افغان طالبان کا نیا سربراہ کون ہو گا ؟


indexbde

افغان طالبان کا نیا سربراہ کون ہو گا ؟

نجی ٹی و ی چینل جیونیوز کے مطابق تحریک طالبان افغانستان کی رہبری شوریٰ کا اجلاس اختتام پذیر ہو گیاہے ، اجلاس میں  نئے طالبان امیرکیلیے ملا محمد یعقوب اورسراج الدین حقانی کے نا م فائنل کرلیے گئے ہیں جبکہ شوری ٰکی اکثریت نے ملا یعقوب کیلئے جانشین بنانے کی رائے دی ہے۔ ملا یعقوب سابق طالبان امیر ملا محمدعمر کا بیٹا  جبکہ سراج الدین حقانی معروف افغان کمانڈر جلال الدین حقانی کا بیٹاہے۔اجلا س کے اختتام پذیر ہونے کے بعد اگلے چند گھنٹوں میں ملا اختر منصور کی ہلاکت کا رسمی اعلان بھی متوقع ہے ،تحریک طالبان افغانستان کااجلاس پاک افغان سرحدی علاقوں میں 2روزجاری رہا۔

http://dailypakistan.com.pk/international/24-May-2016/386624

news-1464032165-5385_large

افغان طالبان کے امیر ملا اختر منصور کے ایک فضائی حملے میں احمدوال،نوشکی، بلوچستاں میں مارے جانے کے بعد طالبان کے نئے امیر کے بارے میں میڈیا میں نئی بحث چھڑ گئی ہے ۔
افغان طالبان کے نئے ممکنہ سربراہ کے امیدوار:
ملا یعقوب
ملا منان
ملا ہیبت اللہ اخوند
سراج الدین حقانی
ملا شیرین
ملاعبدالقیوم ذاکر
طالبان میں موجود ذرائع نے بھی تجویز دی ہے کہ ملا یعقوب ہی گروپ کے نئے سربراہ ہوں گے کیونکہ بیشتر طالبان رہنماؤں نے ان کی حمایت کی ہے۔افغان امور کے ماہر اور تجزیہ نگار رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ ‘ملا عمر کے بیٹے ملا یعقوب تمام گروپوں کیلئے قابل قبول ہیں، اور جیسا کہ ملا رسول یہ بات کہہ چکے ہیں کہ اگر ملا یعقوب کو گروپ کا سربراہ مقرر کردیا جائے تو طالبان کے تمام گروپ اس میں دوبارہ شمولیت اختیار کرلیں گے۔ ملا یعقوب متحد کرنے والے ہیں اور نزاعی نہ ہیں۔ معززین یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ انہیں ایک نوجوان اورزیادہ پرجوش  و پر عزم امیر چاہئیے۔ناکہ حقانی جیسا سازشی شخص، جو ملا ذاکر کے ساتھ مل کر ملا منصور کے خلاف سازشیں کرتا رہا۔
سراج حقانی کا ملا منصور کا جانشین ہونا نہایت مشکل کام ہو گا کیونکہ ایک تو وہ متفق الیہ جانشین نہ ہونگے ۔دوسرے ان کا تعلق قندھار سے نہ ہے۔تیسرے طالبان میں دوسرے گروپ ان کی طاقت سے خائف ہیں۔چوتھے اکثر طالبان ان کو افغان طالبان کا حصہ نہ مانتے ہیں۔ حقانی کے القائدہ اور بیرونی طاقتوں سے گہرے روابط ہیں۔

ملا اختر منصور ایران کیوں تھا؟ کیا وہ ایرانیوں کے ہاتھوں بک گیا تھا؟کیا وہ شیعہ ایران کے ساتھ پاکستان کے خلاف سازش کر رہا تھا؟
ملا عبدالقیوم ذاکر اور ملا شیرین کے نام بھی طالبان کی امارت کے لیے لیے جارہے ہیں ۔سراج حقانی کا نام بھی امیدواروں میں شامل ہےکیونکہ ملا اختر منصور نے انھیں نائب امیر اول اور ملا ہیبت اللہ کو نائب امیر دوئم مقرر کردیا تھا ، انہیں ملا عمر کے بیٹوں ملا محمد یعقوب اور ملا عبدالمنان کی بھی حمایت حاصل ہے۔
افغان امور کے ماہرین اور طالبان ذرائع نے امریکی ڈرون حملے میں مبینہ طور پر ہلاک ہونے والے افغان طالبان کے امیر ملا منصور کی ہلاکت کے بعد سابق طالبان رہنما ملا عمر کے بیٹے ملا یعقوب کو تنظیم کا نیا سربراہ مقرر کیے جانے کا امکان ظاہر کیا ہے۔
انٹر سروسز انٹیلیجنس (آئی ایس آئی) کے سابق عہدیدار برگیڈیئر (ر) محمود شاہ نے کہا ہے کہ ‘تنظیم میں مختلف دھڑوں کے باعث طالبان کیلئے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ کسی شخص کو بلا مقابلہ سربراہ منتخب کریں’۔محمود شاہ نے دعویٰ کیا کہ نئے سربراہ کو نامزد کرنا اس مرتبہ اتنا آسان نہیں ہوگا جیسا کہ ملا منصور کے معاملے میں ہوا تھا، کیونکہ ملا منصور، سابق طالبان رہنما ملا عمر کے بہت قریبی تھے اور ملا عمر کی موت کے بعد دو سال سے خاموشی سے تنظیم کو چلا رہے تھے۔
افغانستان کے سابق سفیر رستم شاہ محمود کا کہنا تھا کہ ‘سراج الدین حقانی کو ان کے علیحدہ گروپ (حقانی نیٹ ورک) کی وجہ سے مزاحمت کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے، جیسا کہ کچھ عناصر انھیں طالبان کا حصہ تصور نہیں کرتے ہیں’۔
افغان امور کے ماہر اور تجزیہ نگار رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ ‘ملا عمر کے بیٹے ملا یعقوب تمام گروپوں کیلئے قابل قبول ہیں، اور جیسا کہ ملا رسول یہ بات کہہ چکے ہیں کہ اگر ملا یعقوب کو گروپ کا سربراہ مقرر کردیا جائے تو طالبان کے تمام گروپ اس میں دوبارہ شمولیت اختیار کرلیں گے’۔سراج حقانی کو نیا امیر نہ بنایا جائے گا کیونکہ اس کے امیر بننے سے  کئی مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔
طالبان میں موجود ذرائع نے بھی تجویز دی ہے کہ ملا یعقوب ہی گروپ کے نئے سربراہ ہوں گے کیونکہ بیشتر طالبان رہنماؤں نے ان کی حمایت کی ہے۔

تمام طالبان وحشی اور خونخوار درندے ہیں جن کے ہاتھوں پر معصوم اور بیگناہ افراد ، عورتوں اور بچوں کا خون ہے اور جو جنگ و جدال اور خونخواری اور تباہی و بربادی کے دلدادہ ہیں۔

Advertisements