کابل منی بس میں خودکش دھماکا، 14 افراد ہلاک


66FC862E-05BC-4486-B3A0-310450FDFFBF_w640_s

کابل منی بس میں خودکش دھماکا، 14 افراد ہلاک

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک منی بس میں ہونے والے خودکش دھماکے کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک ہوگئے۔خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے افغان وزارت داخلہ کے ترجمان صدیق صدیقی کے حوالے سے بتایا کہ غیر ملکی کمپنی کے سیکیورٹی گارڈذ کی ایک بس میں خودکش دھماکے کے نتیجے میں 14 افراد ہلاک جبکہ 8 زخمی ہوئے۔انھوں نے مزید بتایا کہ ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی قومیت کی شناخت کی جارہی ہے۔

537280-afghan-1466400809-797-640x480

9BA2A950-A8FB-4E6B-BAC9-AB000114C874_w640_r1_s
تاہم ایک پولیس اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ واقعے میں نیپالی شہریوں کو نشانہ بنایا گیا جو ایک نجی کمپنی میں بطور سیکیورٹی گارڈ ملازمت کر رہے تھے۔انھوں نے مزید بتایا کہ زخمیوں میں افغان شہری بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے واقعے کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا۔واقعے کے بعد پولیس اور ریسکیو اہلکار جائے وقوع پر پہنچ گئے۔
http://www.dawnnews.tv/news/1038923

epa05378629 Armed Afghan security officials inspect the scene of a suicide bomb attack in Kabul, Afghanistan, 20 June 2016. According to reports a mini-bus carrying foreign workers mostly belonging to Sri Lanka and Phillipines were attacked by a suicide bomb attacker killing and injuring several onboard. EPA/JAWAD JALALI

عرب ٹی وی الجزیرہ کے مطابق طالبان نے حملے کی ذمہ داری قبول کرلی۔طالبان کے ایک ترجمان نے الجزیرہ ٹی وی سے بات کرتے ہوئے واقعہ کی ذمہ داری قبول کرلی۔
خیال رہے قبل ازیں طالبان نے اعلان کیاتھاکہ رمضان میں ثواب بڑھ جاتاہے اور اس مبارک مہینہ میں وہ اپنی جہادی کارروائیوں میں تیزی لائیں گے۔
http://dailypakistan.com.pk/international/20-Jun-2016/401088
آج صبح کابل کا علاقہ پل چرخیل خودکش دھماکے سے گونج اٹھا، دھماکا مقامی وقت کے مطابق صبح 5 بجے کیا گیا۔
حکام کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر نیپالی اور فلپائنی تھے جبکہ دھماکے کی مزید تفصیلات معلوم نہیں ہوسکیں ۔دھماکے کے نتیجے میں 14 نیپالی سکیورٹی گارڈ ہلاک جب کہ 8 زخمی ہوگئے۔ 21میں 5نیپالی اور 4 افغان شامل ہیں۔
دہشتگردی اور انتہا پسندی موجودہ صدی کا سب سے بڑا چیلنج ہے اورافغانستان کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے اور دہشت گردی کو پھیلانے اور جاری رکھنے میں طالبان اور دوسرے دہشت گردوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے. خودکش حملے،دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے اور قران و حدیث میں اس کی ممانعت ہے. طالبان قرآن کی زبان میں مسلسل فساد فی الارض کے مرتکب ہو رہے ہیں۔طالبان دہشت گرد امن کےد شمن اور انسانیت کے قاتل ہیںاسلام میں خود کش حملے حرام، قتل شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ اوربدترین جرم ہے.
یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے،اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔ دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی و خلاف شریعہ حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں اور اس طرح اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔ بے گناہ انسانوں کو سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے قتل کرنا بدترین جرم ہے اور ناقابل معافی گناہ ہے. اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے. اسلام امن اور سلامتی کا دین ہے اور دہشتگرد اسلا م اور امن کے دشمن ہیں۔ دہشتگرد تنظیمیں جہالت اور گمراہی کےر استہ پر ہیں۔جہاد کے نام پر بے گناہوں کا خون بہانے والے دہشتگرد ہیں۔یہ دہشتگرد اسلام کو بدنام اور امت مسلمہ کو کمزور کر رہے ہیں۔

Advertisements