ہیبت اللہ اخونزادہ افغان طالبان کے نئے امیر مقرر


CjScJ-EW0AA-8vn

ہیبت اللہ اخونزادہ افغان طالبان کے نئے امیر مقرر

افغان طالبان نے بھی امیر ملا اختر منصور کی ڈرون حملے میں ہلاکت کی تصدیق کردی۔غیر ملکی خبر رساں ایجنسیوں کے مطابق افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے، ملا اختر منصور کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کی تصدیق کی۔
افغانستان کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’خاما پریس‘ کی رپورٹ میں بھی ملا اختر منصور کی ہلاکت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ مولوی ہیبت اللہ اخونزادہ کو افغان طالبان کا نیا امیر مقرر کیا گیا ہے۔مولوی ہیبت اللہ اخونزادہ کو طالبان شوریٰ نے متققہ طور پر امیر منتخب کیا۔

956306-omar-1442190125

سراج الدین حقانی اور ملا یعقوب کو ڈپٹی امیر مقرر کیا گیا ہے۔ http://www.dawnnews.tv/news/1037622/
http://www.dawn.com/news/1260556/afghan-taliban-confirm-mansours-death-appoint-mullah-haibatullah-as-successor

indexbde
ہیبت اللہ اخوانزادہ سابق امیر ملااختر منصور کے نائب جبکہ طالبان کے دور حکومت میں چیف جسٹس کے عہدے پر فائز رہے۔
تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی چینلز نے افغان میڈیا کے حوالے سے بتایا ہے کہ افغان طالبان نے بھی ملااختر منصور کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے جبکہ طالبان کی جانب سے ہیبت اللہ خان اخوانزادہ کو نیا سربراہ مقرر کرنے کا بھی اعلان کردیا ۔
ہیبت اللہ اخوانزادہ ملا منصور کے ڈپٹی تھے تھے ۔افغان طالبان کی شوریٰ نے طویل سوچ و بچار کے بعد ان کا نام منتخب کیا ہے۔قبل ازیں سراج الدین حقانی کے علاوہ سابق امیر طالبان ملا عمر کے بیٹے ملا یعقوب کا نام بھی زیر غور آیا لیکن شوریٰ نے ہیبت اللہ خان کے نام کی توثیق کی۔میڈیا رپورٹس کے مطابق سراج الدین حقانی اور ملاعمر کے بیٹے ملا یعقوب کو ڈپٹی سپریم لیڈر مقرر کیا گیا ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق ملا یعقوب کو شاید آئندہ کچھ برسوں تک باقاعدہ امارت کیلئے تیار کیا جائے اور تب تک ہیبت اللہ امیر رہیں ۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ابتدائی طو ر پر تو شوریٰ ہیبت اللہ کے نام پر متفق نظر آ رہی ہے لیکن اس بات کا خدشہ ہے کہ شاید ہیبت اللہ اپنی حمایت برقرار نہ رکھ سکیں۔
قبل ازیں ڈیلی ٹائمز اخبار کی ایک رپورٹ کے مطابق جمعیت علما اسلام (س)کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ ملا اخر منصور نے اپنی ہلاکت کی صورت میں ہیبت اللہ اور سراج الدین حقانی کو اپنا جانشین مقر رکیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ ملا اختر منصور کی ہلاکت سے طالبان کی تحریک کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادار کے مطابق امیر کے تقرر کیلئے تین روز سے شوریٰ سر جوڑ کر بیٹھی تھی جس کے بعد آج یہ فیصلہ سامنے آیا ہے۔گزشتہ روز جاری ہونے والی فرانسیسی میڈیا کی ایک رپورٹ کے مطابق  ملا اختر منصور کی ہلاکت کے بعد طالبان کو جانشینی کی تلاش میں مسائل کا سامنا ہوا۔ ایک سینیئر طالبان نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ طالبان تحریک کے بانی ملا عمر کے بیٹے ملا یعقوب اورسراج الدین حقانی نے  قیادت سنبھالنے سے معذرت کر لی تھی۔ماہرین نے دعویٰ کیا تھا کہ ملا یعقوب واحد نام ہے، جو اگر قیادت سنبھال لیں تو طالبان کی صفوں میں ایک مرتبہ پھر اتحاد پیدا ہو سکتا ہے۔
http://dailypakistan.com.pk/international/25-May-2016/387074

