طالبان کا ملا رسول دھڑا مذاکرات پر تیار


indexvderdc

طالبان کا ملا رسول دھڑا مذاکرات پر تیار

افغان طالبان کے ایک دھڑے نے افغان حکومت سے امن مذاکرات کے لیے آمادگی ظاہر کردی، تاہم ساتھ ہی انہوں نے افغانستان سے غیر ملکی فوجیوں کو نکالنے اور ملک میں شریعت کے نفاذ کا بھی مطالبہ کردیا۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق ملا محمد رسول کی سربراہی میں کام کرنے والے طالبان دھڑے کے ایک سینئر لیڈر ملا عبدالمنان نیاری نے کہا کہ ہمیں افغان حکومت کی باتوں پر اعتبار نہیں لیکن ہم پھر بھی پیشگی شرائط کے بغیر ان سے امن مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔

160525071519_molvi_hibtullah_taliban_leader_304x171_aip_nocredit

واضح رہے کہ ملاعبدالمنان نیازی، ملا محمد رسول کے نائب ہیں۔ گزشتہ برس ملا اختر منصور کے طالبان امیر بننے کے بعد ملا محمد رسول کو طالبان نے نکال دیا گیا تھا، جس کے بعد انھوں نے اپنا علیحدہ دھڑا بنالیا۔
یاد رہے کہ ملا اختر منصور جو افغان صدر اشرف غنی کی جانب سے مذاکرات کی پیشکش ٹھکرا چکے تھے، گذشتہ ہفتے پاک افغان کے سرحدی علاقوں میں ڈرون حملے کے نتیجے میں ہلاک ہوچکے ہیں۔

indexbde
ملا اختر منصور کی ہلاکت کے بعد مولوی ہیبت اللہ اخونزادہ کو افغان طالبان کا نیا امیر مقرر کیا گیا۔
دوسری جانب افغان طالبان کے مرکزی گروپ کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ملا محمد رسول پر الزام لگایا کہ ان کے گروپ کو امریکا اور افغان حکومت کی سرپرستی حاصل ہے، ان کا کہنا تھا، ‘ہمارے لیے یہ لوگ ایک مقامی پولیس اورافغان انٹیلی جنس کی کٹھ پتلی کے علاوہ کچھ نہیں۔ اگر افغان حکومت ہمارے مطالبات ماننے کے لیے تیار ہے تو ہم مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔’
خیال رہے کہ افغان طالبان کے دونوں دھڑوں کا ایک ہی مطالبہ ہے کہ ملک میں شریعت نافذ کرکے غیر ملکیوں کو افغانستان سے باہر کیا جائے۔
دسمبر 2014 میں امریکی اور نیٹو افواج سرکاری طور پر جنگ بندی ختم کرکے افغانستان سے جاچکے ہیں لیکن اب بھی غیر ملکی افواج کی بڑی تعداد ملک میں موجود ہیں۔
دوسری جانب طالبان کی افغان حکومت اور سیکیورٹی فورسز کے خلاف کارروائیاں بھی جاری ہیں، صوبائی گورنر عمر زواق کے مطابق طالبان نے ہفتے کو صوبہ ہلمند میں واقع ایک چیک پوسٹ میں حملہ کیا تھا جس کے نیتجے میں 4 پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔
http://www.dawnnews.tv/news/1037849/
http://dailyazad.com/world/2016-05-30/22352
دہشت گردی کے خاتمے کے لیےافغانستان میں امن کا قائم ہونا ناگزیر ہے۔ ملا رسول دہڑے کی اس پیشکش سے افغان طالبان پر مذاکرات کے لئے جانے کے لئے دباو بڑے گا۔ اگر افغان طالبان إزاکرات کے لئے تیار نہ ہوئے تو طالبان کی صفوں میں ٹوٹ پھوٹ شروع ہو جائے گی اور طالبان میں اور دہڑے بن جائیں گے۔
ویسے بھی افغانستان کے مسئلے کافوجی حل نہیں ہے، جنگ مسائل کا حل نہ ہےاور یہ مزید مسائل کو جنم دیتا ہے۔ سیاسی تصفیے کے لیے امن مذاکرات ہی مسائل کا واحد حل ہے۔
وہاں امن کاواحد حل مذاکرات ہیں، اگر عسکری کارروائی سے مسئلہ حل ہوتا تو گزشتہ 15سالوں میں افغانستان میں امن قائم ہوچکا ہوتا۔دہشتگردی اور عسکریت پسندی کا براہِ راست نتیجہ افغان جنگ کی صورت میں نکلا، پاکستان اس دہشت گردی کا بڑا نشانہ بنا، مستحکم افغانستان ، پاکستان کے مفادمیں ہے۔ اور اگر افغانستان میں امن ہوگاتو پاکستان میں امن قائم ہوگا، امن کیلئے طالبان سمیت تمام افغان دھڑوں کو مل کر بیٹھنا ہوگا۔
طالبان کو بھی زمینی حقائق کا بخوبی ادراک ہونا چاہئے کیونکہ لمبی خانہ جنگی اور آئے روز کی بڑہتی ہوئی ہلاکتوں کی وجہ سے افغانستان کے لوگ اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل سے متعلق مایوس ہیں اور وہ جنگ سے تنگ آچکے ہیں اور امن کو موقع دینے کے خواہاں ہیں۔ طالبان کو مذاکرات میں شامل ہو کر ، اورافغانستان کے آئندہ سیاسی عمل میں شامل ہو کر ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئیے۔ ایسے مواقع تاریخ بار بار بہم نہ پہنچاتی ہے۔
افغان طالبان کو سمجھنا ہوگا کہ ان کی پیشگی شرائط مذاکرات کے نتیجے میں تو پوری ہو سکتی ہیں، ان سے پہلے نہیں۔سوال یہ ہے کہ اگر مذاکرات سے قبل ان تمام شرائط کو تسلیم کرلیا جائے تو پھر مذاکرات کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے اس کے بعد مذاکرات بے معنی ہو کر رہ جائیں گے مذاکرات کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے جب تنازعہ موجود ہو اور اسے حل کرنے کیلئے متعلقہ فریق مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر اسے حل کرنے کیلئے ایک دوسرے سے تعاون کریں ۔
فریقین کوانتہائی سنجیدگی اور ذمے داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا تاکہ کئی سال سے بدامنی و خانہ جنگی کے شکار،افغانستان میں دیرپا امن کے قیام کی راہ ہموارہوسکے۔طالبان کو بھی ان مذاکرات میں بلاکسی شرط ،شامل ہو کر اس کو کامیاب بنانے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئیے۔مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کیلئے فریقین کے رویوں میں لچک ضروری ہے ۔

Advertisements