افطاری اور سحری کے دوران اعتدال کا مظاہرہ کریں


IMAGE635093193270483102

افطاری اور سحری کے دوران اعتدال کا مظاہرہ کریں

ماہِ صیام نیکیوں کی بہاریں لوٹنےکا مہینہ تو ہے ہی،مگر سحری اور افطاری کے اوقات میں دستر خوانوں کا طرح طرح کے پکوانوں سے سجنا بھی روایت بن چکی ہے۔نیکیوں کی بہارماہِ صیام میں ہر گھرانے کے دسترخوان وسیع ہو جاتے ہیں،سحری میں پراٹھے ،مصالحے دار سالن، لسی اور دہی،تو افطاری میں پکوڑے، سموسے، کچوریاں، پھل اورچٹ پٹے پکوان بنتے ہیں۔

images
طبی ماہرین روزے داروں کوبےاعتدالی سے بچنےکیلئےکیا کیامشورے دیتےہیں۔جن کا ایک ہی مشورہ ہے کہ مرغن،چٹ پٹی اور چکنائی والی اشیاء سےپرہیز کریں،گرمی ہے،پسینہ زیادہ خارج ہوتا ہے،سحری میں سادہ کھانا اور لسی لیں،تو افطاری بھی کھجور،لسی،اسکنجین،مشروبات اور پھل سےکریں۔

eftari-014

khatiMeethiChanaChart
روزے کی افادیت اور طبی فوائد سے انکار کسی صورت ممکن نہیں اور اب تو جدید سائنس نے بھی اس بات کو تسلیم کر لیا ہے۔امریکہ کی یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا میں ہونے والی تحقیق میں ماہرین نے یہ انکشاف کیا ہے کہ روزہ رکھنے سے نہ صرف جسمانی دفاعی نضام مضبوط ہو جاتا ہے بلکہ اس کے انسانی صحت پر بھی کئی خوشگوار اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ماہرین کا کہنا ہے کہ روزہ ڈھلتی عمر میں انسان کے جسم میں پیدا ہونے والے طبی مسائل کم کرنے کے ساتھ ساتھ قوت برداشت کو بھی نا قابل تسخیر بنا دیتا ہے۔تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ روزے رکھنے سے خراب یا بیکار خلیات کی صفائی بھی ہو جاتی ہے۔
ایم ایس میو اسپتال لاہورڈاکٹر امجد شہزاد نے کہا کہ روزہ دارافطاری کےایک گھنٹے بعدہلکا کھانا کھائیں،شوگر اور دل کے مریض روزہ رکھ سکتے ہیں ،مگرادویات اورانسولین لینے والےمریض ڈاکٹر کے مشورے پر عمل کریں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ سونے اور کھانے کے درمیان2 گھنٹے کا وقفہ ضروری ہے،اس دوران ہلکی پھلکی ورزش بھی ضرور کریں ۔
ماہر طب کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک میں ذیابیطیس سے متاثرہ حاملہ خواتین روزہ ركھنے سے اجتناب كریں جب كہ ڈائیلسس یا گردے ناكارہ ہونے والے مریض روزہ ركھ کر اپنی جان خطرے میں نہ ڈالیں۔
ذیابیطس کے معروف معالج پروفیسر زمان شیخ نے کہا کہ رمضان المبارک میں ذیابیطیس سے متاثرہ حاملہ خواتین روزہ ركھنے سے اجتناب كریں جب كہ ڈائیلسس یا گردے ناكارہ ہونے والے مریض روزہ نہیں ركھ سكتے ہیں ،حال ہی میں دل كی سرجری (ہارٹ اٹیك) والے مریض بھی ہائی رسک میں شامل ہوتے ہیں، روزے كے دروان شوگركوچیک كیا جاسكتا ہے اور ذیابیطیس كے وہ مریض جوٹیبلیٹ سے اپنی شوگركنٹرول كرتے ہیں روزے ركھ سكتے ہیں تاہم انہیں دواؤں كے اوقات میں تبدیلی كرنا ہوگی، انسولین لگانے والے مریض اپنے معالجین سے مشورے اورانسولین كے اوقات اور انسولین یونٹ میں تبدیلی كركے روزہ ركھ سكتے ہیں۔
پروفیسر زمان شیخ نے کہا کہ روزے میں ذیابیطس كے مریضوں كو 3 گروپوں میں تقسیم كیا گیا ہے، طبی نكتہ نگاہ سے ایسی خواتین جو ذیابیطس كا شكار اور حاملہ ہیں وہ روزہ نہیں ركھ سكتیں جب كہ ایسے ذیابیطیس كے مریض كو اپنی شوگر ٹیبیلیٹ سے كنٹرول كرتے ہیں انہیں روزے ركھنا چاہئیں اور انسولین لگانے والے مریض بھی اپنے معالج سے مشورہ كركے روزے ركھ سكتے ہیں تاہم حال ہی میں دل كی سرجری كرانے والے مریض روزے نہیں ركھ سكتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ روزے كے دوران خون میں شوگركی سطح 60 سے كم ہوجائے توروزہ توڑ لینا چاہیے، اگر صبح كے وقت خون میں شوگركی سطح 70 سے كم ہوجائے تو بھی روزہ توڑ دینا چاہیے جب كہ روزے كے دوران شوگر ساڑھے 300 سے زائد جائے اور علامات بھی ظاہر ہوجائیں تو بھی روزہ توڑ دینا بہتر ہے۔
معروف معالج كا كہنا تھا كہ جو مریض ڈائیٹنگ پر روزے كوكنٹرول كررہے ہیں انہیں روزے ركھنا چاہئے، شوگر كے مریضوں كو افطار اورسحری میں تلی ہوئی اشیاء كم سے كم استعمال كرنا چاہیے جب كہ روزہ افطار میں سافٹ ڈرنكس نقصان دہ ہے، شوگر كے مریضوں كوافطاركے وقت سافٹ ڈرنكس كااستعمال انتہائی نقصان دہ ہوتا ہے، اس كی جگہ لسی یا لیموں پانی استعمال كرسكتے ہیں، افطار میں شوگر مریض فروٹ چاٹ كا استعمال بھی محتاط اندازسے كرسكتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیسن كی اشیا کا بھی كم استعمال كی جائے جب کہ بازار میں غیر صحت مندانہ ماحول میں تیار كی جانے والی تلی ہوئی اشیا ذیابیطیس كے مریضوں كے لیے انتہائی نقصان دہ ہوسكتی ہیں۔ ان كا كہنا تھا كہ ذیابیطیس كے مریض افطار وسحر میں احتیاط سے كام كرلیں توروزے ركھے جاسكتے ہیں۔

Advertisements

“افطاری اور سحری کے دوران اعتدال کا مظاہرہ کریں” پر ایک تبصرہ

  1. Does your site have a contact page? I’m having problems locating it but, I’d like to shoot you an email.
    I’ve got some suggestions for your blog you might be interested
    in hearing. Either way, great website and I look forward to seeing it expand over time.

تبصرے بند ہیں۔