news-1464032165-5385_large
مولوی ہیبت اللہ ملا اختر منصور کے نائب تھے اور شوریٰ نے بظاہر حقانی نیٹ ورک کے سراج الحق کی جگہ ہیبت اللہ کو ترجیح دی ہے۔ شوری نے ملا محمد عمر کے صاحبزادے مولوی یعقوب کو ہیبت اللہ کی جگہ نائب امیر مقرر کیا ہے۔

رحیم اللہ یوسفزئی کا کہنا تھا کہ نئے طالبان امیر ہیبت اللہ اخونزادہ صوبہ قندھار کے ارغستان ضلع کے رہنے والے ہیں اوران کا تعلق نورزئی قبیلے سے ہے جبکہ ان کی عمر 55 سال ہے۔ ہیبت اللہ اخونزادہ ابتدائی دنوں میں طالبان تحریک میں شامل ہوئے اور افغانستان پر روس کے حملہ کے وقت پاکستان آگئے اور ایک مسجد میں امامت کرنے لگے جبکہ امریکہ کے حملہ کے وقت بھی پاکستان آگئے تھے ۔

گارجین کے مطابق مبینہ طور پر افغان صوبے قندھار کے ضلع پنجوانی سے تعلق رکھنے والے ہیبت اللہ نورزئی قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں، طالبان کے روحانی مرکز سے تعلق ہونے کی وجہ سے جنوبی کمانڈروں میں بھی ان کا اثر روسوخ پایا جاتا ہے جو طالبان کے مختلف دھڑوں کو متحد کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

افغان امور کے ماہر صحافی رحیم اللہ یوسف زئی کا کہنا ہے کہ اس اعلان سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان ملا یعقوب کو مستقبل کے رہنما کے طور پر تیار کرنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ملا یعقوب تمام گروپوں کے لیے قابل قبول ہیں، اور کہا جا رہا تھا کہ اگر انھیں امیر مقرر کر دیا جائے تو طالبان کے تمام منحرف گروپ دوبارہ شمولیت اختیار کرلیں گے، لیکن شاید ان کی ناتجربہ کاری اور نوعمری ان کی امارت کے راستے میں آڑے آ گئی۔

صحافی رحیم اللہ یوسف زئی نے بتایا کہ ملا ہیبت اللہ افغان طالبان کی 1994 میں قندہار سے شروع ہونے والی تحریک کے 33 ارکان کا حصہ نہیں تھے۔

انھوں نے کہا کہ ملا ہیبت اللہ اصل میں ایک مذہبی رہنما ہیں جن کا جنگی تجربہ کم ہے، لیکن اس وقت طالبان دھڑے بندیوں کا شکار ہیں جن کی وجہ سے ایک مذہبی رہنما کو سربراہ مقرر کیا گیا ہے تاکہ زیادہ لوگوں کو اعتراض نہ ہو۔ملا ہیبت اللہ طالبان کی جنگی کارروائیوں کے حق میں فتوے جاری کرتے رہے ہیں۔ ان کی عمر 45 سے 50 سال کے درمیان بتائی جاتی ہے۔اہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کے افغان طالبان کی مبینہ کوئٹہ شوریٰ کے ارکان سے گہرے روابط رہے ہیں۔

افغان امور کے ماہر صحافی طاہر خان نے  کہا  کہ ملا ہیبت اللہ افغانستان کے علاقے ننگرہار میں ایک مدرسہ چلاتے رہے ہیں، جس کی وجہ سے بہت سے طالبان انھیں اپنا استاد کہتے ہیں۔

