طالبان نے فضل احمد کی آنکھیں نکال کر زندہ کھال اتاردی


news-1464778330-4949_large

طالبان نے فضل احمد کی آنکھیں نکال کر زندہ کھال اتاردی

شام میں برسرپیکار شدت پسند تنظیم کی طرف سے لوگوں کو موت کے گھاٹ اتارنے کے اذیت ناک طریقوں کے متعلق خبریں تو آپ پڑھتے رہتے ہیں۔ اب افغانستان میں طالبان نے بھی انہی کے نقش قدم پر چلنا شروع کر دیا ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ دنوں افغانستان کے صوبہ غور میں طالبان نے پہلے فضل احمد نامی ایک مزدور کی آنکھیں نکالیں، پھر اس کی چمڑی اتارڈالی اور پھر اس کو انتہائی بلند چٹان سے نیچے پھینک کر موت کے گھاٹ اتار دیا۔

indexvderdc

رپورٹ کے مطابق فضل احمد کے ایک دور کے رشتہ دار نے گزشتہ سال دسمبر میں ایک طالبان کمانڈر کو ہلاک کیا تھا۔ طالبان کے ہاتھ اصل ملزم نہ آیا تو انہوں نے فضل ہی کو اس کے گھر سے اٹھا لیا اور لیجا کر انتہائی سفاکی سے قتل کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق افغان پارلیمنٹ کے رکن رقیہ نائیل کا کہنا تھا کہ ”جب طالبان نے فضل کی زندہ کھال اتاری تو کھال اتارنے کے بعد بھی وہ درد کی شدت سے چیخ و پکار کر رہا تھا۔ طالبان نے اس کے سینے کی کھال اتارنے کے بعد سینہ چیر دیا تھا جس سے اس کا دل نظر آنے لگا تھا۔ رپورٹ کے مطابق طالبان نے اس واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے اور کہا ہے کہ ان کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔
http://dailypakistan.com.pk/international/13-Jun-2016/396983
طالبان  وحشی اور درندے ہیں ، یوں تو اسلامی نظام نافذ کرنے کا دعوی کرتے ہیں مگر ان کے یہ تمام دعوہ جات جھوٹ و فریب اور ناقابل اعتبار ہیں کیوں کہ وہ خداتعالی کی مخلوق پر ظلم روا رکھے ہوئے ہیں۔انصاف کے تقاضوں کو پورا نہ کرنا یا اسلامی انصاف کی دہجیاں اڑا ناغیر اسلامی و غیر انسانی فعل ہے۔ایسے لوگ صرف نام ہی کے مسلمان ہیں اور یہ لوگ انسانیت کے سب سے بڑےد شمن ہیں۔
قرآن مجید میں فرمایا ہے
وَمَنْ لَّمْ یَحْکُمْ بِمَآ اَنْزَلَ اللّٰہُ فَاُولٰءِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ۔ (المائدہ۔ ۵: ۴۷)
اور جو اللہ کے اتارے ہوئے قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں تو وہی لوگ نافرمان ہیں۔
مسلمانوں کو اذیت میں مبتلا کرنا اور انہیں جبر و تشدد اور وحشت و بربریت کا شکار کرنا سخت منع ہے۔ اﷲ نے ایسے لوگوں کو جہنم اور آگ کی درد ناک سزا دینے کا اعلان فرمایا ہے۔ ارشاد باری تعالی ہے:
ِانَّ الَّذِيْنَ فَتَنُوا الْمُؤْمِنِيْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَتُوْبُوْا فَلَهُمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ وَلَهُمْ عَذَابُ الْحَرِيْقِo
