جج کو قتل کرنےکے بعد لاش کو سرعام لٹکا دیا


2071942

جج کو قتل کرنےکے بعد لاش کو سرعام  لٹکا دیا

افغانستان کے صوبے فراح میں مسلح طالبان دہشت گردوں نے حاضر سروس جج کو قتل کرنے کے بعد اس کی لاش کو سرعام بازار میں لٹکا دیا۔  اطلاعات کے مطابق تین روز قبل اغوا ہونے والے سیشن کورٹ کے جج کو مسلح دہشت گردوں نے قتل کرنے کے بعد ان کی لاش عوامی مقام پر لٹکا دی۔ صوبہ فراح کے گورنر کے ترجمان نصیر مہری کا کہنا ہے 23 جون کو سیشن کورٹ کے جج کو اغوا کیا تھا جس کے بعد انہیں خاک و سفید ضلع میں فائرنگ کر کے قتل کیا اور ان کی لاش عوامی مقام پر لٹکا دی۔

4dd0e7423a8242d6919f93fcdf37afcf_18

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ عدالت کی جانب سے 4 افغان دہشت گردوں سمیت 6 افراد کو پھانسی دیئے جانے کے حکم کے بعد طالبان نے دھمکی دی تھی کہ عدالتی حکام کو اس کا جواب دیا جائے گا۔ حالیہ دنوں میں طالبان کی جانب سے ججوں پر حملوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ یہ حملے 6 طالبان جنگجوﺅں کو پھانسی دیئے جانے کے بعد کئے جا رہے ہیں۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُوْنُوْا قَوّٰمِیْنَ بِالْقِسْطِ(النساء:۱۳۵) ترجمہ: اے ایمان والو انصاف پر خوب قائم ہوجاؤ ۔
اس آیت میں تو امت مسلمہ سے خطاب مگر سورۃ حدید میں لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ فرما کر اس فریضہ کو تمام افرادانسانی پر عائد کر دیا ہے کہ عدل و انصاف پر قائم رہنا اور قائم کرنا صرف حکومت اور عدالت کا فریضہ نہیں بلکہ ہر انسان اس کا مکلف و مخاطب ہے۔ البتہ انصاف کا صرف ایک درجہ حکومت اور حکام کے ساتھ مخصوص ہے وہ یہ کہ شریر اور سرکش انسان جب انصاف کے خلاف ڈٹ جائیں نہ خود انصاف پر قائم رہیں اور نہ دوسروں کو عدل و انصاف کرنے دیں تو ایسے لوگوں کے لئے حاکمانہ تعزیر اور سزا کی ضرورت ہے۔
عدل وسیع راستہ ہے جو سب کو ساتھ ملا کر کسی مشکل کے بغیر آسانی کے ساتھ منزل تک پہنچاتا ہے ۔جبکہ اس کے برعکس ظلم و ستم اور نا انصافی کا کٹھن اور دشوار راستہ ناکافی و نا مرادی کا راستہ ہے ۔معاشرے میں عدالت کا قیام اس معاشرے کے افراد کے لیے باعث سلامتی ، راحت و سکون ہے ۔اور جہاں عدالت کا فقدان اور نا انصافی کا دور دورہ ہو گا وہاں زندگی کے تمام معاملات میں انتظامی اور نئے مسائل پیدا ہوتے رہیں گے ۔ جس کے نتیجے میں معاشرہ تنزلی کی طرف سفر کرے گا۔
طالبان کا اسلامی نظام قائم کرنے کا دعوی جھوٹ اور فریب کے سوا کچھ نہ ہے۔
ان ججوں کو طالبان اور مجاہدین مخالف فیصلے دینے پر نشانہ بنایا گیاہے۔ عدالتی ججوں پر حملہ ،طالبان کی بدترین دہشتگردی ہے۔عدالتوں اور ججوں پر حملے کرکے اور ججوں کو قتل کر کے اور جج کی لاش سر عام لٹکا کرطالبان عدلیہ اور لوگوں میں خوف و ہراس پیدا کر رہے ہیں۔ مزید یہ لاش کی بے حرمتی کے زمرے میں آتا ہے۔ یہ تو ایک چوری اور دوسرا سینہ زوری والی بات ہے۔ ججوں نے قانوں کے مطابق دہشتگردوں اور قصوروار لوگوں کو سزا دینا ہوتی ہے۔ دہشتگردوں کو احساس ہونا چاہئیے کہ انکی دہشت گردی سے قیمتی جانیں ضائع ہورہی ہیں، اس طرح کی مذموم حرکات سے دہشت گرد کبھی اپنے مذموم عزائم و مقاصد میں کامیاب نہیں ہونگے۔ اگر لوگ انفرادی اورمعاشرہ اجتماعی زندگی میں عدل و انصاف کو ترک کر دیں۔ تو معاشرے کی بنیادیں ہل جائیں گی۔ ہر طرف انتشار اور بے چینی پھیل جائے گویا عدل معاشرے کو ناگواریوں سے بچاتاہے اور معاشرے سے برائیوں کو ختم کر کے ا نسانوں کو سیدھے راستے پر گامزن کرتا ہے۔

Advertisements