حکیم اللہ محسود کے بھائی اور چچا نے ہتھیار ڈال دئیے


131418318_11n-e1466314159418

حکیم اللہ محسود کے بھائی اور چچا نے ہتھیار ڈال دئیے

سابق طالبان سربراہ حکیم اللہ محسود کے بھائی اعجاز محسود اورچچا خیر محمد نے رضاکارانہ طورپر اپنے آپ کو سیکورٹی فورسزکے حوالے کردیا۔میڈیا رپورٹس کے مطابق حکیم اللہ محسود کے بھائی اعجاز محسود اورچچا خیر محمد سمیت چند طالبان کمانڈرزنے ہفتہ کی رات کو کرم ایجنسی میں اپنے اپ کو مقامی سیکورٹی اہلکاروں کے حوالے کردیا۔

imagesھگت

n00295325-b

ذرائع کے مطابق اپنے آپ کو حوالگی کے بعد تمام افرادکو ضلع ہنگوکے علاقہ ٹل میں سیکورٹی فورسز کے ایک قلعہ میں منتقل کردیاگیا،بتایاگیا ہے کہ افغان سرحد کے قریب حکیم اللہ محسود کے بھائی اورچچا نے چند کمانڈروں سمیت شہیدانو ڈنڈ کے علاقے میں اپنے آپ کو سیکورٹی حکام کے حوالے کیا تاہم یہ فوری معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ لوگ افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوئے تھے یا اسی علاقے میں پھررہے تھے اورکہیں چھپے ہوئے تھے۔ سیورٹی ذرائع کا کہناہے کہ کرم ایجنسی میں افغان سرحد کو ہفتے کی شام کو کھولا گیا تھا ۔یہ سرحدی پوائنٹ بھی طورخم پر کشیدہ حالات کی وجہ سے بند کردیاگیا تھا۔
http://search.jang.com.pk/print/123121-todays-print

imagesھگت
طالبان کمانڈروں کا ہتھیار ڈالنا ایک احسن اقدام ہے۔ اس طرح طالبان دہشتگردی چھوڑ کر ، راہ راست پر آکراور پر امن طریقہ سے اپنے حقوق کے حصول کے لئے جمہوری جدوجہد کر سکتے ہیں۔ اچھا ہوا طالبان کو احساس ہوا کہ دہشتگردی، بے گناہوں کا ناحق خون بہانا اور خودکش حملے خلاف اسلام اور حرام ہیں اور ملک کی ترقی اور استحکام کے لئے کام کرنا ہی صحح اور اہم ہے۔اس سے دیگر دہشتگردوں کو بھی تحریک ملے گی اور ان کو بھی احساس ہو گا کہ ملک و قوم کے خلاف لڑنا درست قدم نہ ہے اور یہ کہ وہ وہ بھی ہتھیار ڈال کر قومی سیاسی دہارے میں شامل ہو کر اپنے ملک اور قوم کے حقوق کےلئے بہتر جدوجہد کر سکتے ہیں۔ صبح کا بھولا شام کو گھر واپس آجائے تو اسے بھولا نہ کہنا چاہئیے۔
حکیم اللہ محسود کے ایک بھائی اعجاز اللہ محسوداور چچا خیر محمودمحسود نے رضا کارانہ طور پر کرم ایجنسی حکام کے ساتھ مذاکرات کے بعد خود کو حوالے کیا۔ یہ ایک اچھی خبر ہے اور ان حضرات کی تعریف بھی کرنا چاہیے جنہوں نے بالآخر یہ احساس کرلیا کہ کالعدم تحریک طالبان جو کررہی ہے وہ دین اور ملک کے لئے بہتر نہیں ہے، اللہ کرے یہ احساس دوسرے برسر پیکار اراکین کوبھی ہو جائے کہ آپس میں لڑائی سے دونوں طرف مسلمان ہی مارے جاتے ہیں۔ کالعدم تحریک طالبان اپنے ہی بھائیوں کے خلاف برسر پیکار ہے۔ جید علماء کرام اور دینی جماعتوں نے ایسی سرگرمیوں سے نہ صرف لاتعلقی کا اظہار کیا بلکہ اسے ناجائز اور خلاف شرع بھی قرار دیا ہوا ہے، اس کے باوجود ضد نہ چھوڑنا یوں بھی درست نہیں۔
دہشتگردی اور انتہا پسندی موجودہ صدی کا سب سے بڑا چیلنج ہے اورپاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ دہشت گردی ہے اور دہشت گردی کو پھیلانے اور جاری رکھنے میں طالبان اور دوسرے اندورونی و بیرونی دہشت گردوں کا بہت بڑا ہاتھ ہے، جن کی دہشت گردانہ کاروائیوں کی وجہ سے ملک کے وجود کو خطرات لاحق ہو گئے ہیں. طالبان دہشت گرد امن کےد شمن اور انسانیت کے قاتل ہیںاسلام میں خود کش حملے حرام، قتل شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ اوربدترین جرم ہے.
کسی بھی مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے،اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے۔ دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی و خلاف شریعہ حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں اور اس طرح اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔ بے گناہ انسانوں کو سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے قتل کرنا بدترین جرم ہے اور ناقابل معافی گناہ ہے. اسلام ایک بے گناہ فرد کے قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے ۔.

Advertisements