طالبان کے قاتلانہ حملے میں معروف قوال امجد صابری میں جاں بحق


13528805_1209789389045435_8968824517010961261_n

طالبان کے قاتلانہ حملے میں معروف قوال امجد صابری میں جاں بحق

محبت اور امن کی آواز ہمیشہ کے لیے خاموش ہوگئی۔

گزشتہ روز تقریباً 3 بجے کے قریب کراچی کے علاقے لیاقت آباد 10 نمبرمیں قوال امجد فرید صابری کی گاڑی پر نامعلوم موٹرسائیکل سواروں نے فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار امجد صابری موقع پر جاں بحق جب کہ ان کے دیگر تین ساتھی اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے تھے۔ پولیس کے مطابق امجد صابری اپنی گاڑی خود چلا رہے تھے جن کے سینے اور سر میں گولیاں لگیں جو جان لیوا ثابت ہوئیں جب کہ جائے وقوعہ سے 5 خول قبضے میں لے لیے۔

news-1466659753-4775_large
ذرائع کا کہنا ہے کہ امجد صابری نجی ٹی وی کے پروگرام میں شرکت کے لیے اپنی رہائش گاہ سے نکلے تھے کہ لیاقت آباد 10 نمبرمیں گھات لگائے دہشت گردوں نے ٹریفک کے دباؤ کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان کی گاڑی کی رفتارکم ہونے پر انہیں نشانہ بنایا اورفرارہوگئے،

index

فائرنگ کے واقعے کے بعد پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری موقع پر پہنچ گئی اورعلاقے کو گھیرے میں لے کر تحقیقات کا آغاز کردیا۔ آئی جی سندھ نے تحقیقات کے لیے ایس ایس پی سینٹرل مقدس حیدر کی سربراہی میں تحقیقاتی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔
دہشت گردوں کے حملے میں جاں بحق ہونے والے عالمی شہرت یافتہ قوال امجد صابری کی نمازہ جنازہ کی تمام تر تیاریاں مکمل کرلی گئی ہیں اور ان کی میت بھی سرد خانے سے ان کی رہائشگاہ منتقل کردی گئی۔

l_125316_054350_updates
ایکسپریس نیوز کے مطابق معروف قوال امجد صابری کی نماز جنازہ کی تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی اور ان کی میت سرد خانے سے ان کے گھر منتقل کردی گئی ہے، سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر نمازہ جنازہ مسجد کے بجائے ان کی رہائش گاہ کے قریب مرکزی شاہراہ پر بعد نماز ظہر ادا کی جائے گی جب کہ سجادہ نشین بابا گنج شکردیوان احمد مسعود امامت کریں گے جس کے بعد انہیں پاپوش نگر قبرستان میں والد فرید صابری کے پہلو میں سپرد خاک کیا جائے گا۔ امجد صابری نے سوگواران میں 2 بیوائیں اور 5 بچے چھوڑیں جن میں دو بیٹیاں اور تین بیٹے شامل ہیں۔

160622163608_sabri_murder_karachi_976x549_afp_nocredit
وزیراعظم نوازشریف نے کراچی میں معروف قوال امجد صابری کے قتل کا نوٹس لے لیا اور واقعہ میں ملوث قاتلوں کی گرفتاری کا حکم دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے سیکیورٹی اداروں کو واقعہ میں ملوث ملزمان تک پہنچنے کےلیے فوری اقدامات کی ہدایت کی ہے جب کہ شہر میں سیکیورٹی کے انتظامات بہتر بنانے کا بھی حکم دیا ہے۔ صدر مملکت ممنون حسین نے بھی امجد صابری کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے ان کی موت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ صدر ممنون نے امجد صابری کے اہل خانہ سے تعزیت کی ہے جب کہ انہوں نے قاتلوں کو جلد کیفر کردار تک پہنچانے کا حکم دیا ہے۔

ClkCmOcWIAEUo4c.jpg large
وزیراعلی سندھ سید قائم علی شاہ نے امجد صابری کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سازش کے تحت شہر کے حالات خراب کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جب کہ وزیراعلی نے ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل بلال اکبرکو فون کیا اور شہر میں پیٹرولنگ بڑھانے کی ہدایت کی۔ اسی کے ساتھ وزیراعلی سندھ نے ایس ایچ او لیاقت آباد اور ڈی ایس پی کو معطل کرنے کے احکامات جاری کردیئے۔

