سی فوڈ ۔ صحت کے لیے مفید


images

سی فوڈ ۔ صحت کے لیے مفید
مچھلی انسانی صحت کے لئے بہت اہم غذا ہے۔ اس میں بعض ایسے اجزاء ہوتے ہیں جو کسی اور گوشت میں نہیں پائے جاتے، مثال کے طور پر آئیوڈین، جو انسانی صحت کے لئے بہت اہمت کا حامل ہے۔ اس کی کمی سے جسم کا غدودی نظام کا توازن بگڑ سکتا ہے، گلے کے اہم   غدود  تھائیرائیڈ میں سقم پیدا ہوکر جسمانی نظام میں بہت سی خرابیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔

seafood-buffet

ماہرین کہتے ہیں کہ مچھلی کا شوربہ پینے سے آنتوں کے زخم ٹھیک ہو سکتے ہیں، اس کی وجہ قدیم اطبائ نے یہ بیان کی ہے کہ مچھلی تریاق ہے، مچھلی ہمیشہ تازہ کھانی چاہئے کیوں کہ باسی مچھلی اکثر سخت زہریلی ہوتی ہے۔

imagesnht

مچھلی میں ایسے بہت سے اجزا موجود ہیں جو صرف مچھلی کے استعمال سے ہی جسم کو مہیا ہوتے ہیں۔ ہفتے میں ایک بار مچھلی ضرور کھانی چاہئے، اگر اس کے بجائے کوئی دوسری سمندری غذا استعمال کرلی جائے تو بھی کوئی مضائقہ نہیں البتہ جھینگے کا استعمال زیادہ نہیں کرنا چاہئے کیوں کہ جھینگوں میں کولیسٹرول کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔ سردی سے ہونے والی کھانسی کو دور کرنے کے لیے مچھلی سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹھنڈے پانی کی مچھلیاں، خاص طور سے ٹونا، سامن اور دیگر چکنی مچھلیوں میں اومیگا تھری ایسڈ وافر مقدار میں پایا جاتا ہے جو دماغی اور دل کے امراض کے علاوہ انسانی جسم کے مختلف اعضا کے لئے بہت فائدے مند ہے۔
ایک طویل عر صے کی تحقیق کے بعد پتہ چلا ہے کہ اومیگا تھری دل کے امراض سے محفوظ رکھنے میں اہم کردار ادا کر تا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ یہ زندگی کو طوالت بخشنے میں بھی اھم کردار ادا کر تا ہے۔جس کی وجہ یہ ہے کہ یہ فشارخون کو قابو میں رکھتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ کولیسٹرول کے لیول کو بھی کم رکھتا ہے۔جن افراد کو ہڈیوں کی سوجن اور ورم مفاصل جسے امراض ہوتے ہیں ان کو بھی خاصا فائدہ پہنچتا ہے۔نگاہ کی تیزی،بچوں کی دماغی نشوونمااور ڈپریشن سے نجات میں بھی اس کو اہم سمجھا جاتا یے۔
اکتوبر1995ءامریکن میڈیکل جنرل میں شائع ہونے والےایک تحقیقی مقالہ میں اس باتکا انکشاف کیا گیا ہے کہ موٹی مچھلیوں کا ہفتے میں ایک بار استعمال امراض قلب میں مبتلا ہونے کے خطرات کو50 سے70فیصد کم کر سکتا ہے۔ایک اور سٹڈی جو کہ 1996کے اواخر میں بوسٹن کے بر گھم اینڈوومنز ہاسپٹل میں مکمل ہوئی کے مطابق ایک ماہ میں مچھلی استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں ایک ہفتے میں مچھلی استعمال کرنے والوں میں امراض قلب کے امکان کم ہوتے ہیں۔
نیویارک میں واقع البانی میڈیکل کالج کے پروفیسرڈاکٹر جوئیل کریمر کی ریسرچ بھی جاری ہےجن کو یہ معلوم ہوایے کہ اومیگا تھری میں ایسی اہلیت مو جود ہے کہ نرم ہڈیوں کے جوڑ میں بہتری پیدا کر سکے اور نقرس کے مریض ہڈیوں میں سختی اور درشتی سے پیچھا چھڑا سکیں۔
یونیورسٹی آف چلی میں جاری ایک تحقیق کے مطابق اومیگا تھری شیر خوار بچوں کی آنکھوں اور دما غ کی تعمیر مین اہم کردار ادا کر تا ہے۔لہذا حاملہ خواتین کو مچھلی کے استعمال سے بہت فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
ہالینڈ کی یونیورسٹی میڈیکل سینٹر اور واگینیگن یونیورسٹی کی مشترکہ تحقیق میں جو افراد ہفتے میں ایک مرتبہ سے کم سی فوڈ کھاتے تھے وہ مذکورہ بیماریوں میں جلدی مبتلا ہوئے بنسبت ان کے جو ہفتے میں کم از کم ایک مرتبہ سی فوڈ کھاتے تھے۔
تحقیق کی سینئر رکن مارتھا کلیئر مورس کے مطابق قدرتی طور پر عمر بڑھنے کے ساتھ بھولنے اور سوچنے کی بیماریاں ہوجاتی ہیں تاہم سی فوڈ کھاکر ان سے بچا جاسکتا ہے۔
ریسرچ کے لیے پانچ سال تک اوسط 81.4 سال عمر کے 915 کے روزانہ کے معمولات کی پیروی کی گئی۔
سی فوڈ میں اومیگا تھری نامی فیٹی ایسڈز موجود ہوتے ہین جو کہ دماغ کے بنیادی ڈھانچے میں شامل جزو ہے۔
سامن مچھلی پروٹین کے حصول کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ اس کے علاوہ اس میں اومیگا 3نامی غذائی جزو بھی پایا جاتا ہے جو خواتین کی افزائش نسل کی صلاحیت کے لیے انتہائی ضروری چیز ہے۔عمومی صحت کی بات کی جائے تو سامن مچھلی اس کے لیے بھی انتہائی مفید ہے۔ اس سے دل اور خون کی رگوں اور وریدوں کا نظام بہتر ہوتا ہے اور دماغ اور آنکھوں کی کارکردگی میں اضافہ ہوتا ہے۔

Advertisements