افغان مسئلہ ، امن مذاکرات ہی واحد آپشن


افغان مسئلہ ، امن مذاکرات ہی واحد آپشن

پاکستان کے دفترِ خارجہ کا کہنا ہے کہ افغانستان میں قیام امن کے لیے چار ملکی رابطہ گروپ کے اجلاس میں اس عزم کو دہرایا گیا ہے کہ سیاسی تصفیے کے لیے امن مذاکرات ہی واحد حل ہے۔ بدھ کو اسلام آباد میں مصالحتی عمل کے سلسلے کے پانچویں اجلاس کے بعد جاری ہونے والے مختصر بیان میں کہا گیا ہے کہ گروپ کے ارکان متفق ہیں کہ تشدد کا کوئی فائدہ نہیں اور امن مذاکرات کے سلسلے میں کیو سی جی میں شامل ممالک اپنا اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں گے۔

اس چار ملکی مصالحتی عمل میں پاکستانی وفد کی قیادت سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری جبکہ افغان وفد کی قیادت اسلام آباد میں افغان سفیر ڈاکٹر حضرت عمر زاخیلوال نے کی۔
ان کے علاوہ پاکستان اور افغانستان کے لیے امریکہ کے نمائندہ خصوصی رچرڈ اولسن اور افغان امور کے لیے چین کے خصوصی نمائندے ڈینگ شی جن بھی اس اجلاس میں شریک تھے۔
پاکستانی دفترِ حارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ چار ملکی رابطہ گروپ نے 19 اپریل کو کابل میں ہونے والے دہشت گردوں کے حملے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ اس قسم کے واقعات میں ملوث عناصر کو اپنے اعمال کے نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
چار ملکی مصالحتی گروپ کا یہ پانچواں اجلاس ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب افغان صدر نے کابل میں ہونے والے خودکش حملے کے بعد کہا تھا کہ وہ پاکستان سے اس بات کی توقع نہیں رکھتے کہ پاکستان افغان طالبان کو مذاکرات کی میز پر لائے۔
اجلاس سے قبل اسلام آباد میں افغان سفیر ڈاکٹر زاخیلوال نے بی بی سی پشتو سروس کے خدائے نور ناصر سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب چونکہ طالبان نے مذاکرات کی بجائے جنگ کو ترجیح دی ہے اور موسم بہار کی آمد پر تشدد کا ایک نیا سلسلہ شروع کر لیا ہے تو اس اجلاس میں اُن اقدامات پر بحث ہو گی کہ افغان طالبان کے مذاکرات سے انکار کے بعد پاکستان حقانی نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرے۔
تاہم پاکستانی حکام کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں اس سلسلے میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔
افغان مصالحتی عمل کا باقاعدہ آغاز گذشتہ سال ہوا تھا لیکن طالبان کے اُس وقت کے سربراہ ملا عمر کی موت کے بعد یہ عمل التوا کا شکار ہو گیا تھا۔
رواں سال جنوری میں ایک بار پھر چار ملکی افغان مصالحتی عمل کا آغاز اسلام آباد سے ہوا جس کے اب تک چار اجلاس ہو چکے ہیں۔ ان میں سے دو اجلاس اسلام آباد میں اور دو افغان دارالحکومت کابل میں ہوئے ہیں۔
بعض تجزیہ نگار چار ملکی مصالحتی عمل کے اس پانچویں اجلاس کو فیصلہ کن قرار دے رہے ہیں کیوں کہ ان کے بقول اگر کابل کے حقانی نیٹ ورک کے خلاف آپریشن کے مطالبے پر پاکستان نے کوئی یقین نہیں دلایا تو یہ مصالحتی عمل ایک بار پھر التوا کا شکار ہو سکتا ہے۔
خیال رہے کہ کچھ ہفتے پہلے ہی افغان طالبان کے قطر دفتر کا ایک وفد پاکستان آیا تھا۔ تاہم کابل میں گذشتہ ماہ ہونے والے خودکش حملے کے فوراً بعد افغان عوام کے دباؤ کے بعد افغان حکام نے مذاکرات کے اس عمل سے ناامیدی کا اظہار کیا تھا۔
امریکہ نے بھی کابل کے اس حملے کے بعد پاکستان پر زور دیا تھا کہ وہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف ٹھوس اقدامات کرے۔
http://www.bbc.com/urdu/pakistan/2016/05/160518_afghanistan_quameeting_afghan_sh
