امجد صابری کا سفر آخرت


13495078_1428609453835058_8929992455372211388_n

امجد صابری کا سفر آخرت

میں قبر اندھیری میں گھبراؤں گا جب تنہا،امداد میری کرنے آ جانا رسول اللہ۔۔۔
جیسے کلمات سنا کر دلوں کو گرمانے والے امجد صابری کو آخری آرا م گاہ میں منتقل کردیا گا۔ فن قوالی کا ایک اور باب بند ہو گیا، پیار ،محبت اور امن کا پیا مبر سفرآخرت پر روانہ ہوگیا، کراچی میں معروف قوال امجد صابری کو پاپوش نگر کے قبرستان میں والد کے پہلو میں سپرد خاک کر دیا گیا ۔ تدفین کے موقع پر لوگوں کا جم غفیرقبرستان آیااور مرحوم کا آخری دیدار کیا ۔ جنازہ میں انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر موجود تھا اور ہر آنکھ ہی اشکبار نظر آئی جبکہ بہت ہی رقت آمیز مناظر بھی دیکھنے کو ملے ۔ شہر کراچی کے بڑے جنازے میں ہزاروں سوگواروں نے شرکت کی ،جنازے میں امجد صابری کےچاہنے والوں کا سمندر امڈ آیا،تدفین کے موقع پرہر آنکھ  اشک بار تھی، ہر دل غم سے نڈھال اور ہر لب پر دعائے مغفرت تھی۔
ہمارے جنازے فیصلہ کریں گے کہ کون حق پر ہے۔

(امام احمد ابن حنبل )

540423-image-1466696198-845-640x480

13537749_1428609420501728_1732049930660169452_n
گلوکار اور قوال امجد صابری کا جنازہ جمعرات کو یقیناٌ کراچی میں ایک حقیقی عوامی دلچسپی کا مظہر بن کر سامنے آیا جب لوگوں کی ایک بڑی تعداد کراچی کی سڑکوں پر اپنے محبوب اور نوجوان فن کار کے جنازے میں شرکت کے لیے غمگین حالت میں سڑکوں پر آئی۔امجد صابری کا جنازہ تاریخ کے بڑے جنازوں میں شمار کیا جائے گا۔

قوال امجد صابری کی میت گھر سےآخری سفر کے لئے روانہ کردی گئی۔ نماز جنازہ درگاہ بابافرید کے گدی نشین کی امامت میں لیاقت آباد روڈ پر ارم بیکری کے سامنے ادا کر دی گئی ہےجبکہ تدفین پاپوش نگر قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات پرویز رشید کہتے ہیں امجد صابری نے امن و محبت کا پیغام پھیلایا، و ہ دنیا میں امن کے سفیر تھے۔ شرپھیلانے والوں کو حساب دیناہوگا۔

540423-image-1466696191-699-640x480

13495152_1428609437168393_8585375049780185058_n

540423-image-1466696183-675-640x480

کراچی میں گزشتہ روز فائرنگ سے جاں بحق معروف قوال امجد صابری کی تدفین کی تیاریا ں مکمل کرلی گئی ہیں۔امجد صابری کی میت کو غسل رمضان چھیپا نے دیا۔ان کی میت کو سرد خانے سے گھر منتقل کیا گیا جہاں ان کے اہل خانہ نے ان کا آخری دیدار کیا اور پھر انہیں سفر آخرت پر روانہ کردیا۔

news-1466659753-4775_large

13528805_1209789389045435_8968824517010961261_n

540423-image-1466696095-694-640x480

امجد صابری کی نماز جنازہ پاک پتن شریف کے گدی نشین دیوان احمد نے پڑھائی۔ان کی تدفین کے لیےپاپوش نگر قبرستان میں قبر تیار کرلی گئی ہے۔ قبر ان کے پیر حیرت شاہ وارثی کے مزار کے احاطے میں بنائی گئی ہے۔ان کے والد غلام فرید صابری کی قبر بھی اسی احاطے میں ہے۔

l_125337_083949_updates

540423-image-1466696075-227-640x480

540423-image-1466696047-968-640x480

رشتے دار،دوست احباب ،کھلاڑی ، فنکار سب ہی اداس ہیں،امجد صابری کےغم میںہر آنکھ اشکبار،ہر دل بوجھل اورفضائیں اداس ہیں ،لیجنڈ قوال کے بڑے بھائی کا کہنا ہے امجد صابری کی کسی سے دشمنی نہیں تھی نہ ہی اُنہیں کسی نے دھمکی دی تھی تاہم چچا نے دعویٰ کیا کہ امجدصابری کوکچھ عرصےسےدھمکیاں مل رہی تھیں۔