’’بے شک جن لوگوں نے مومن مردوں اور مومن عورتوں کو اذیت دی پھر توبہ (بھی) نہ کی تو ان کے لیے عذابِ جہنم ہے اور ان کے لیے (بالخصوص) آگ میں جلنے کا عذاب ہےo‘‘
(3) البروج، 85: 10
حضرت ہشام بن حکیم بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اﷲ ایسے لوگوں کو دردناک عذاب دے گا جو اس کی مخلوق کو اذیت دیتے ہیں۔ ارشاد نبوی ہے:
إِنَّ اﷲَ يُعَذِّبُ الَّذِينَ يُعَذِّبُونَ النَّاسَ فِي الدُّنْيَا.
’’اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو عذاب دے گا جو دنیا میں لوگوں کو اذیت و تکلیف دیتے ہیں۔‘‘
مسلم، الصحيح، کتاب البر والصلة والآداب، باب الوعيد الشديد لمن عذب الناس بغير حق ،4: 2018 ، رقم: 2613
جملہ اَئمہ تفسیر نے اس آیت کے تحت یہی موقف اختیار کیا ہے کہ مسلمانوں کو ظلم وجبر اور فتنہ و فساد کا نشانہ بنانے والوں کی سزا جہنم اور آگ ہے۔ امام فخر الدین رازی مذکورہ آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں:
کل من فعل ذلک وهذا أولی لأن اللفظ عام والحکم عام، فالتخصيص ترک للظاهر من غير دليل.
’’جو بھی مسلمانوں کو اذیت ناک تکلیف میں مبتلا کرے (خواہ ایسا کرنے والا خود اصلاً مسلمان ہو یا غیر مسلم، اس کے لیے عذاب جہنم ہے) یہ معنی زیادہ مناسب ہے کیونکہ لفظ عام ہے اور اس کا حکم بھی عام ہے اور اگر خاص کیا جائے تو یہ بغیر دلیل کے عام حکم کو خاص کرنا ہو گا۔‘‘
(2) رازی، التفسير الکبير، 31: 111
اس لحاظ سے حکم الآیت کا اِطلاق زمانہ قدیم کے اَصْحَابُ الْاُخْدُوْد(1) وغیرہ کی طرح کلمہ گو دہشت گردوں پر بھی یکساں ہوگا۔
مسلمانوں کو قتل کرنے والے کی نفلی اور فرض عبادت بھی قبول نہیں ہوگی۔ حضرت عبد اﷲ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
مَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا فَاعْتَبَطَ بِقَتْلِهِ لَمْ يَقْبَلِ اﷲُ مِنْهُ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا.
’’جس شخص نے کسی مومن کو ظلم سے (ناحق) قتل کیا تو اﷲ تعالیٰ اس کی کوئی نفلی اور فرض عبادت قبول نہیں فرمائے گا۔‘‘
1. أبو داود، السنن، کتاب الفتن والملاحم، باب تعظيم قتل المؤمن، 4: 103، رقم: 4270
2. طبراني، مسند الشاميين، 2: 266، رقم: 1311
3. منذري، الترغيب والترهيب، 3: 203، رقم: 3691
4. عسقلاني، الدراية، 2: 259
5. شوکاني، نيل الأوطار، 7: 197
عبادت و ریاضت اور قتل و غارت گری کو ساتھ ساتھ چلانے والے اور انسانی حرمت و تقدس کو پامال کرکے اپنے اعمال و عبادات کو ذریعہ نجات سمجھنے والے ایسے انتہا پسندوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ نہ صرف ان کی عبادت ردّ کر دی جائے گی بلکہ ان کے لئے فَلَھُمْ عَذَابُ جَھَنَّمَ وَلَھُمْ عَذَابُ الْحَرِیْق
(2) البروج، 85: 10
(تو ان کے لیے عذابِ جہنم ہے اور ان کے لیے (بالخصوص) آگ میں جلنے کا عذاب ہے) کی دردناک وعید بھی ہے۔