539440-image-1466610106-581-640x480
وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثارعلی خان نے بھی امجد صابری کے قتل کی مذمت کرتے ہوئے واقعے پر تشویش کا اظہارکیا ہے جب کہ گورنر سندھ ڈاکٹرعشرت العباد نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امجد صابری کا قتل شہر قائد کا امن خراب کرنے کی سازش ہے۔ دوسری جانب وزیرداخلہ سندھ سہیل انور سیال نے فائرنگ کے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ قاتلانہ حملے میں معروف قوال امجد صابری سمیت 3 افراد جاں بحق ہوئے جن کی گرفتاری کے لئے سیکیورٹی ادارے متحرک ہوگئے ہیں۔

13466291_1209789619045412_1960904162163076980_n
امجد صابری 1976 میں پاکستان کے معروف قوال غلام فرید صابری کے گھر پیدا ہوئے۔ فرید صابری اور ان کے بھائی مقبول صابری کی جوڑی کی گائی ہوئی قوالیاں دنیا بھر میں ان کی شہرت کا باعث بنیں اور امجد صابری نے اپنے والد اور چچا کی گائی ہوئی بہت سی قوالیوں کو نئے سازوں کے ساتھ دور حاضر کے مطابق گا کرانھیں مزید مقبول بنانے میں اہم کردارادا کیا۔ ان میں “تاجدار حرم” اور “بھر دو جھولی” خاص طور پر نمایاں ہیں۔ امجد صابری دنیا کے مختلف ممالک میں قوالی پیش کرکے داد سمیٹنے کے علاوہ بھارت کی مختلف فلموں کے لیے بھی قوالیاں گا چکے تھے۔
http://www.express.pk/story/539147/

news-1466661869-4665_large

معروف قوال اور ثنا خوان امجد صابری کے قتل کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے حکیم اللہ محسود گروپ نے قبول کر لی ہے ۔
نجی ٹی وی چینل ’’جیو نیوز ‘‘کے مطابق حکیم اللہ محسود گروپ کے ترجمان قاری سیف اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ امجد صابری کے قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں ۔قاری سیف اللہ محسود نے کہا ہے کی امجد صابری نے مذہبی گستاخی کی تھی اس لئے انہیں قتل کیا گیا ہے۔اس سے قبل امجد صابری کو کئی دھمکیاں بھی موصول ہوئی تھیں ۔
http://dailypakistan.com.pk/karachi/22-Jun-2016/402391

http://qudrat.com.pk/pakistan/23-Jun-2016/104256

امجد صابری معروف قوال غلام فرید صابری کے صاحبزادے اور عصر حاصر میں قوالی کے شعبے میں صف اول کے قوال مانے جاتے تھے۔مقبول صابری نے اپنے بھائی مرحول غلام فرید صابری کے ساتھ مل کر دنیا بھر میں قوالی کو متعارف کرایا اور عارفانہ کلام میں اپنا نمایاں مقام بنایا۔والد اور چچا کے انتقال کے بعد امجد صابری ان کے ورثے کو آگے بڑھارہے تھے اور انہوں نے اپنی محنت سے قوالی کی دنیا میں اپنی علیحدہ پہچان بنالی تھی۔صابری برادان نے جو بھی کلام پڑھا وہ لوگوں کے دلوں میں اتر گیا تاہم ان کے سب سے مشہور و مقبول کلاموں میں بھر دو جھولی میری، تاجدار حرم ہو نگاہ کرم اور میرا کوئی نہیں ہے تیرے سوا شامل ہیں۔ امجد صابری نے متعدد ہندی فلموں کیلئے بھی قوالیاں ریکارڈ کرائیں۔ امجد صابری کی ہلاکت کی خبر آتے ہی مختلف سیاسی رہنماؤں اور فنکاروں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے دکھ اور افسوس کا اظہار کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

اسلام میں دہشت گردی اور قاتلانہ حملوں کی کوئی گنجائش نہ ہے۔دہشتگرد نہ ہی مسلمان ہیں اور نہ ہی انسان ،بلکہ دہشتگرد انسانیت کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔طالبان دہشت گردوں کا نام نہاد جہاد شریعت اسلامی کے تقاضوں کے منافی ہے۔ دہشت گردی کی وجہ سے 80000 کے قریب معصوم اور بے گناہ پاکستانی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور ملک کی اقتصادیات کو زبردست نْقصان پہنچ چکا ہے۔ طالبان خارجی ہیں جو مسلمانوں کے ناحق قتل کو جائز قرار دیتے ہیں اور یہ لوگ امن،انسانیت اور اسلام کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔

اسلام امن،سلامتی،احترام انسانیت کامذہب ہے لیکن چندانتہاپسندعناصرکی وجہ سے پوری دنیا میں اسلام کاامیج خراب ہورہا ہے دہشتگردی، بم دہماکوں اور خودکش حملوں کی اسلامی شریعہ میں اجازت نہ ہے کیونکہ یہ چیزیں تفرقہ پھیلاتی ہیں۔ طالبان دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں۔طالبان ایک رستا ہوا ناسور ہیں اورپاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لئے اس ناسور کا خاتمہ ہونا ضروری ہے۔ دہشت گرد گولی کے زور پر اپنا سیاسی ایجنڈا پاکستان پر مسلط کرنا چاہتے ہیں ۔ نیز دہشت گرد قومی وحدت کیلیے سب سے بڑاخطرہ ہیں۔ انتہا پسند و دہشت گرد پاکستان کا امن تباہ کرنے اور اپنا ملک تباہ کرنے اور اپنے لوگوں کو مارنے پر تلے ہوئے ہیں. مٹھی بھر دہشت گردوں کو ملک میں اب کہیں بھی چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی، دہشت گرد اچھا یا برا نہیں ہوتا، دہشت گرد دہشت گرد ہی ہوتا ہے۔

طالبان ایک باغیوں کا گروہ ہے، جو دن رات مذہب اسلام کی توہین کرتے ہیں اور اسلامی شعار کا مذاق اڑاتے ہیں۔توہیں کے مرتکب افراد ، کو کس نے یہ اختیار دیا ہے کہ وہ دوسرے  لوگوں کو سزا کے طور پرقتل کر دیں؟

دہشت گردوں نے بھی مذہب کے نام پر ہی یہ طوفان برپا کر رکھا ہے،کبھی وہ کسی مسجد کو نشانہ بناتے ہیں، کبھی کسی امام بارگاہ پر حملہ کرتے ہیں۔ ان کی اسلام کی اپنی ہی تشریح ہے جسے وہ بندوق کے زور پر پوری قوم پرمسلط کرنا چاہتے ہیں جو اسلام کی روح کے خلاف ہے۔ اس بات سے قطع نظر کہ اسلام تو برداشت اور صبر و تحمل کا مذہب ہے۔ کسی بھی انسان کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیا گیا ہے۔اسلام کی تعلیمات عام کرنے کے لئے آنحضورﷺ نے تلوار کا استعمال نہیں کیا تھا ، کوئی زبردستی نہیں کی تھی، آپؐ کا ہتھیار تو حسن اخلاق تھا ، جس سے آپﷺ نے لوگوں کو اپنا گرویدہ بنایا اور اسلام کی طرف مائل کیا۔ہم جس نبیﷺ کے امتی ہونے پر فخر کرتے ہیں، انہی کی تعلیمات کو بھلا بیٹھے ہیں، فراموش کر چکے ہیں۔ایک دوسرے کے خیالات سننے کو تیار نہیں ہیں، کسی کو برداشت کرنے کے روادار نہیں ہیں۔
اسلام اور دہشت گردی کے تعلق کی بات کرنا حقیقت کے خلاف ہے۔ اسلام کے معنی اطاعت وفرمانبرداری کے ہیں جو دہشت گردی کے خلاف ہے۔ لغوی ، اصطلاحی اور حقیقی ، کسی بھی اعتبار سے اسلام کا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں۔دہشت گردی ایک ایسا فعل یا عمل ہے جس سے معاشرہ میں دہشت و بد امنی کا راج ہو اور لوگ خوف زدہ ہوں،وہ دہشت گردی کہلاتی ہے۔ دہشت گردی کو قرآن کریم کی زبان میں فساد فی الارض کہتے ہیں۔ دہشت گردی لوگ چھوٹے اور بڑے مقا صد کےلئے کرتے ہیں۔ اسے کوئی فرد واحد بھی انجام دے سکتا ہے اور کوئی گروہ اور تنظیم بھی۔ دہشت گردوں کے خاتمے کے بعد ملک میں امن کا دور دورہ ہوگا اور خوشحالی و ترقی کا ایک نیا دور شروع ہوگا جس کے ثمرات تمام پاکستانیوں کو پہنچیں گے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’ اور زمین پر فساد مت پھیلاؤ ، بے شک اﷲ فساد کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔

Advertisements