دہشت گرد کراچی میں سکیورٹی فورسز اور غیر ملکیوں کو نشانہ بناسکتے ہیں ؟


news-1460049474-6687_large

دہشت گرد کراچی میں سکیورٹی فورسز اور غیر ملکیوں کو نشانہ بناسکتے ہیں ؟

حساس اداروں نے کراچی میں رمضان کے دوران دہشت گردی کے واقعات کا خدشہ ظاہر کر دیا ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق حساس اداروں کی جانب سے کراچی میں سیکیورٹی الرٹ جاری کردیا گیاجس میں کہا گیا ہے کہ شہر میں سیکیورٹی فورسز اور غیر ملکیوں پر حملوں کا خطرہ ہے۔حساس ادارے کی جانب سے جاری کردہ مراسلے کے مطابق کالعدم القاعدہ برصغیر 7 رمضان کے بعد کراچی میں حملے کرسکتی ہی۔ دہشتگرد شاہ فیصل کالونی میں رینجرز چیک پوسٹوں کو بھی نشانہ بناسکتے ہیں جبکہ پولیس اہلکاروں کو بھی نشانہ بنایا جاسکتا ہے ۔

ذرائع کے مطابق دہشتگردوں کے نشانے پر مسجدیں بھی ہیں اور نیشنل آئل ریفائنری کورنگی میں غیر ملکیوں پر بھی حملے ہوسکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق دہشت گر کورنگی ،ویٹا چورنگی ،سنگر چورنگی ،بسمہ اللہ اسٹاپ اور صدر کی مختلف مسجدوں میں افطار کے وقت خود کش حملے کر سکتے ہیں۔ ٹریفک پولیس اہلکاروں پر صدر اور گولیمار میں بھی حملہ کیا جاسکتا ہے۔
دہشتگرد ،دہشتگردی کر کے ملک میں امن و امان کی صورتحال پیدا کر کے ملک کو عدم استحکام میں مبتلا کرنا چاہتے ہیں۔
القائدہ و طالبان دہشتگرد ایک مشترکہ خصوصیت کے حامل ہیں اور وہ انارکسٹ فلسفہ کے پیروکار ہیں اور انکے پیچھے کارفرما ذہن ایک مخصوص طرز فکر رکھنے والا ذہن ہے۔ان میں سے بعض شعوری طور پر دین اسلام اور پاکستان کو نابود کرنا چاہتے ہیں۔یہ گروہ اپنی منفرد مذھبی روایات اور مخصوص انتہا پسندانہ طرز زندگی کو اسلام کے نام پر پاکستانی معاشرے پر مسلط کرنا چاہتا ہے اور ان میں موجود اسلام کے شعوری دشمن ، غیر انسانی اور غیر قرآنی مذھبی روایات اور قبائلی ثقافت کو اسلام کی اقدار و ثقافت قرار دے کر دین اسلام کی روز افزوں مقبولیت کو کم کرنے کے درپے ہیں۔ دونوں تکفیری اور اسلام دشمن ہیں۔
القائدہ اور طالبان جہاد نہ کر رہے ہیں ۔ ان کا نام نہاد جہاد اسلامی جہاد کے تقاضون کے منافی ہے۔
القائدہ اور طالبان  کےدہشتگرد انسانیت کے سب سے بڑےد شمن ہیں ۔القائدہ اورطالبان دہشتگرد کسی اعلیٰ نظریئے کے حصول لئےنہ لڑ رہے ہیں بلکہ یہ اپنے اقتدار کےل ئے لڑ رہے ہیں۔ یہ گمراہ لوگ ہیں اور اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔مسجدوں پر افطار کے وقت ، رمضان کے مقدس مہینہ میں خودکش حملے کرنا ، کو ئی غیر مسلم ہی سوچ اور کر سکتا ہے۔
دہشتگرد، پاکستان ،پاکستانی عوام اور اسلام کےد شمن ہیں اور ہمیں ان سے ہر دم چوکنا و ہوشیار رہنا ہو گا اور ان کو دوبارہ اپنے گل کھلانے کا موقع بہم نہ پہنانا ہو گا کیونکہ یہ پاکستان اور اسلام دشمنی ظاہر کرنے کا کو ئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیتے ہیں۔

Advertisements