جنگ مسائل کا حل نہ ہےاور یہ مزید مسائل کو جنم دیتا ہے۔ سیاسی تصفیے کے لیے امن مذاکرات ہی مسائل کا واحد حل ہے۔ حزب اسلامی کا افغان حکومت کے ساتھ حالیہ امن معاہدہ طالبان پر امن مذاکرات کے لئے دباو میں اضافہ کر دے گا۔وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ افغان طالبان نے اب تک مذاکرات کا مثبت جواب نہیں دیا، گلبدین حکمت یار کے بعد امید ہے دیگر گروپ بھی امن مذاکرات پر دستخط کردیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ پاکستان کاافغان طالبان پر مکمل کنٹرول ہے اور ہم انہیں مذاکرات کی ٹیبل پر لاکر وہ معاہدہ کراسکتے ہیں جس کی سب خواہش کررہےہیں ، اس طرح کاتاثر غیر حقیقی توقعات کو جنم دیتا ہے اور نتیجے میں بداعتمادی ہوتی ہے ۔
طالبان کو بھی زمینی حقائق کا بخوبی ادراک ہونا چاہئے کیونکہ لمبی خانہ جنگی اور آئے روز کی بڑہتی ہوئی ہلاکتوں کی وجہ سے افغانستان کے لوگ اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل سے متعلق مایوس ہیں اور وہ جنگ سے تنگ آچکے ہیں اور امن کو موقع دینے کے خواہاں ہیں۔ طالبان کو مذاکرات میں شامل ہو کر ، اورافغانستان کے آئندہ سیاسی عمل میں شامل ہو کر ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئیے۔ ایسے مواقع تاریخ بار بار بہم نہ پہنچاتی ہے۔
قران حکیم کی سورۂ انفال میں ہدایت کی گئی ہے ’’اگر دشمن صلح و سلامتی کی طرف مائل ہو تو تم بھی اس کے لئے آمادہ ہوجاؤ، اور اللہ پر بھروسہ رکھو، بے شک اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔ اگر وہ دھوکے کی نیت رکھتے ہوں تو تمہارے لئے اللہ ہی کافی ہے‘‘یعنی اللہ کے نزدیک صلح و آشتی اتنی پسندیدہ چیز ہے کہ دشمن سے دھوکے کا اندیشہ ہو تب بھی اللہ کے بھروسے پر صلح کے راستے کو ترجیح دینے کو کہا گیاہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام جو امن و سلامتی کا دین ہے، حتی الامکان خونریزی کو روکنا چاہتا ہے اور کوئی دوسری صورت باقی نہ رہنے کی شکل ہی میں مسلح جنگ کی اجازت دیتا ہے ۔طالبان کو بھی جنگ کی بجائے امن اور مذاکرات کو ترجیح دینی چاہئیے۔ امن سے بہتر اور کوئی چیز نہ ہے۔
افغان طالبان کو سمجھنا ہوگا کہ ان کی پیشگی شرائط مذاکرات کے نتیجے میں تو پوری ہو سکتی ہیں، ان سے پہلے نہیں۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ افغان طالبان تک پہنچایا جانے والا ’بنیادی پیغام یہی ہوگا کہ بہت سی پیشگی شرائط جو وہ پیش کر رہے ہیں، مذاکرات کے نتیجے میں تو پوری ہو سکتی ہیں لیکن بات چیت سے قبل ان کا تسلیم کیا جانا ممکن نہیں۔‘
جن امور پر دوران مذاکرات غور و خوض ہونا چاہیے انہیں مذاکرات سے قبل اٹھا کر طالبان نے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے سوال یہ ہے کہ اگر مذاکرات سے قبل ان تمام شرائط کو تسلیم کرلیا جائے تو پھر مذاکرات کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے اس کے بعد مذاکرات بے معنی ہو کر رہ جائیں گے مذاکرات کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے جب تنازعہ موجود ہو اور اسے حل کرنے کیلئے متعلقہ فریق مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر اسے حل کرنے کیلئے ایک دوسرے سے تعاون کریں ۔
رحیم اللہ یوسف زئی کے مطابق افغانستان کا معاملہ کئی سال پرانااور پیچیدہ ہے۔اس میں کئی عناصر ملوث ہیں۔،گورنمنٹ،نان سٹیٹ ایکٹرز اور اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ یہ جلد حل ہو جائے گا،یہ اس کی خام خیالی ہوگی۔
اس پیچیدہ مسئلہ کے دیرپا حل کیلیے اصل فریقین یعنی افغان حکومت اور طالبان کو بنیادی کردار ادا کرنا ہوگا، دونوں فریقین کوانتہائی سنجیدگی اور ذمے داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ کئی سال سے بدامنی و خانہ جنگی کے شکار،افغانستان میں دیرپا امن کے قیام کی راہ ہموارہوسکے۔طالبان کو بھی ان مذاکرات میں بلاکسی شرط ،شامل ہو کر اس کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئیے۔مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کیلئے فریقین کے رویوں میں لچک ضروری ہے دونوں فریقوں کو یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ ان کے رویوں میں لچک نہ ہونے کے باعث انہیں رابطہ گروپ اور عالمی رائے عامہ کے عدم اعتماد اور برہمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Advertisements