استنبول ایئرپورٹ پر 3خودکش دھماکے، 42افراد ہلاک، 239 زخمی


l_129077_030824_updates

استنبول ایئرپورٹ پر 3خودکش دھماکے،42 افراد ہلاک، 239 زخمی

ترکی کے شہر استنبول کے اتاترک انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر یکے بعد دیگرے تین خود کش حملوں میں 42افراد جاں بحق اور 239 سے زائد زخمی ہوگئے جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جارہاہے ، دوسری طرف ریسکیو کارروائیاں مکمل کرنے کے بعد ایئرپورٹ کو پروازوں کے لیے کھول دیاگیا جبکہ آخری اطلاعات تک کسی گروپ نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی تاہم ترک میڈیا نے پولیس ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ حملوں میں داعش کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔

index

544954-image-1467147708-165-640x480
غیر ملکی میڈیا کے مطابق تین خود حملہ آور وں نے ایئرپورٹ کے انٹرنیشنل ٹرمینل کی سیکیورٹی چیک پوسٹ پر اندھا دھند فائرنگ کردی جس پر سیکیورٹی اہلکاروں کی جوابی کارروائی میں ایک حملہ آورزخمی ہوگیا، ایک حملہ آور کے زخمی ہونے کے بعد تینوں حملہ آوروں نے یکے بعد دیگرے اپنے آپ کو بارودی مواد سے اڑا لیا اور یوں وہ ایئرپورٹ میں داخل ہونے میں کامیاب نہیں ہوسکے ۔

news-1467144613-5006_large

indexbhu
ترک حکام کے مطابق متاثر ہونیوالے افراد کو ہسپتالوں میں منتقل کردیاگیاجہاں زیادہ ترزخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہےاور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے ، زخمی اور مرنیوالوں میں زیادہ تعداد ترک شہریوں کی ہے ۔
دھماکوں کے باعث ایئرپورٹ پر فضائی آپریشن معطل کرکے تمام مسافروں کو ہوٹلوں میں منتقل کردیاگیا تاہم ریسکیو آپریشن مکمل ہونے کے بعد ٹرمینل کو پروازوں کے لیے کھول دیاگیا۔

5773489ea38db

alalam_635882773716386980_25f_4x3
ترکی میں ہونیوالے ان دھماکوں کی وزیرپاکستان نوازشریف اور امریکی صدر سمیت کئی عالمی رہنماؤں نے مذمت کی ۔
http://dailypakistan.com.pk/international/29-Jun-2016/405559

استنبول کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے کے بعد ترکی میں سوگ منایا جا رہا ہے جبکہ حملےمیں ہلاک ہونے افراد کی تعداد 42 ہو گئی ہے جن میں 13 غیر ملکی بھی شامل ہیں۔

استنبول کے گورنر واسب ساہن کے مطابق اتاترک ایئرپورٹ پر مرنے والوں میں ترکی کے 25 شہری جبکہ 13 غیر ملکی شامل ہیں جن میں سے تین کے پاس دوہری شہریت تھی۔

http://www.bbc.com/urdu/world/2016/06/160628_istanbul_airport_explosions_zz?post_id=134526240282548_195474084187763#_=_

577352eb99579
ترکی کے وزیر اعظم بن علی یلدرم نے کہا ہے کہ استنبول ائر پورٹ پر حملے میں داعش کے ملوث ہونے کے شواہد ملے ہیں۔
میڈیا سے بات کرتے ہوئے ترک وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ حملہ آور ٹیکسی کے ذریعے استنبول اور ترکی پہنچے۔ تینوں دہشت گردوں نے پہلے فائرنگ کی اور پھر خود کو دھماکےسےاڑایا۔

ترک وزیر اعظم بن علی یلدرم نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایئر پورٹ حملے میں مارے جانے والوں میں غیر ملکی بھی ہوسکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حملے ظاہر کرتے ہیں کہ دہشت گردی عالمی خطرہ ہے،حملے ایسے وقت کیے گئے جب ترکی دہشت گردی کے خلاف جنگ رہا ہے۔
http://search.jang.com.pk/latest/129076-evidence-of-daesh-involvement-in-the-attacks-turkish-prime-minister

