افغان طالبان شریعت کے اندر مذکرات کیلئے تیار


160412081603_afghanistan_taliban_640x360_afp_nocredit

افغان طالبان شریعت کے اندر مذکرات کیلئے تیار

طالبان کے نائب امیر سراج الدین حقانی کا کہنا ہے کہ شریعت میں رہتے ہوئے مذاکرات کے لئے تیار ہیں۔افغان میڈیا کے مطابق اپنے آڈیو پیغام میں سراج الدین حقانی کا کہنا تھا کہ اگر شریعت میں رہتے ہوئے مذاکرات کئے جائیں تو طالبان مذاکرات کے لئے تیار ہیں، طالبان نے مذاکرات کے لیے وفد بھی بنا رکھا ہے، اگر ہم مذکرات کے حامی نہ ہوتے تو یہ وفد ہی تشکیل کیوں دیتے۔

CjScJ-EW0AA-8vn
حقانی نیٹ ورک کے سربراہ کا اپنے آڈیو پیغام میں مزید کہنا تھا کہ بین الاقوامی کمیونٹی نے افغان عوام پر ایک کٹھ پتلی انتظامیہ مسلط کر رکھی ہے اور وہ ہم سے بھی اس انتظامیہ کا حصہ بننے کا کہہ رہے ہیں لیکن ہم اس حصہ نہیں بن سکتے کیونکہ کابل حکومت کے پاس بالکل بھی اختیارات نہیں ہیں اور وہ کسی بھی فیصلے پر عمل درآمد نہیں کرا سکتے۔

386511-huqqaninetwork-1440588688-404-640x480
امریکا کی جانب سے افغانستان میں ڈرون حملے بڑھانے کی پالیسی کے حوالے سے سراج الدین حقانی کا کہنا تھا کہ واشنگٹن کی یہ پالیسی بھی اسی طرح ناکام ہو گی جس طرح گزشتہ 14 برس سے ان کی پالیسیاں ناکام ہو رہی ہیں، ڈرون حملوں کی پالیسی سے افغان مجاہدین کا مورال کم نہیں ہوگا بلکہ اس سے ہماری تنظیم اور ارادے مزید مستحکم ہوں گے۔ انھوں نے کہا کہ حقانی نیٹ ورک کوئی علیحدہ تنظیم نہیں بلکہ طالبان کا ہی حصہ ہے، یہ ہمارے دشمن ہیں جو حقانی نیٹ ورک کو بدنام کرنے کے لئے طالبان سے علیحدہ گروپ بتاتے ہیں۔
http://www.express.pk/story/533731/
طالبان کو بالاآخر مذاکرات میں واپس آنا ہی ہو گا کیونکہ اٖفغانستان کا مسئلہ آخرکار مذاکرات کی میز پر ہی حل ہو گا اور سیاسی تصفیے کے لیے امن مذاکرات ہی مسائل کا واحد حل ہےکیونکہ طالبان اس پوزیشن میں نہ ہیں کہ وہ افغان حکومت کو زبردستی کابل سے نکال باہر کریں۔
طالبان کے تمام دھڑوں کو مذاکرات کی میز پر لاکر اکٹھا بٹھانا جوئے شیر لانے سے کم مشکل نہیں ہے۔ امیدیں بندھتی ہیں اور ٹوٹ جاتی ہیں۔ طالبان کے بعض دھڑے امن مذاکرات میں شرکت سے مسلسل گریزاں ہیں۔ بار بار کی کوششوں کے باوجود ان سب کو ایک میز پر جمع کرنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔
طالبان کی جانب سے مبہم اشارے آرہے ہیں۔ طالبان مشروط مذاکرات کی حق میں ہیں مگر چار فریقی رابطہ کمیٹی کے اجلاسوں اور پراسس کے حوالے سے شکوک و شبھات کا اظہار کر رہے ہیں۔
مبصرین کا خیال ہے کہ طالبان کا مذاکرات سے انکار اور پیشگی شرائط کا اعلان سے طالبان مذاکرات میں اپنی پوزیشن مضبوط مزید بنانا چاہتے ہیں۔
سراج الدین حقانی کو علم ہونا چاہئیے کہ اسلامی نقطہ نظر تفصیل کے ساتھ قران حکیم میں بتا دیا ہے۔ قران حکیم کی سورۂ انفال میں ہدایت کی گئی ہے ’’اگر دشمن صلح و سلامتی کی طرف مائل ہو تو تم بھی اس کے لئے آمادہ ہوجاؤ، اور اللہ پر بھروسہ رکھو، بے شک اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔ اگر وہ دھوکے کی نیت رکھتے ہوں تو تمہارے لئے اللہ ہی کافی ہے‘‘یعنی اللہ کے نزدیک صلح و آشتی اتنی پسندیدہ چیز ہے کہ دشمن سے دھوکے کا اندیشہ ہو تب بھی اللہ کے بھروسے پر صلح کے راستے کو ترجیح دینے کو کہا گیاہے۔