تاہم انھوں نے کہا کہ بظاہر ایسا نظر آ رہا ہے کہ ملا ہیبت اللہ صرف علامتی سربراہ ہوں گے اور اصل اختیارات ان کے نائبین یعنی ملا یعقوب اور طاقتور فوجی کمانڈر سراج الدین حقانی کے پاس ہوں گے۔

انھوں نے کہا کہ اپریل میں ملا یعقوب کو افغانستان کے 15 صوبوں کا فوجی کمانڈر مقرر کیا گیا تھا، اس لیے توقع یہی ہے کہ طالبان کے جنگی امور کی قیادت یہی دو نائبین کریں گے۔

صحافی سمیع یوسف زئی نے ٹوئٹر پر لکھا ہے کہ ’ملا ہیبت اللہ کی بطور سربراہ تعیناتی سے ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے طالبان دوبارہ پتھر کے دور میں چلے گئے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ طالبان نے ایک روایتی دیہاتی ملا کو امیر مقرر کیا ہے جو مستقبل میں مفاہمت کے منہ پر طمانچہ ہے۔

سراج حقانی کا ملا ہیبت اللہ کا ڈپٹی بنانا بھی نہایت غلط کام اور فیصلہ ہےکیونکہ ایک تو وہ متفق الیہ شخص نہ ہے۔دوسرے ان کا تعلق قندھار سے نہ ہے۔تیسرے طالبان میں دوسرے گروپ ان کی طاقت سے خائف ہیں۔چوتھے اکثر طالبان ان کو افغان طالبان کا حصہ نہ مانتے ہیں۔ حقانی کے القائدہ اور بیرونی طاقتوں سے گہرے روابط ہیں اور وہ ان طاقتوں کا کٹھ پتلی ہے۔ حقانی سازشی ہے اور اس کے ہاتھوں پر معصوم افغان عوام کا خون ہے۔

جب سراج حقانی نے ملا ذاکر کو کوئٹہ شوری میں واپس آنے اور ملا منصور کی بیعت کرنے سے متعلق قائل کیا،جس سے ملا ذاکر نفرت کرتا تھا، تو دونوں کو علم تھا کہ یہ بیعت صرف ایک مہینہ تک چلے گی۔دونوں نے بیعت کو پس پشت ڈالتے ہوئے، اٖفغان طالبان کو کنٹرول کرنے کا منصوبہ بنایا،ایک نے اپنے غیر ملکی آقاوں کو اور دوسرے نے عرب وہابیوں کو خوش کرنے کے لئے۔حقانی اور ذاکر اب دونوں بالترتیب سیاسی کمیشن اور ملٹری کمیشن کے سربراہ ہیں، ان کے تند و سخت انقلاب کے بعد، جس کے نتیجہ میں ملا منصور جان سے گئے، اور ان مجرموں نے ملا منصور کی موت کے ذمہ داروں سے متعلق تمام سراغ مٹا دیئے۔

داعش نے طالبان دھڑوں، القائدہ اور ان کے ایرانی اتحادیوں کے خلاف کھلی جنگ کا اعلان کیا ہوا ہے۔ منصور ایران جاتا رہا ہےاور الظواہری نے منصور کی بیعت کی ہوئی تھی، لہذا داعش ، منصور کے ایران کےد وروں کو اور اس کے غیر ملکی آقاوں سے تعلقات کو مانیٹر کرتے رہے۔ داعش اب ایمن الظواہری کو ڈھونڈ نکالنے پر کافی روپیہ پیسہ خرچ کر رہی ہے۔

طالبان کو بالآخر مذاکرات کی میز پر واپس آنا ہے کیونکہ معاملات ایک سیاسی سمجھوتے سے ہی حل ہو نگے۔ جنگ مسائل کا حل نہ ہے۔

Advertisements