ترکی کے شہر استنبول کے کمال اتاترک انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر 3 خودکش حملوں اور فائرنگ کے نتیجے میں کم از کم 41افراد ہلاک اور 239زخمی ہو گئے۔فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 13 غیر ملکی شہری بھی شامل ہیں۔

http://www.dawnnews.tv/news/1039473

ترکی کے صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ استنبول ایئر پورٹ پر حملوں کا مقصد معصوم لوگوں کے خون اور تکلیف کے ذریعے ان کے ملک کے خلاف پروپیگنڈا کرنا ہے۔انھوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ دہشت گردی کے خلاف فیصلہ کن موقف اپنائے۔
خودکش حملے،دہشت گردی اور بم دھماکے اسلام میں جائز نہیں یہ اقدام کفر ہے اور قران و حدیث میں خودکشی کی سختی سے ممانعت کی گئی ہے. جہاد وقتال فتنہ ختم کرنے کیلئے ہے ناکہ مسلمانوں میں فتنہ پیدا کرنے کیلئے۔اسلام ایک امن پسند مذہب ہے جو کسی بربریت و بدامنی کی ہرگز اجازت نہیں دیتا۔ دہشتگرد جان لیں کہ وہ اللہ کی مخلوق کا بے دردی سے قتل عام کر کے اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہیں اور اللہ اور اس کے پیارے رسول صلم کی ناراضگی کا سبب بن رہے ہیں. حدیث رسول اللہ میں ہے کہ انسانی جان کی حرمت خانہ کعبہ کی حرمت سے زیادہ بیان ہے۔۔ بے گناہ اور معصوم لوگوں کے قتل کی اسلام میں ممانعت ہےاور اسلام کسی بھی انسان کے ناحق قتل کو پوری انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے۔داعش خوارج قاتلوں ،جنونی ،انسانیت کے قاتل
اور ٹھگوں کا گروہ ہے جو اسلام کی کوئی خدمت نہ کر رہاہے بلکہ مسلمانوں اور اسلام کی بدنامی کا باعث ہے اور مسلمان حکومتوں کو عدم استحکام میں مبتلا کر رہا ہے۔ داعش کے مظالم کے سامنے ہلاکو اور چنگیز خان کے مظالم ہیچ ہیں۔داعش کے پیروکار ایسے نظریے کے ماننے والے ہیں جس کی مسلم تاریخ میں مثال نہیں ملتی، داعش کے ارکان کا تعارف صرف یہی ہے کہ وہ ایسے مجرم ہیں جو مسلمانوں کا خون بہانا چاہتے ہیں۔ سعودی مفتی اعظم کا کہنا تھا کہ اس تنظیم میں شمولیت اختیار کرنیوالے نادان اوربے خبرہیں۔
داعش کو چاہئیے کہ یہ طاقت کے ذریعے اپنے مخصوص خیالات اور نظریات دوسروں پر مسلط کرنے کا راستہ ترک کریں کیونکہ تلوار کے ذریعے غصے اور رحمت وشفقت میں مساوات قائم نہیں کی جا سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے لیے رحمت کو لازم کیا ہے اور داعش تلوار کے ذریعے یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ صرف طاقت کے ذریعے اسلام غالب کیا جاسکتا ہے۔ طاقت کے استعمال کا فلسفہ امن وآشتی کے پیغام دینے والے اسلام کی پہچان ہر گز نہیں ہے۔ داعش کو علم ہو نا چاہئیے کہ اسلامی طریقہ جنگ میں کون کون سی قیود اور شرائط ہیں جن کی پابندی ناگزیر ہے۔ اسلام جنگ میں سفیروں، عورتوں، بچوں، اہل کتاب کے قتل کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ لاشوں کا مثلہ کرنے کو حرام قرار دیتا ہے۔ تکفیری فتووں کی حوصلہ شکنی کرتا ہے۔ انبیاء کرام اور صحابہ جیسی بزرگ ہستیوں کے مزارات کو مسمار کرنے کی ممانعت کرتا ہے۔د اعش کا یہ کونسا سا جہاد اور اسلامی خلافت ہے جس میں ان تمام ممانعتوں کی کھلی اجازت دی گئی ہے۔
داعش کا تکفیری فلسفہ بھی غیر اسلامی ہے۔ اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جس شخص نے کلمہ طیبہ پڑھا ہے وہ صاحب ایمان ہے اور فقہی اعتبار سے اسے کافر نہیں قرار دیاجاسکتا ہے۔ داعش اور اس سے وابستہ لوگوں نے اسلام کی مرضی کی تفسیر کر رکھی ہے۔ مسلمان صرف وہی ہے جسے وہ مسلمان ہونے کا سرٹیفکیٹ جاری کریں اور باقی تمام دائرہ اسلام سے خارج ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا واضح فرمان موجود ہے کہ جس نے ایک مرتبہ لا الھ الا اللہ کہہ دیا اس کی تکفیر جائز نہیں ہے۔

Advertisements