مسجد میں خود کش حملے میں 14 نمازی جاں بحق، 40 زخمی


544247-iraq-1467100676-655-640x480

مسجد میں خود کش حملے میں 14 نمازی جاں بحق، 40 زخمی

عراق کے دارالحکومت بغداد میں خودکش حملہ آور نے مسجد میں داخل ہونے کے بعد خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس کے نتیجے میں 14 نمازی جاں بحق اور 40 زخمی ہوگئے۔

timthumb.php
غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق دارالحکومت بغداد کے مغربی علاقے میں واقع مسجد ابو غریب میں خود کش جیکٹ پہنے حملہ آور نے اس وقت خود کو دھماکے سے اڑالیا جب لوگ نماز تہجد کے لئے صف بندی کر رہے تھے، دھماکے کے نتیجے میں 14 افراد جاں بحق جب کہ 40 زخمی ہوگئے۔

مقامی پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مسجد ابوغریب شورش زدہ صوبے فلوجہ اور بغداد کے درمیان واقعے علاقے میں موجود ہے جہاں بڑی تعداد میں لوگ نماز تہجد کے اہتمام کے لئے آدھی رات کو جمع تھے کہ حملہ آور دھماکا خیز مواد سے بھری خود کش جیکٹ پہنے مسجد میں داخل ہوا اور نمازیوں کے درمیان آکر خود کو اڑا دیا جس کے نتیجے میں 14 افراد موقع پر جاں بحق ہوگئے جب کہ زخمیوں کو قریبی اسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی ہے۔
http://www.express.pk/story/544247/
خودکش حملے،دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے اور قران و حدیث میں خودکشی کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے. اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ دہشتگرد جان لیں کہ وہ اللہ کی مخلوق کا بے دردی سے قتل عام کر کے اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں اور اللہ اور اس کے پیارے رسول صلم کی ناراضگی کا سبب بن رہے ہیں. حدیث رسول اللہ میں ہے کہ انسانی جان کی حرمت خانہ کعبہ کی حرمت سے زیادہ بیان ہے۔۔ بے گناہ اور معصوم لوگوں کے قتل کی اسلام میں ممانعت ہےاور اسلام کسی بھی انسان کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔داعش خوارج قاتلوں ،جنونی ،انسانیت کے قاتل اور ٹھگوں کا گروہ ہے جو اسلام کی کوئی خدمت نہ کر رہاہے بلکہ مسلمانوں اور اسلام کی بدنامی کا باعث ہے اور مسلمان حکومتوں کو عدم استحکام میں مبتلا کر رہا ہے۔ داعش کے مظالم کے سامنے ہلاکو اور چنگیز خان کے مظالم ہیچ ہیں۔داعش خوارج کو رمضان کے مقدس مہینہ میں مسجد کے تقدس کا بھی کوئی خیال نہ ہے۔ مسجد میں خون خرابہ کر کے داعش مسجد کی بے حرمتی کا مرتکب ہوا ہے۔

Advertisements