کی نسبت زیادہ تسلیم کی جا رہی ہے۔ آج کی زندگی میں تعلیم سب سے زیادہ اہم اقتصادی مسئلہ ہے۔ آج کے ترقیاتی دور میں تعلیم کے بغیر انسان ادھورا ہے ۔ تعلیم انسان کو اپنی صلاحیت پہچانے اور ان کی بہترسے بہتر تربیت کرنے میں معاون ثابت و مدد گار ہوتی ہے تقیناً تعلیم یافتہ لوگ ہی ایک بہتر سماج اور ایک ترقی یافتہ ملک و قوم کی تعمیر کرتے ہیں۔
قوموں کے عروج و زوال کی کہانی میں تعلیم کا کردار بڑی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ جس قوم نے اس میدان میں عروج حاصل کیا، باقی دنیااس قوم کے سامنے سرنگوں ہوتی چلی گئی ۔ قران کا پہلا لفظ ہی اقرا تھا۔اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ جب تک مسلمانوں نے اس میدان میں اپنے قدم جمائے رکھے دنیا پر حکمرانی کرتے رہے۔ اور جیسے جیسے ’اقراء‘ کا درس ان کے ذہنوں سے محو ہوا ،غلامی نے اپنا گیراتنگ کر دیا۔ انسان کو اشرف المخلوقات ہونے کا شرف علم و آگہی کی بدولت حاصل ہے۔ دین و دنیا کی تمام تر ترقیاں اور بلندیاں علم ہی کے دم سے ہیں۔ اس لئے اسلام نے سب سے زیادہ زور علم حاصل کرنے پر دیا ہے۔علم حاصل کرنے کے لئے پیدائش سے لحد تک وقت کی کوئی قید نہیں۔ صرف عزم و ہمت اور جہد مسلسل کامیابی و کامرانی کا واحد راستہ ہے۔سکولوں کو تباہ کرنے کے نتیجے میں افغانستان میں غربت ، پسماندگی ، جہالت اور انتہا پسندی و دہشت گردی جیسے مسائل مزید گھمبیر ہو جائینگے، تعلیم کے فروغ سے ہم افغانستان مین دہشتگردی و انتہا پسندی و جہالت کی عفریت پر قابو پا سکتےہیں

Advertisements