رمضان میں چکنائی والی چیزیں سے پرہیز کریں


528764-image-1465317053-921-640x480

رمضان میں چکنائی والی چیزیں سے پرہیز کریں

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ رمضان کے مہینے میں خاص طور پر ایسے افراد کوجنہیں دل کی بیماری ہے بہت زیادہ احتیاط برتنے کی ضرورت ہے۔ایسے مریض جنہیں اکثر درد کی شکایت رہتی ہے اور خون کو پتلا رکھنے کی دوا روزانہ باقاعدگی سے لیتے ہیں اُنھیں روزہ نہیں رکھنا چاہیے۔” مگر ایسے مریض جو دوا کھا رہے ہیں اور انھیں کوئی درد وغیرہ نہیں ہے وہ روزہ رکھ سکتے ہیں۔

528764-image-1465317015-405-640x480

جن مریضوں کوشوگر ہے انھیں چاہیے کہ وہ افطار میں دوا کی خوراک بڑھا دیں اور سحر میں کم کردیں۔“
دل کے مریضوں کو سحرمیں خاص طور پر کھانا کم اور پانی زیادہ پینے کی ضرورت ہے کیونکہ جسم میں پانی کی کمی سے خون گاڑھا ہونے کا اور مریض کی حالت بگڑنے کا خدشہ ہے۔” افطار میں ایک دم پیٹ بھر کے نہ کھائیں تھوڑا تھوڑا کھائیں، سونے سے کم ازکم دو تین گھنٹے پہلے تک کھانا کھالیں۔ روزہ ہو یا نہ ہو کھانا ہمیشہ میانہ روی سے کھائیں۔ بہت چکنائی نہیں ہونی چاہیے کھانے میں، زیادہ سبزیاں اور پھل کھائیں، گوشت کم ہو چکن کھاسکتے ہیں۔

Pakwaan-July-11
امراض قلب کے ماہرین عمومی طور پر صحت مند افراد کو تواتر سے روزانہ45 منٹ ورزش کرنے، کھانے میں احتیاط برتنے، بھوک رکھ کرکھانا کھانے اور کھانے کے بعد ورزش والا کام نہ کرنے کے مشورے دیتے ہیں
نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیو ویسکیولر ڈیزیز کے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران زیادہ چکنائی والی چیزیں کھانے سے دل کے مریضوں کی تعداد 10 فیصد تک بڑھ جاتی ہے۔
این آئی سی وی ڈی کے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک کے دوران روزے داروں کو سحری اورافطار کے اوقات میں زیادہ سے زیادہ پانی پینا چاہیے اورزیادہ چکنائی والی چیزوں جیسے سموسے، پکوڑے اورجلیبی کے بجائے پھلوں اور تازہ جوسز کا استعمال کرنا چاہیے۔ طبی ماہرین کے مطابق گزشتہ کئی برسوں میں رمضان میں بے ہنگم کھانوں کی وجہ سے دل کے مریضوں کی تعداد میں 10 فیصد تک اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ڈاکٹرز کا کہنا تھا کہ گرمیوں کے مہینوں میں جب کوئی شخص پورا دن روزے سے ہوتا ہے تو اس کا خون گاڑھا ہوجاتا ہے جو دوران گردش دل کی تکلیف کا باعث بن سکتا ہے اس لیے روزے داروں کو سحری کے اوقات میں زیادہ سے زیادہ پانی کا استعمال کرنا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق رمضان المبارک کے مہینے میں کچھ لوگ اس قدر زیادہ کھاتے ہیں کہ ان کا وزن روزے رکھنے کے باوجود کم ہونے کے بجائے زیادہ ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے انہیں آخر میں اسپتالوں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔

Advertisements