imagesbhytgb

imagescgy
اسلام نے ایک ایک انسانی جان کو بڑی اہمیت دی ہے۔ اس کے نزدیک کسی ایک شخص کا بھی ناحق قتل گویا کہ پوری انسانیت کا قتل ہے۔ اسلام نے انسانی جان کی حفاظت کی پوری کوشش کی ہے۔
اِسلام میں ایک مومن کی جان کی حرمت کا اندازہ یہاں سے لگالیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک مومن کے قتل کو پوری دنیا کے تباہ ہونے سے بڑا گناہ قرار دیا ہے۔
’’حضرت عبد اللہ بن عمرو رضی اﷲ عنھما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے نزدیک ایک مسلمان شخص کے قتل سے پوری دنیا کا ناپید (اور تباہ) ہو جانا ہلکا (واقعہ) ہے۔‘‘
1. ترمذي، السنن، کتاب الديات، باب ما جاء في تشديد قتل المؤمن، 4: 16، رقم: 1395
2. نسائي، السنن، کتاب تحريم الدم، باب تعظيم الدم، 7: 82، رقم: 3987
3. ابن ماجه، السنن، کتاب الديات، باب التغليظ في قتل مسلم ظلما، 2: 874، رقم: 2619
’’جس نے کسی ایسی جان کا قتل حلال جانا جس کا ناحق قتل کرنا اللہ تعالیٰ نے حرام کر رکھا ہے، تو گویا اس نے تمام لوگوں کے قتل کو حلال جانا، کیونکہ ایسی جان جس کا قتل حرام ہے، وہ شخص اس کے قتل کو حلال سمجھ کر کفر کا مرتکب ہوا ہے، وہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے تمام لوگوں کے قتل کو حلال جانا، کیونکہ جو شخص کتاب اللہ کی ایک آیت کا انکار کرتا ہے وہ پوری کتاب کا انکار کرنے والا ہے۔ … یہ آیت ایک اور توجیہ کی بھی حامل ہے اور وہ یہ کہ کہا گیا ہے کہ کسی جان کے قتل کو حلال جاننے والے پر تمام لوگوں کے قتل کا گناہ لازم آئے گا (کیونکہ عالم انسانیت کے ایک فرد کو قتل کرکے گویا اس نے پوری انسانیت پر حملہ کیا ہے)۔ ایک توجیہ یہ بھی ہے کہ تمام لوگوں پر لازم ہے کہ اجتماعی کوشش کے ساتھ اس جان کو قتل سے بچائیں اور اس کی مدد کریں۔ پس جب وہ اس کو قتل کر کے فساد بپا کرنے کی کوشش کرے گا تو گویا وہ پوری انسانیت پر فساد بپا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ … اور یہ چیز دلالت کرتی ہے کہ یہ آیت اس حکم کے ساتھ تمام اہل کفر اور اہل اسلام کے لئے نازل ہوئی ہے جبکہ وہ فساد فی الارض کے لئے سرگرداں ہو۔‘‘
1. أبومنصور الماتُريدی، تأويلات أهل السنة، 3: 501
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسلمانوں کا خون بہانے، اُنہیں قتل کرنے اور فتنہ و فساد برپا کرنے کو نہ صرف کفر قرار دیا ہے بلکہ اِسلام سے واپس کفر کی طرف پلٹ جانا قرار دیا ہے۔ اسے اصطلاحِ شرع میں ارتداد کہتے ہیں۔
’’بے شک تمہارے خون اور تمہارے مال اور تمہاری عزتیں تم پر اِسی طرح حرام ہیں جیسے تمہارے اِس دن کی حرمت تمہارے اِس مہینے میں اور تمہارے اِس شہر میں (مقرر کی گئی)ہے اُس دن تک جب تم اپنے رب سے ملو گے۔ سنو! کیا میں نے تم تک (اپنے رب کا) پیغام پہنچا دیا؟ لوگ عرض گزار ہوئے: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے اللہ! گواہ رہنا۔ اب چاہیے کہ (تم میں سے ہر) موجود شخص اِسے غائب تک پہنچا دے کیونکہ کتنے ہی لوگ ایسے ہیں کہ جن تک بات پہنچائی جائے تو وہ سننے والے سے زیادہ یاد رکھتے ہیں (اور سنو!) میرے بعد ایک دوسرے کو قتل کر کے کافر نہ ہو جانا.‘‘
1. بخاري، الصحيح، کتاب الحج، باب الخطبة أيام مني، 2: 620، رقم: 1654
2. بخاري، کتاب العلم، باب قول النبي صلی الله عليه وآله وسلم : رب مبلغ أوعی من سامع، 1: 37، رقم: 67
3. مسلم، الصحيح، کتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات، باب تغليظ تحريم الدماء والأعراض والأموال، 3: 1305، 1306، رقم:
اس متفق علیہ حدیث مبارکہ میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صراحتاً یہ فیصلہ صادر فرما دیا کہ جو لوگ آپس میں خون خرابہ کریں گے، فتنہ و فساد اور دہشت گردی کی وجہ سے ایک دوسرے پر اسلحہ اٹھا ئیں گے اور مسلمانوں کا خون بہائیں گے وہ مسلمان نہیں بلکہ کفر کے مرتکب ہیں۔ لہٰذا انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کے جبر و تشدد کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فَـلَا تَرْجِعُوْا بَعْدِي کُفَّارًا فرما کر کفر قرار دے دیا۔
حضرت ابو سعید خدری اور حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہما سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مومن کے قاتل کی سزا جہنم بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
لَوْ أَنَّ أَهْلَ السَّمَائِ وَأَهْلَ الْأَرْضِ اشْتَرَکُوْا فِي دَمِ مُؤْمِنٍ لَأَکَبَّهُمُ اﷲُ فِي النَّارِ.
’’اگر تمام آسمانوں و زمین والے کسی ایک مومن کے قتل میں شریک ہو جائیں تب بھی یقینا اللہ تعالیٰ ان سب کو جہنم میں جھونک دے گا۔‘‘
1. ترمذي، السنن، کتاب الديات، باب الحکم في الدماء، 4: 17، رقم: 1398
2. ربيع، المسند، 1: 292، رقم: 757
3. ديلمي، مسند الفردوس، 3: 361، رقم: 5089
قتل و غارت گری، خون خرابہ، فتنہ و فساد اور نا حق خون بہانا اِتنا بڑا جرم ہے کہ قیامت کے دن اللہ گ ایسے مجرموں کو سب سے پہلے بے نقاب کرکے کیفرِ کردار تک پہنچائے گا۔
1۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خونریزی کی شدت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
أَوَّلُ مَا يُقْضَی بَيْنَ النَّاسِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فِي الدِّمَاء.
’’قیامت کے دن لوگوں کے درمیان سب سے پہلے خون ریزی کا فیصلہ سنایا جائے گا۔‘‘
1. بخاري، الصحيح، کتاب الديات، باب ومن يقتل مؤمنا متعمدا، 6: 2517، رقم: 6471
2. مسلم، الصحيح، کتاب القسامة والمحاربين والقصاص والديات، باب المجازاة بالدماء في الآخرة وأنها أول ما يقضي فيه بين الناس يوم القيامة، 3: 1304، رقم: 1678
3. نسائي، السنن، کتاب تحريم الدم، باب تعظيم الدم، 7: 83، رقم: 3994
4. أحمد بن حنبل، المسند، 1: 442
جب ایک مرتبہ پُرامن شہریوں اور سول آبادیوں کو ظلم و ستم، جبرو تشدد اور وحشت و بربریت کا نشانا بنایا جائے اور معاشرے کی دیگر مذہبی و سیاسی شخصیات کی محض فکری و نظریاتی اختلاف کی بنا پر target killing کی جائے تو اس دہشت گردی کا منظقی نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ سماج افراتفری، نفسا نفسی ، بد امنی اور لڑائی جھگڑے کی آماج گاہ بن جاتا ہے۔ انہی گھمبیر اور خطرناک حالات کی طرف امام ابو داؤد سے مروی درج ذیل حدیث مبارکہ اشارہ کرتی ہے:
عَنْ عَبْد اﷲِ بْنِ عُمَرَ رضی اﷲ عنهما قَالَ: کُنَّا قُعُودًا عِنْدَ رَسُولِ اﷲِ صلی الله عليه وآله وسلم فَذَکَرَ الْفِتَنَ، فَأَکْثَرَ فِي ذِکْرِهَا حَتَّی ذَکَرَ فِتْنَةَ الْأَحْلَاسِ. فَقَالَ قَائِلٌ: يَا رَسُولَ اﷲِ! وَمَا فِتْنَةُ الْأَحْلَاسِ؟ قَالَ: هِيَ هَرَبٌ وَحَرْبٌ.
’’حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فتنوں کا ذکر فرمایا۔ پس کثرت سے ان کا ذکر کرتے ہوئے فتنہ احلاس کا ذکر فرمایا۔کسی نے سوال کیا کہ یا رسول اﷲ! فتنہ احلاس کیا ہے؟ آپنے فرمایا کہ وہ افراتفری، فساد انگیزی اور قتل و غارت گری ہے۔‘‘
1. أبوداود، السنن،کتاب الفتن والملاحم، باب ذکر الفتن، 4: 94، رقم: 4242
مسلمانوں کو (بم دھماکوں یا دیگر طریقوں سے) جلانےوالے جہنمی ہیں۔

Advertisements