اس سے پتہ چلتا ہے کہ اسلام جو امن و سلامتی کا دین ہے، حتی الامکان خونریزی کو روکنا چاہتا ہے اور کوئی دوسری صورت باقی نہ رہنے کی شکل ہی میں مسلح جنگ کی اجازت دیتا ہے ۔طالبان کو بھی جنگ کی بجائے امن اور مذاکرات کو ترجیح دینی چاہئیے۔ امن سے بہتر اور کوئی چیز نہ ہے۔
افغان طالبان کو سمجھنا ہوگا کہ ان کی پیشگی شرائط مذاکرات کے نتیجے میں تو پوری ہو سکتی ہیں، ان سے پہلے نہیں۔ جن امور پر دوران مذاکرات غور و خوض ہونا چاہیے انہیں مذاکرات سے قبل اٹھا کر طالبان نے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا ہے سوال یہ ہے کہ اگر مذاکرات سے قبل ان تمام شرائط کو تسلیم کرلیا جائے تو پھر مذاکرات کی ضرورت ہی کیا رہ جاتی ہے اس کے بعد مذاکرات بے معنی ہو کر رہ جائیں گے مذاکرات کی ضرورت اس وقت پیش آتی ہے جب تنازعہ موجود ہو اور اسے حل کرنے کیلئے متعلقہ فریق مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر اسے حل کرنے کیلئے ایک دوسرے سے تعاون کریں ۔
طالبان کو بھی زمینی حقائق کا ادراک ہونا چاہئے کیونکہ لمبی خانہ جنگی اور آئے روز کی بڑہتی ہوئی ہلاکتوں کی وجہ سے افغانستان کے لوگ اپنے اور اپنے بچوں کے مستقبل سے متعلق مایوس ہیں اور وہ جنگ سے بھی تنگ آچکے ہیں اور امن کو موقع دینے کے خواہاں ہیں۔ طالبان کو مذاکرات میں شامل ہو کر ، اورافغانستان کے آئندہ سیاسی عمل میں شامل ہو کر ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئیے۔ ایسے مواقع تاریخ بار بار بہم نہ پہنچاتی ہے۔ یہ موقع کھونے سے طالبان پیچھے رہ جائیں گے۔
حقانی نیٹ ورک طالبان کا حصہ نہ ہیں بلکہ ایک علیحدہ شناخت کے ساتھ ایک گروپ ہے اور سراج حقانی، غیر ملکی آقاوں کی مدد سے، کوئٹہ شوری اور افغان طالبان کا لیڈر بننے کا خواہاں ہے۔
افغانستان میں مسلسل خانہ جنگی، خودکش حملے، تباہی و بربادی اور ہر روز بے شمار معصوم اور بے گناہوں لوگوں، عورتوں اور بچوں کا طالبان کے ہاتھوں ناحق قتل ،طالبان پر جنگ کو ختم کرنے سے متعلق عوامی دباو میں اضافہ کر رہا ہے اور طالبان ایک لمبے عرصہ تک اس دباو کو نظر انداز کرنے کی پوزیشن میں نہ ہیں۔
وقت اور حالات کا تقاضا ہے کہ طالبان کی قیادت افغانستان میں امن کے قیام کی کوششوں کو کامیابی سے ہمکنار کرنے کے لیے اپنے موقف میں غیر معمولی لچک کا مظاہرہ کرے۔ اسی میں افغان عوام کی بہتری اور بھلائی مضمر ہے۔

Advertisements