افطار میں بلوچستان کی روایتی ڈش سجی


indexطمھرگے

افطار میں بلوچستان کی روایتی ڈش سجی

صدیوں سے بلوچستان کے روایتی کھانوں میں سجی کی مقبولیت آج بھی زیادہ ہے ۔ بلوچ ثقافتی روایتی کھانوں میں اگر سجی کا ذائقہ نہ چکھا جائے تو یہ سمجھ لیجئے کہ آپ نے کچھ کھایا ہی نہیں۔ سجی کی تیاری میں بکرے کی ران اور دستی کو دہکتے کوئلوں کی آگ سے اسے اپنے منفرد اندا زمیں تیار کیا جاتاہے ۔

239882_38721118

سجی واحد ڈش ہے جو بغیر گھی کے پکائی جاتی ہے ۔ تمام روایتی ڈشوں میں سجی کو خاص اہمیت حاصل ہے ۔ بلوچستان اپنے لذیذ اور خوش ذائقہ کھانوں اور مہمان نوازی کی وجہ سے ملک بھر میں مشہور ہے ۔

indexطگے

l_118620_032830_updates

index

سجی کو نہ صرف بلوچستان بلکہ ملک سمیت خلیجی ممالک میں بھی بے حد پسند کیا جاتا ہے ۔ صدیوں پہلے سجی صرف پہاڑی علاقوں میں کھائی جاتی تھی مگر اب شہری علاقوں میں بھی اس ڈش کی مانگ بڑھتی جارہی ہے بلوچستان کے ان روایتی کھانوں کی ترکیب نسل درنسل چلی آرہی ہے ۔ آج بھی سجی کی لذت نہ صرف برقرار ہے بلکہ اسے آج بھی قدیم طریقوں سے تیار کیا جاتا ہے ۔
افطار کےموقع پر روزہ داروں کےلیے دسترخوان مختلف انواع واقسام کےکھانوں سے سج جاتے ہیں،مگر کوئٹہ میں اگردسترخوان پرروایتی بلوچی ڈش سجی میسر ہوتو کیا کہنے۔

بلوچستان کی مشہور ہر دلعزیز ڈش سجی پوری مرغی کےعلاوہ بکرے کی ران پر مشتمل ہوتی ہے جسے نمک اور خاص مصالحہ لگاکر روایتی طریقے سےکوئلے کی آنچ پر تیارکیاجاتاہے۔
ویسے تو اس ڈش کا دور سارا سال ہی چلتا ہے، مگر رمضان میں اس کی ڈیمانڈ زیادہ ہوجاتی ہےاور شہر کےمختلف علاقوں میں سجی تیار کرنےوالےہوٹلوں اور ریستورانوں کی رونق میں بھی اضافہ ہوجاتاہے۔
کچھ روزہ دار سجی افطار میں کھانے کے لیے اپنے گھروں کو لےجاتے ہیں تو کچھ دوستوں یاروں کےساتھ اس کے کھانے کا ہوٹلوں میں ہی اہتمام کرتے اور اس سے تندوری نان اور روٹی کےساتھ لطف اندوز ہوتے ہیں۔

سجی نہ صرف ایک بہترین روایتی ڈش ہے بلکہ یہ بلوچستان کی پہچان بھی بن چکی ہے،جو بھی اسے کھاتا ہے اسے بار بار کھانے کی خواہش ہوتی ہے۔

Advertisements