news-1466671736-9556_large

امجد صابری گیارہ بہن بھائیوں میں آٹھویں نمبر پر تھے۔ امجد صابری کے بھائی ثروت صابری کا کہنا تھا کہ جنھوں نے ان کے بھائی کو مارا وہ درندوں سے بھی بدتر ہیں۔

news-1466671736-8699

امجد صابری کی والدہ کا کہنا تھا کہ امجدصابری دوپہر تین بجے انہیں خدا حافظ کہہ کر گھر سے نکلے تھے۔ ان کا بیٹا بہت ملنسار اور خوش اخلاق تھا ۔ان کا کہنا تھا کہ امجد جیسا ہنر کسی اور بیٹے میں نہیں ہے۔

قوالی میں اپنی منفرد پہچان بنانے والے صابری خاندان کے چشم و چراغ، خوبصورت آواز، حمد و ثناء کا ہر وقت لبادہ اوڑھنے اور محبتیں بانٹنے والے امجد صابری کو دہشت گردوں نے ہمیشہ کے لئے خاموش کر دیا۔

صابری خاندان نے کئی نسلوں سے فن گائیکی کی خدمت کرنے اور وقت کے ساتھ ساتھ نئی جہتوں کو متعارف کرایا۔ صابری برادرز کے بعد امجد صابری نے حمد و ثناء کے فروغ اور صوفیانہ کلام کواپنی خاندانی روایت کے مطابق نہ صرف اوڑھنا بچھوڑنا بنایا بلکہ حمدوثناء کا یہ پیغام دیس دیس پہنچایا۔امجد صابری اپنی دلکش آواز اور انداز گائیکی کی بدولت قوالی کی صنف میں برصغیر کے گلوکاروں میں منفرد حیثیت کے حامل تھے۔

کراچی میں دہشت گردی کی کارروائی میں خوبصورت انسان، بہترین گائیک اور حمدو ثناء بیان کرنے والے شخص کو ہمیشہ کے لیے خاموش کرا دیا گیا جس سے پورا ملک سوگوار ہے۔
فنکار تو امن کے سفیر کہلاتے ہیںیہ لوگ تو اخلاقی قد کاٹھ میں معاشرے کی شناخت ہوا کرتے ہیں – فنکار اپنے پرستاروں کو ، اپنے ماحول کو ، اپنے معاشروں کو فرقوں جیسی معمولی تفریقوں میں بانٹ کر نہیں دیکھتے – وہ داد دینے والے سے نہیں پوچھتے کہ اس کا م مذہب یا فرقہ کیا ہے – ان کے لئے داد خوراک سے زیادہ اہم ہوتی ہے جسے وہ ہر ایک سےانتہائی عاجزی اور تشکر سے قبول کرتے ہیں – جب ایسے انسانوں کو معاشرے میں کسی ایک فرقے یا مذہب کے تناظر میں دیکھا جائے ، یا اس سے بھی بڑھ کر ان بنیادوں پر ان کی جان ہی لے لی جائے تو یہ معاشرے کے لئے ایک بہت بڑا لمحہ فکریہ ہے کہ وہ لوگ جو فرقہ وارانہ حدود سے اوپر اٹھ کر اپنے فن کا ابلاغ کرتے ہیں اب وہ بھی فرقہ واریت کے خطرات سے محفوظ نہیں ۔
شقی القلب طالبان نے امجد صابری کو ہم سے چھین لیا لیکن وہ نہ تو ہم سے اس کا فن چھین سکتے ہیں اور نہ ہی ہماری یاداشتوں سے اس کا مسکراتا ہوا چہرہ۔
– فیض نے کہا تھا
جلوہ گاہ وصال کی شمعیں
وہ بجھا بھی چکیں اگر تو کیا
چاند کو گل کریں تو ہم جانیں
امجد صابری کا فن وہ چاند ہے جو ہمیشہ آسمان قوالی پر جگمگاتا رہے گا – ظالموں نے امجد صابری کو تو ہلاک کر دیا لیکن اس کے فن کے چاند کو نہ کبھی گہن لگے گا اور نہ کبھی اس پر اماوس آئے گی ۔

Advertisements